Monday , November 20 2017
Home / شہر کی خبریں / چار فیصد مسلم تحفظات پر بہر صورت عمل آوری

چار فیصد مسلم تحفظات پر بہر صورت عمل آوری

تقررات میں کوئی مسلم امیدوار حق سے محروم نہیں ہوگا:محمد محمود علی
حیدرآباد۔/20اکٹوبر، ( سیاست نیوز) ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی نے کہا کہ حکومت کے تمام تقررات میں 4فیصد مسلم تحفظات پر بہر صورت عمل آوری کی جائے گی اور کوئی بھی مسلم امیدوار اس حق سے محروم نہیں رہے گا۔ تلنگانہ پبلک سرویس کمیشن کے تقررات میں مسلم امیدواروں سے دو علحدہ سرٹیفکیٹس طلب کرنے پر تبصرہ کرتے ہوئے ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ وہ اس سلسلہ میں نہ صرف چیف منسٹر سے نمائندگی کریں گے بلکہ تلنگانہ پبلک سرویس کمیشن کے ذمہ داروں سے بات چیت کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس بات کے قائل ہیں کہ جس طرح دیگر پسماندہ طبقات کیلئے زائد سرٹیفکیٹ پیش کرنے کی ضرورت نہیں اسی طرح بی سی ای زمرہ سے تعلق رکھنے والے مسلم امیدواروں کو بھی مستثنیٰ قرار دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کمیشن نے اپنے طور پر اس طرح کی کوئی شرط عائدکی ہے تو اس میں ترمیم کیلئے چیف منسٹر سے ہدایات جاری کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر نان کریمی لیئر سرٹیفکیٹ کے حصول میں دشواری ہو اور متعلقہ ایم آر اوز کے پاس سرٹیفکیٹ کا نمونہ موجود نہیں تو حکومت اپنے طور پر تمام ایم آر اوز کو سرٹیفکیٹ کا پروفارما فراہم کرنے تیار ہے۔ اس کے علاوہ ضلع کلکٹرس کو ہدایت دی جائے گی کہ مسلم امیدواروں کو بی سی ای اور دیگر ضروری سرٹیفکیٹس کی اجرائی میں کوئی تاخیر نہ ہو۔ محمد محمود علی نے کہا کہ پبلک سرویس کمیشن کے امتحانات اور انٹرویو میں منتخب امیدواروں کو سرٹیفکیٹ کی پیشکشی کیلئے ابھی کافی وقت ہے لہذا انہیں اس مدت کے دوران ضروری سرٹیفکیٹس حاصل کرلینے چاہیئے۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے واضح کیا کہ حکومت مرحلہ وار طور پر جن ایک لاکھ جائیدادوں پر تقررات کا فیصلہ کرچکی ہے چاہے اُن کا تعلق پبلک سرویس کمیشن سے ہو یا کسی ریکروٹمنٹ بورڈ سے، اُن تمام جائیدادوں میں مسلمانوں کو 4 فیصد تحفظات فراہم کئے جائیں گے۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ تحفظات کی فراہمی میں حکومت کی سنجیدگی شبہ سے بالاتر ہے لہذا مسلمانوں کو حکومت پر مکمل اعتماد کرنا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ 12فیصد تحفظات کی فراہمی کے سلسلہ میں ٹی آر ایس نے جو حکمت عملی تیار کی تھی وہ لوک سبھا کے انتخابی نتائج کے باعث قابل عمل نہیں رہی اس کے باوجود چیف منسٹر کے سی آر تمام قانونی رکاوٹوں کو دور کرتے ہوئے 12فیصد تحفظات فراہم کرنا چاہتے ہیں۔ محمود علی نے بتایا کہ ریٹائرڈ آئی اے ایس عہدیدار جی سدھیر کی قیادت میں قائم کردہ کمیشن آف انکوائری مقررہ میعاد میں اپنی رپورٹ حکومت کو پیش کردے گا جس کے بعد بی سی کمیشن قائم کیا جائے گا جو تحفظات کی سفارش کرے گا۔ حکومت چاہتی ہے کہ اسمبلی میں تحفظات کے حق میں متفقہ قرارداد منظور کرتے ہوئے مرکز پر دباؤ بنایا جائے کہ دستور کے نویں شیڈول میں انہیں شامل کیا جائے جس طرح کہ ٹاملناڈو کے معاملہ میں کیا گیا۔

TOPPOPULARRECENT