Wednesday , December 13 2017
Home / Top Stories / چلتی ٹرین میں تین مسلم ’ مدرسین ‘ پر اشرار کا حملہ ‘ تینوں زخمی

چلتی ٹرین میں تین مسلم ’ مدرسین ‘ پر اشرار کا حملہ ‘ تینوں زخمی

دہلی سے باغپت واپسی کے دوران نشانہ بنایا گیا ۔ سر پر رومال باندھنے پر برہمی کا اظہار ۔ مقدمہ درج
باغپت ( اترپردیش ) 23 نومبر ( سیاست ڈاٹ کام ) تین مسلم مذہبی رہنماؤں کومبینہ طور پر ایک چلتی ٹرین میں نامعلوم شرپسندوں نے مارپیٹ کا نشانہ بنایا اور اس میں تینوں ہی مدرسین زخمی ہوگئے ۔ تفصیلات کے بموجب یہ تینوں مولوی کل رات دہلی سے ایک پاسنجر ٹرین میں سوار ہوئے اور یہ لوگ باغپت میں اپنے گاوں جا رہے تھے ۔ ایس پی باغپت جئے پرکاش سنگھ نے کہا کہ دوران سفر ان کا کچھ نوجوانوں سے کسی بات پر جھگڑا ہوگیا اور نوجوانوں نے انہیں مارپیٹ کی ۔ کچھ اور اطلاعات میں کہا گیا ہے کہ ان مولویوں کا کوئی جھگڑا نہیں ہوا بلکہ شر پسندوں نے ان تینوں کو اپنے سر پر رومال باندھنے پر حملے کا نشانہ بنایا گیا اور ان پر فقرے کسے گئے ۔ کہا گیا ہے کہ یہ تینوں ہی ایک مدرسہ میں پڑھاتے ہیں اور یہ لوگ رات گیارہ بجے جب اپنے اسٹیشن پر اترنے کی تیاری کر رہے تھے کہ چھ افراد نے ان کے کوچ کے دروازے بند کردئے اور انہیں مارپیٹ شروع کردی ۔ انہوں نے لوہے کی سلاخیں بھی استعمال کیں۔ تینوں ہی مدرسین کو اس حملے میں شدید زخم آئے ہیں اور انہیں باغپت کے ضلع ہاسپٹل میں شریک کیا گیا ہے ۔ پولیس نے ان اطلاعات کی توثیق نہیں کی کہ تینوں کو ٹرین سے باہر پھینک دیا گیا تھا ۔ پولیس کے بموجب ابھی یہ بھی واضح نہیں ہوسکا کہ یہ واقعہ فرقہ وارانہ نوعیت کا ہے ۔ تینوں زخمیوں میں سے ایک اسرار کا کہنا ہے کہ جب اس نے حملہ آوروں سے مارپیٹ کی وجہ دریافت کی تو انہوں نے کچھ نہیں کہا اور پیٹتے رہے ۔ انہوں نے بتایا کہ ایک حملہ آور نے ان سے پوچھا کہ وہ رومال کیوں پہنتے ہیں۔ ایک سینئر پولیس عہدیدار جئے پرکاش نے کہا کہ ہوسکتا ہے کہ نشستوں کے مسئلہ پر کوئی جھگڑا ہوا ہو تاہم پولیس کے اس خیال کی تائید میں کوئی شہادت نہیں مل سکی ہے ۔ پولیس نے بتایا کہ فی الحال حملہ کا کیس درج کرلیا گیا ہے اور ابھی حملہ آوروں کی شناخت نہیں ہوسکی ہے ۔ اطلاعات کے بموجب متاثرین نے باغپت پہونچ کر یہ شکایت درج کروائی تھی جس پر مقدمہ درج کرلیا گیا ۔ ان تینوں کے نام گلزار ‘ اسرار اور ابرار بتائے گئے ہیں۔ پولیس نے بتایا کہ چونکہ حملہ کے متاثرین یہاں رجوع ہوئے تھے اس لئے یہاں اس سلسلہ میں ایک مقدمہ درج کرلیا گیا تھا اور یہ کیس اب ریلوے پولیس کو منتقل کیا جا رہا

TOPPOPULARRECENT