Monday , January 22 2018
Home / Top Stories / چتور انکاونٹر کیخلاف ٹاملناڈو میں احتجاجی مظاہرے

چتور انکاونٹر کیخلاف ٹاملناڈو میں احتجاجی مظاہرے

نئی دہلی ؍ چینائی ۔ 8 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) مرکزی وزارت داخلہ نے پانچ مبینہ دہشت گردوں کی انکاونٹر میں ہلاکت کے سلسلہ میں حکومت تلنگانہ سے رپورٹ طلب کی ہے۔ وزارت داخلہ نے ایک نوٹ جاری کرتے ہوئے ریاستی حکومت کو ہدایت دی ہیکہ 5 مبینہ دہشت گردوں کی کل ضلع ورنگل میں ہلاکت کے اسباب و علل پر تفصیلی رپورٹ روانہ کی جائے۔ سرکاری ذرائع نے یہ بات

نئی دہلی ؍ چینائی ۔ 8 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) مرکزی وزارت داخلہ نے پانچ مبینہ دہشت گردوں کی انکاونٹر میں ہلاکت کے سلسلہ میں حکومت تلنگانہ سے رپورٹ طلب کی ہے۔ وزارت داخلہ نے ایک نوٹ جاری کرتے ہوئے ریاستی حکومت کو ہدایت دی ہیکہ 5 مبینہ دہشت گردوں کی کل ضلع ورنگل میں ہلاکت کے اسباب و علل پر تفصیلی رپورٹ روانہ کی جائے۔ سرکاری ذرائع نے یہ بات بتائی۔ واضح رہیکہ کل ضلع ورنگل کے آلیر کے قریب 5 مسلم نوجوانوں بشمول وقارالدین احمد کو پولیس نے فرضی انکاونٹر میں ہلاک کردیا تھا۔ پولیس کا یہ دعویٰ ہیکہ وہ تحویل سے فرار ہونے کی کوشش کررہے تھے۔ مرکزی وزیرداخلہ راجناتھ سنگھ نے کل تلنگانہ ڈی جی پی انوراگ شرما سے بات کی اور اس واقعہ کے بارے میں تفصیلات معلوم کی۔ اس دوران ٹاملناڈو میں حکومت آندھراپردیش کے متنازعہ انکاونٹر کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرہ جاری ہے۔ حکومت ٹاملناڈو کا یہ موقف ہیکہ پولیس نے سرخ صندل کی اسمگلنگ کا الزام عائد کرتے ہوئے 20 افراد کو انکاونٹر میں ہلاک کیا ہے حالانکہ ان میں اکثریت لکڑیاں کاٹنے والوں کی تھی۔ وہ تروپتی کے قریب جنگلات میں لکڑی کاٹنے کیلئے گئے ہوئے تھے۔ سیاسی جماعتوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس واقعہ کو حقوق انسانی کی خلاف ورزی قرار دیا اور کہا کہ روزگار کی تلاش میں جانے والے ان لکڑہاروں کو پولیس نے بس سے اتار کر ہلاک کردیا ہے۔ انہوں نے حکومت آندھراپردیش سے اس واقعہ کی سپریم کورٹ جج کے ذریعہ تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا۔ حکومت ٹاملناڈو نے مہلوک مزدوروں کے ارکان خاندان کو فی کس 3 لاکھ روپئے ایکس گریشیا کا اعلان کیا ہے۔

قومی انسانی حقوق کونسل کے صدر چیف جسٹس کے جی بالا کرشنن نے آج دہلی میں کہا کہ کونسل یہ معلوم کرے گی کہ انکاونٹر فی الواقعی حقیقی تھا یا نہیں۔ آندھراپردیش کے چیف سکریٹری اور ڈی جی پی کو اس واقعہ کے سلسلہ میں نوٹس جاری کی جارہی ہے۔ ٹاملناڈو ریونیو اور پولیس عہدیداروں کی ایک ٹیم تروپتی روانہ کی جارہی ہے تاکہ مہلوکین کی نعشیں واپس لائی جاسکیں۔ ٹاملناڈو اور آندھراپردیش دونوں اسٹیٹ ٹرانسپورٹ کارپوریشنس نے بس خدمات معطل کردی ہیں۔ اس کے علاوہ سنگباری کے واقعات کے بعد بس اسٹیشنس پر پولیس تعینات کی گئی ہے۔ ریاست میں آج احتجاجی مظاہرے جاری رہے اور ڈی ایم کے سربراہ ڈاکٹر ایس رام داس نے کہا کہ یہ انکاونٹر منصوبہ بند تھا اور ان کے پاس ٹھوس شواہد موجود ہیں۔ انہوں نے کہا چونکہ یہ انکاونٹر پہلے سے منصوبہ بند تھا اس لئے آندھراپردیش حکومت کی تحقیقات غیرجانبدارانہ نہیں ہوسکتی۔ لہٰذا برسرخدمت سپریم کورٹ جج کے ذریعہ تحقیقات کرائی جانی چاہئے۔ اس واقعہ سے صدرجمہوریہ پرنب مکرجی اور وزیراعظم نریندر مودی کو بھی واقف کرایا جائے تاکہ مہلوکین کے ورثا سے انصاف ہوسکے۔ دیگر تنظیموں جیسے نام ٹیملر کاچی نے بھی آندھرا بینک اور آندھراپردیش سے ربط رکھنے والے دیگر اداروں کے روبرو احتجاجی مظاہرے کئے۔

گورنمنٹ ویلور لا کالج کے طلبہ نے ویلور ۔ چتور روڈ پر احتجاجی مظاہرہ کیا اس کے علاوہ والاجاہ روڈ ریلوے جنکشن کے قریب ٹرین کی آمد و رفت روک دی۔ پولیس نے 50 افراد کو حراست میں لے لیا۔ ریاست کے کئی ٹاؤنس میں وکلاء نے بھی احتجاجی مظاہرے کئے۔ ڈی ایم کے لیڈر ایم کے اسٹالن نے حکومت آندھراپردیش پر اختیارات کے غلط استعمال کا الزام عائد کیا اور کہا کہ یہ فرضی انکاونٹر حقوق انسانی کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے بھی برسرخدمت جج کے ذریعہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ اسٹالن نے کہا کہ سرخ صندل کی اسمگلنگ غیرقانونی ہے اور اسے یقینا روکا جانا چاہئے لیکن اپنے دفاع کیلئے بھی طاقت کا حد سے زیادہ استعمال ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے آندھراپردیش میں کوئی حکومت نام کی چیز ہی نہیں ہے۔ اس واقعہ کی وجہ سے آندھراپردیش ۔ ٹاملناڈو سرحد پر کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ اس دوران مرکزی حکومت نے بھی اس واقعہ کے سلسلہ میں حکومت آندھراپردیش سے رپورٹ طلب کی ہے۔ وزارت داخلہ نے ریاستی حکومت سے کہا ہیکہ جلد از جلد اس واقعہ کے بارے میں تفصیلی رپورٹ دی جائے۔ چیف منسٹر آندھراپردیش این چندرا بابو نائیڈو نے وزیرداخلہ راجناتھ سنگھ کو اس واقعہ کے سلسلہ میں واقف کرایا اور کہا کہ ریاستی حکومت ضروری کارروائی کررہی ہے۔ چیف منسٹر ٹاملناڈو او پی پنیرسلوم نے پہلے ہی سخت الفاظ پر مبنی ایک مکتوب چندرا بابو نائیڈو کو روانہ کیا ہے جس میں واقعہ کی حقیقی اور عاجلانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا۔ ساتھ ہی ساتھ یہ بھی کہا گیا کہ امکانی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والے ذمہ داروں کی بھی نشاندہی کی جائے۔ اس دوران قومی انسانی حقوق کمیشن نے ازخود کارروائی کرتے ہوئے حکومت آندھراپردیش کو نوٹس روانہ کی ہے۔ کمیشن کے ایک رکن نے کہا کہ محض اپنے دفاع کیلئے فائرنگ اور کئی افراد کی ہلاکت کو منصفانہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔

TOPPOPULARRECENT