Friday , November 24 2017
Home / کھیل کی خبریں / چمپینس ٹروفی ہاکی ایونٹ ختم کرنے پر پاکستان برہم

چمپینس ٹروفی ہاکی ایونٹ ختم کرنے پر پاکستان برہم

ایف آئی ایچ کے اقدام میں پی ایچ ایف کو اعتماد میں نہیں لیا گیا
لاہور ، 20 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) پاکستان ہاکی فیڈریشن نے ہاکی کیلنڈر سے چمپینس ٹروفی کو ختم کرنے اور اس معاملے پر پاکستان کو اعتماد میں نہ لینے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن (ایف آئی ایچ) سے احتجاج کیا ہے۔ 40 سال قبل شروع کردہ چمپینس ٹروفی کا سفر اختتام کے قریب ہے اور ایف آئی ایچ نے تاریخی ایونٹ کی جگہ ورلڈ ہاکی لیگ متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ چنانچہ 2018ء کی چمپینس ٹروفی اپنی نوعیت کا آخری ایونٹ رہے گا۔ ایف آئی ایچ نے 18 اپریل کو عالمی سطح پر ہاکی کا نیا ڈھانچہ متعارف کرایا تھا جس کا نفاذ 2019ء سے ہو گا اور اس میں چمپینس ٹرافی ہاکی ٹورنمنٹ کی سال کے ایونٹس میں کوئی جگہ نہیں ہو گی۔ اس نئے اسٹرکچر کے تحت ورلڈ کپ کیلئے کوالیفائی کرنے کا طریقہ کار یہی رہے گا۔ تاہم، اولپک میں کوالیفائی کرنے کے طریقہ کار میں تبدیلی کی گئی ہے لیکن اس کیلئے انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کی رضامندی درکار ہے۔ چمپینس ٹروفی ایونٹ کو ختم کرنے کے فیصلے نے جہاں ہاکی شائقین کو مایوس کیا ہے، وہیں اس ٹورنمنٹ کے خالق پاکستان میں بھی غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ہاکی میں چمپینس ٹروفی 1978ء میں پاکستان نے شروع کی تھی جس کی بنیاد اس وقت کے پاکستان ہاکی فیڈریشن (پی ایچ ایف) کے صدر ایئر مارشل نور خان نے رکھی تھی۔ صرف یہی نہیں بلکہ جب ایف آئی ایچ کو فنڈز کی کمی کا سامنا ہوا تو پاکستان نے خود اس ایونٹ کی میزبانی بھی کی اور تمام اخراجات برداشت کئے۔ 1978ء سے 2012ء تک سالانہ بنیاد پر منعقد ہونے والے ٹورنمنٹ کو ہاکی ورلڈ لیگ متعارف کرائے جانے کے بعد 2014ء سے ہر دو سال بعد منعقد کرانے کا فیصلہ کیا گیا لیکن اب اس ٹورنمنٹ کو مکمل طور پر ختم کر کے ہاکی ورلڈ لیگ کو اس کی جگہ لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT