Sunday , May 27 2018
Home / شہر کی خبریں / چار فیصد مسلم تحفظات ، کے چندر شیکھر راؤ کا سونیا گاندھی پر دباؤ کا نتیجہ

چار فیصد مسلم تحفظات ، کے چندر شیکھر راؤ کا سونیا گاندھی پر دباؤ کا نتیجہ

کونسل میں اقلیتی امور پر مباحث ، محمد فاروق حسین ایم ایل سی کا بیان
حیدرآباد ۔ 9 ۔ نومبر : ( سیاست نیوز ) : ٹی آر ایس کے رکن قانون ساز کونسل محمد فاروق حسین نے 4 فیصد مسلم تحفظات کی فراہمی بحیثیت مرکزی وزیر کے سی آر کا سونیا گاندھی پر دباؤ کا نتیجہ قرار دیا ۔ سچر کمیٹی کی تشکیل کے لیے یو پی اے حکومت سے کامیاب نمائندگی کرنے کا دعویٰ کیا ۔ آج کونسل میں اقلیتی امور کے مختصر مباحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ 10 سال تک اقتدار سے محروم رہنے والی کانگریس نے ٹی آر ایس سے اتحاد کرتے ہوئے 2004 کے دوران ریاست اور مرکز میں اقتدار حاصل کیا ۔ اتحاد کرنے سے قبل کے سی آر نے ریاست کے مسلمانوں کو 5 فیصد تحفظات فراہم کرنے کا صدر کانگریس سونیا گاندھی پر دباؤ ڈالا جس کے بعد کانگریس نے 5 فیصد مسلم تحفظات کو اپنے انتخابی منشور میں شامل کیا اور بحیثیت مرکزی وزیر سچر کمیٹی تشکیل دینے میں بھی اہم رول ادا کیا ۔ چیف منسٹر تلنگانہ نے 6 کارپوریشن بشمول غیر اقلیتی کارپوریشن کا مسلمانوں کو صدر نامزد کرتے ہوئے نئی تاریخ رقم کی ہے ۔ ریاست تلنگانہ میں پہلے بجٹ سے ہی اقلیتوں کے لیے 1000 کروڑ کا بجٹ منظور کیا ہر سال اس میں بتدریج اضافہ کیا جارہا ہے ۔ جتنا بجٹ دوسرے اغراض کے لیے مختص کیا جارہا ہے ۔ اتنا ہی بجٹ فلاح و بہبود کے لیے مختص کیا جارہا ہے ۔ اس طرح کے مثبت اقدامات ریاست کو سنہرے تلنگانہ میں تبدیل کرنے کے لیے معاون و مددگار ثابت ہوں گے ۔ ریاست میں ایس سی ، ایس ٹی طلبہ کے طرز پر اقلیتی طلبہ کو اسکالر شپس فراہم کئے جارہے ہیں ۔ ریاست میں 8934 مساجد کے آئمہ موذنین کو 1500 روپئے ماہانہ معاوضہ دیا جارہا ہے ۔ اس طرح سالانہ 16.8 کروڑ روپئے خرچ کئے جارہے ہیں ۔ شادی مبارک اسکیم کی رقم 51 ہزار سے بڑھاکر 75 ہزار روپئے کردی گئی ہے ۔ ابھی تک 69.164 غریب مسلم لڑکیوں میں 364.31 کروڑ روپئے تقسیم کئے گئے ہیں ۔ اقلیتوں کے لیے حکومت نے 204 اقامتی اسکولس قائم کرتے ہوئے سارے ملک کے لیے ایک مثال قائم کی ہے ۔ ان اسکولس پر 8 ہزار روپئے خرچ کئے جائیں گے ۔ اوورسیز اسکالر شپس کی رقم کو 10 لاکھ سے بڑھاکر 20 لاکھ روپئے کردیا گیا ہے ۔ ابھی تک 592 طلبہ میں 53.58 کروڑ روپئے خرچ کئے گئے ہیں ۔ ایس سی ، ایس ٹی طلبہ کے مماثل اقلیتی طلبہ کے لیے فیس باز ادائیگی کو منظوری دی گئی ۔ 2016-17 میں 219.43 کروڑ روپئے کے بقایا جات جاری کئے گئے ۔ اسٹیڈی سرکل قائم کئے گئے ۔ گروپ I اور II کے علاوہ آئی اے ایس ، آئی پی ایس کی تربیت فراہم کرنے کے لیے 100 طلبہ کا انتخاب کرتے ہوئے مشہور کوچنگ سنٹرس میں داخلہ دلوایا گیا ہے ۔ سبسیڈی لون کی رقم کو 50 فیصد سے بڑھاکر 80 فیصد کردیا گیا ہے ۔ وقف بورڈ کو 130 کروڑ روپئے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے ۔ مکہ مسجد کی تزئین نو کے لیے 14 کروڑ روپئے منظور کئے گئے ۔ انیس الغربا ( یتیم خانہ ) کی 4300 مربع گز پر ہمہ منزلہ عمارت کی تعمیر کے لیے 20 کروڑ روپئے منظور کئے گئے ۔ کوکا پیٹ میں 10 ایکڑ اراضی پر 40 کروڑ روپئے کے مصارف سے اسلامک سنٹر قائم کرنے کی منظوری دی گئی ہے ۔ جامعہ نظامیہ آڈیٹوریم کی تعمیر کے لیے 14 کروڑ روپئے منظور کرتے ہوئے جامعہ کی ڈگریوں کو عثمانیہ یونیورسٹی ڈگریوں کے مماثل درجہ دیا گیا ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT