Tuesday , November 21 2017
Home / Top Stories / چار فیصد مسلم تحفظات پر کانگریس اور مجلس کے درمیان جنگ چھڑ گئی

چار فیصد مسلم تحفظات پر کانگریس اور مجلس کے درمیان جنگ چھڑ گئی

تحفظات کی فراہمی پر دونوں کے دعوے، نظام آباد کے مجلسی قائدین کے بیان پر کانگریس کا مدلل جواب
مجلس کو قرآن مجید کی قسم کے ذریعہ ثابت کرنے کا چیالنج

نظام آباد:18؍ مئی (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز )چار فیصد تحفظات کے مسئلہ پر کانگریس اور مجلس کے درمیان زبردست جنگ چھڑگئی ہے اور یہ دونوں جماعتیں چار فیصد تحفظات ہماری دین کہتے ہوئے دلیلیں پیش کررہے ہیں۔ واضح رہے کہ 15؍ مئی کے روز قانون ساز کونسل کے اپوزیشن لیڈر محمد علی شبیر نے پائور پوائنٹ پرزینٹیشن کے ذریعہ 4فیصد تحفظات کانگریس کے دور میں فراہم کرنے کی دلیل پیش کی تھی جس پر ٹائون مجلس نظام آباد کے قائدین نے اسے غلط قرار دیتے ہوئے سلطان صلاح الدین اویسی کے دور سے ہی تحفظات کیلئے کوششیں شروع کی گئی تھی اور تحفظات مجلس کی دین ہے کی دلیل پیش کی تھی۔ جس پر آج نائب صدر ضلع کانگریس محمد فیاض الدین، صدر ضلع اقلیتی ڈپارٹمنٹ کانگریس سمیر احمد نے آج کانگریس بھون میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے مجلس کی چار فیصد تحفظات کی فراہمی کی دلیل کو گمراہ کن اور غلط قرار دیااور اس مسئلہ پر مجلس سے چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ تحفظات حقیقت میں مجلس کی دین ہے تو مجلسی قائدین قرآن شریف پر ہاتھ رکھ کر قسم کھالیں کہ تحفظات مجلس کی دین ہے۔ قرآن شریف سے مقدس چیز کوئی بھی نہیں ہے اور اس کا احترام کرنا ہر مسلمان کیلئے ضروری ہے انہوں نے تحفظات کے مسئلہ پر دلیل پیش کرتے ہوئے کہا کہ 1994ء اگست میں پہلی مرتبہ جی او ایم ایس 30 کو جاری کیا گیا تھا اور اس وقت اکبر الدین اویسی، اسد الدین اویسی سیاست میں ہی موجود نہیں تھے اور نہ ہی اسمبلی کے اراکین تھے۔ اسد الدین اویسی پہلی مرتبہ 1994ء ڈسمبر میں اسمبلی کیلئے منتخب ہوئے تھے اور 1994ء میں مجلس کا ایک ہی رکن اسمبلی تھا اور ایم بی ٹی کے 2اراکین اسمبلی تھے اور اس وقت مجلس نے تحفظات کی کھل کر مخالفت کی تھی اور مسلمانوں میں فتنہ پیدا کرنے کا شبیر علی پرالزام عائد کرتے ہوئے اعلیٰ ذات کے درمیان جھگڑا لگانے کا بھی الزام عائد کیا تھا۔ مسٹر محمد فیاض الدین نے کہا کہ شبیر علی نے پائور پوائنٹ پرزینٹیشن میں اسد الدین اویسی کی تقاریر فلمبندی کے ذریعہ پروجیکٹر پر عوام کو دکھایا تھا اور اسد الدین اویسی نے واضح طور پر مخالفت کرتے ہوئے تقاریر کی تھی لیکن ٹائون مجلس کے قائدین کی جانب سے جھوٹی دلیلیں پیش کرتے ہوئے تحفظات ان کی دین قرار دینا سراسر غلط ہے کیونکہ مجلس کے اعلیٰ قائدین ہمیشہ جھوٹ سے ہی کام لیتے ہیں۔ اکبر الدین اویسی نے نظام آباد کے جلسہ میں ہندوئوں کیخلاف زبردست تقریر کی تھی

 

لیکن جب کیس درج ہوا تو اس سے مکر گئے۔ پولیس کی ان کی آواز کو ریکارڈ کرتے ہوئے فارنسک لیاب کو بھی روانہ کیا تھا یہ جذباتی تقاریر کے ذریعہ عوام کو گمراہ کرنا ان کا وطیرہ ہے۔ پولیس کے دائرہ میں خود نماز ادا کرتے ہیں۔ بلٹ پروف گاڑی میں 21 گن مینوں کے درمیان گھومتے ہیں یہاں تک کے نماز بھی گن مینوں کے درمیان ادا کرتے ہیں کہتے ہوئے اس کی تصاویر صحافیوں کو پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ تحفظات کے مسئلہ پر جی او نمبر 33 سال 2004ء میں جاری کیا گیا تھا اور اکبر الدین اویسی اس کی کھل کر مخالفت کی تھی۔ بھینسہ کے فسادات کے بارے میں کانگریس پر لگائے گئے الزامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بھینسہ میں جس وقت فسادات ہوئے تھے اس وقت کانگریس نے مسلمانوں کا کھل کر ساتھ دیا تھا اور راج شیکھرریڈی کے دورہ کے موقع پر اکثریتی فرقہ نے کانگریس کے خلاف احتجاج بھی کیا تھا۔ نظام آباد کانگریس قائدین نے بھینسہ کے فسادات پر اس وقت کے چیف منسٹر ڈاکٹر وائی ایس راج شیکھرریڈی سے ملاقات کرتے ہوئے مسلمانوں پر ہوئے ظلم کے خلاف نمائندگی کی تھی اور اس وقت راج شیکھرریڈی نے واضح طور پر اس بات کا اعلان کیا تھا کہ ریاست میں اقلیتوں کی حکومت ہے اور اقلیتوں کے مفادات کیخلاف کوئی بھی کام نہیں کیا جائیگا۔ اگر کانگریس مسلمانوں کیخلاف فیصلہ کرتی ہے تو بحیثیت مسلمان اس کیخلاف ہمیشہ آواز بلند کرنے کیلئے تیار ہے لیکن مسلمانوں کے مفادات کے خلاف کوئی بھی حرکت کو کبھی بھی برداشت نہیں کیا جائیگا اور نہ ہی عوام کو جھوٹ کی بنیاد پر گمراہ کیا جائیگا۔مجلسی قائدین کی جانب سے محمد علی شبیر کو شہر کے دورہ کرنے سے روک دینے کے انتباہ کو سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے مجلسی قائدین شبیر علی کو روکنے کی بات تو دور ہے ان کے سایہ تک بھی پہنچ نہیں سکتے۔ اگر یہ اس پر ثابت قدم ہے تو شبیر علی کو نظام آباد دورہ کیلئے مدعو کیا جائیگا اور جس پر مقام پر انہیں طلب کرنا ہے وہاں پرلانے کیلئے تیار ہے۔ شبیر علی نے پائور پوائنٹ پرزینٹیشن کے ذریعہ تحفظات کے حصول کیلئے شعور بیدار کرنے کی کوشش کی ہے اور یہ کوشش مجلسی قائدین کو برداشت نہیں ہورہی ہے کیونکہ تحفظات میں ان کا رول واضح ہورہا ہے جس کی وجہ سے عوام کو غلط بیان بازی کے ذریعہ گمراہ کرنے کی نظام آباد ٹائون مجلسی قائدین کوشش کررہے ہیں۔ حیدرآباد میں مسٹر محمد علی شبیر پر کئے گئے حملے کے جواب میں شبیر علی نے نظام آباد میں مجلسی  پر کیچڑ اچھالنے کی کوشش کی ہے کہا۔ چند صحافیوں کی جانب سے پوچھے گئے سوال پر محمد فیاض الدین نے کہا کہ شبیر علی پر حملہ کرنے والوں کو شبیر علی نے دوسرے دن ہی معاف کردیا تو پھر کیچڑ اچھالنے کا سوال کہاں سے پیدا ہوتا ہے۔ شبیر علی نے تحفظات کی فراہمی کی وجہ سے مسلمانوں کو تعلیمی اور ملازمتوں میں ہوئے فائدہ کے بارے میں عوام کو واقف کراتے ہوئے تحفظات سے مسلمانوں کو ہونے والے فائدہ کے بارے میں واقف کراتے ہوئے عوام میں شعور بیدار کررہے ہیں لہذا غلط بیان بازی کرتے ہوئے عوام کو گمراہ کرنا بند کریں اور ان کی جانب سے پیش کی گئی دلیل پر کانگریس کا چیلنج قبول کرنے کی خواہش کی۔ اس پریس کانفرنس میں یوتھ لیڈر کانگریس محمد امر، عبدالقدیر جمیل ، نواز الدین اکبر و دیگرموجود تھے۔

TOPPOPULARRECENT