Wednesday , September 19 2018
Home / اضلاع کی خبریں / چتور کی قحط سالی دور کرنے عاجلانہ اقدامات کا تیقن

چتور کی قحط سالی دور کرنے عاجلانہ اقدامات کا تیقن

مدن پلی۔20فبروری ( محمد اشرف کی رپورٹ) آندھراپردیش چیف منسٹر چندرا بابونائیڈو نے اپنے آبائی ضلع چتور کے مغربی علاقہ تمبل پلی کا جو کئی برسوں سے قحط سے متاثر ہے دورہ کیا اور یہیں سے پانی درخت کے پروگرام کا آغاز کیا ۔ اس موقع پر انہوں نے ہیلی کاپٹر کے ذریعہ پورے علاقہ کاد ورہ کیا اور ضلعی عہدیداروں سے جائزہ لیا اور یہاں کے قحط سالی کو دو

مدن پلی۔20فبروری ( محمد اشرف کی رپورٹ) آندھراپردیش چیف منسٹر چندرا بابونائیڈو نے اپنے آبائی ضلع چتور کے مغربی علاقہ تمبل پلی کا جو کئی برسوں سے قحط سے متاثر ہے دورہ کیا اور یہیں سے پانی درخت کے پروگرام کا آغاز کیا ۔ اس موقع پر انہوں نے ہیلی کاپٹر کے ذریعہ پورے علاقہ کاد ورہ کیا اور ضلعی عہدیداروں سے جائزہ لیا اور یہاں کے قحط سالی کو دور کرنے کیلئے کئے جارہے اقدامات کا جائزہ لیا ۔ گمّاسمورم علاقہ میں واقع ٹینک بیڈ میں چیف منسٹر نے جے سی بی کو چلاکر چکنی مٹی کو نکالا اور وہیں پر اس نیرو چیئو کے پیلان کا بھی افتتاح کیا ‘ بعد میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ضلع چتور سے قحط سالی کو دور کرنے کیلئے وہ انتھک کوشش کررہے ہیں اور اس کام کو عوام کے تعاون کے بغیر وہ کر نہیں پائیں گے ۔ انہوں نے گذارش کی کہ وہ ان کا ساتھ دیں۔ کرشنا اور گوداوری کا پانی رائلسیما کے اضلاع کا رُخ کریں گے اور اس کی وجہ سے ہندریا۔ نیوا ‘ گالیرو ۔ نگری‘ ویلیگونڈا پراجکٹ ‘ وجئے نگرم توٹاپلی پراجکٹوں کو پانی فراہم ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ آندھراپردیش میں 30 لاکھ ایکڑ زمین میں پانی نہ ہونے کی وجہ سے زراعت نہیں ہورہی ہے اور ان پراجکٹوں کی وجہ سے یہاں پر بھی زراعت شروع ہوگی ۔ ان پراجکٹوں کی تکمیل کیلئے اگر ضرورت پڑی تو راتوں میں کنال کے بازو میں ہی آرام کریں گے اور پراجکٹوں کے کام میں جلدی کریں گے ۔ انہوں نے ایک اور اہم بات کی طرف توجہ دلائی کہ عوام میں یہ شعور پیدا ہونا ہے کہ وہ پودے لگائیں ۔ پودے لگانا اور DE-Silting کا کام وغیرہ حکومت کا سمجھ کر نہ بیٹھیں ۔ اپنی طرف سے شرم دان کرنے کی ضرورت پر زور دیا ۔ اس موقع پر سری کرشنا دیورائیلو کا واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ ایک مرتبہ مہاراجا دوپہر کی دھوپ میں سیر کرتے ہوئے ایک درخت کے نیچے آرام کی سانس لینے کیلئے بیٹھا تو دیکھا کہ قریب میں ایک بوڑھا شخص ایک پودا لگا رہا تھا ۔ مہاراجا نے اس بوڑھے ضعیف شخص سے سوال کیا کہ یہ پودا پیڑ ہونے میں کئی سال لگ جائیں گے او راس وقت تک یہ ضعیف زندہ نہیں رہ پاتا تو کیوں لگارہا ہے تو اس ضعیف شخص نے کہا کہ جس درخت کے سایہ میں تم بیٹھے ہو وہ بھی کسی اور کا لگایا ہوا پودا تھا ۔ یہ پودا میں اپنے لئے نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے خیرخواہی کیلئے لگارہا ہوں ‘ اگر ہم اپنی آنے والی نسل کا خیال کر کے پودے لگانا ضروری ہے ۔آج پانی کی سطح 1200قدم تک بھی نظر نہیں آرہی ہے ‘ اس لئے ہمیں چاہیئے کہ پودے لگاکر آنے والی نسلوں کی مدد کریں اور نیرو چیٹو پراجکٹ تاریخ میں نیا ورق لکھے گا ۔

اس موقع پر انہوں نے عوام کی توجہ ایک اہم نکتہ پر مبذول کرائی کہ ضلع میں 9لاکھ سے زائد مکان ہیں جن میں آدھے سے زائد مکانوں میں بیت الخلاء کی سہولت نہیں ہے ۔اس موقع پر انہوں نے ضلع کلکٹر کو حکم دیا کہ 100دن میں ایک لاکھ Toilets کی تعمیر کا پروگرام بتاکر آگے بڑھیں۔ انہوں نے کہا کہ آندھراپردیش کی معاشی حالت بالکل خراب ہے ‘ اس کے باوجود کسانوں کے قرضہ جات کے معافی کے پہلے مرحلہ میں 2,77,947 کسانوں نے استفادہ کیا ۔ ملازمین کو فٹمنٹ 43% دیا جارہا ہے ۔ عورتوں کو 10ہزار روپئے کی امداد کی جائے گی۔ جلسہ عام میں تمبل پلی کے علاوہ مدن پلی و دیگر مقامات سے بھی کثیر تعداد میں لوگوں نے شرکت کی ۔ انہوں نے مدن پلی بلدیہ صدرنشین اور عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ دو دن میں ایک مرتبہ نلوں سے پانی فراہم کرے ۔ اس کے لئے وہ جنگی طور پر اقدامات کریں ۔ انہوں نے کہا کہ اپنے بچپن میں پانی کی قلت کا نام تک نہ سنا تھا مگر آج پانی کی فراہمی میں مشکلات درپیش ہیں اور عوام کو پانی خرید کر پینا پڑا ہے ۔چیف منسٹر جلسہ کے اختتام کے بعد تروپتی روانہ ہوگئے ۔ چیف منسٹر کے ساتھ ریاستی وزراء ڈی اوما ‘ بی گوپال کرشنا ریڈی ‘ ایانا پٹرولو‘ تمبل پلی رکن اسمبلی شنکر کے علاوہ ضلع کلکٹر سدھارتھ جینس‘ جوائنٹ کلکٹر نارائن بھرت گپتا ‘ مدن پلی سب کلکٹر ‘ آر وی کرنم ‘ ضلع پریشد صدر نشین گریونی ‘ ڈپٹی ایس پی مدن پلی راجندر پرساد تلگودیشم قائدین نے شرکت کی۔

TOPPOPULARRECENT