Thursday , June 21 2018
Home / Top Stories / چنائو کے بعد تریپورہ بی جے پی حکمرانی والی 20 ویں ریاست ہوگی

چنائو کے بعد تریپورہ بی جے پی حکمرانی والی 20 ویں ریاست ہوگی

Bengaluru: BJP National Preisdent Amit Shah speaks at a press conference during his three day visit to Bengaluru on Monday. PTI Photo by Shailendra Bhojak (PTI8_14_2017_000091A)

مسلسل 25 سال تک اقتدار رہنے کے بعد بھی لیفٹ فرنٹ نے ریاست کو پسماندگی میں ڈھکیل دیا: امیت شاہ

اگرتلہ۔12 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) بی جے پی قومی صدر امیت شاہ نے آج اس یقین کا اظہار کیا ہے کہ تریپورہ میں انتخابات کے بعد بی جے پی کی ہی حکومت قائم ہوگی اور یہ بی جے پی زیر قیادت ملک کی 20 ویں ریاست ہوگی۔ انہوں نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یہ دعوی کیا۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی نے ریاست کے عوام سے بی جے پی کے منشور میں جو وعدے کیے گئے ہیں، اسے بہرصورت پورا کیا جائے گا۔ شاہ نے مزید کہا کہ اسمبلی حلقہ جات کے دوروں کے دوران جو ماحول نظرآئے اس کی بنیاد پر میں یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ بی جے پی تریپورہ میں حکومت قائم کرنے جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ منی اور آسام میں بی جے پی کا ایک بھی ایم ایل اے نہیں ہے اور نہ ہی یہ بی جے پی کا کوئی مضبوط گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ تاہم یہاں پر بی جے پی اور وزیراعظم نریندر مودی کی کافی مقبولیت دیکھی جارہی ہے جس کی بنیاد پر انہیں یقین ہے کہ اس شمال مشرقی ریاست میں بی جے پی حکومت قائم کرنے جارہی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ لیفٹ فرنٹ پچھلے 25 سال سے اس ریاست میں اقتدار پر قابض ہے۔ مگر اس کے باوجود دوسری ریاستوں کے مقابلہ میں کافی پسماندہ ہے جہاں پر پینے کے پانی کی قلت، صحت کی خدمات، برقی سربراہی، تعلیم کی کمی اور انفراسٹرکچر کی کمی کے سبب سرمایہ کاری میں کمی نے ریاست کو پسماندگی کے دلدل میں ڈھکیل دیا۔ انہوں نے کہا کہ سی پی آئی ایم کی زیر قیادت بائیں بازو نے اس شمال مشرقی ریاست میں 1993ء سے مسلسل حکمرانی کی ہے۔ اس کے علاوہ 1978 اور 1988 کے درمیان بھی لیفٹ فرنٹ کی ہی حکمرانی تھی تاہم 25 سالہ طویل عرصہ کے دوران ریاست میں ایک بھی ترقیاتی اقدامات نہیں کیے گئے۔ انہوں نے دعوی کیا کہ یہ ریاست اسی وقت ترقی کرسکتی ہے جب یہاں زعفرانی حکومت قائم ہو اور یقیناً آنے والے دنوں میں ہماری حکومت قائم ہوگی۔ امیت شاہ نے مزید الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ تریپورہ میں خواتین کے خلاف جرائم میں اضافہ ہوا ہے جہاں ملک بھر میں سب سے زیادہ عصمتی ریزی اور خواتین کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کے واقعات پیش آتے ہیں۔ ان کے مطابق سی پی آئی ایم کے کیڈرس، پولیس اور سرکاری عہدیداروں پر اپنی حکمرانی مسلط کرتے ہیں جس کی وجہ سے نظم و نسق کی صورتحال مکمل طور پر مفلوج ہوکر رہ گئی ہے۔ ان کا دعوی ہے کہ ریاست میں بی جے پی کی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے بائیں بازو کے ارکان بوکھلاہٹ کا شکار ہوچکے ہیں اور وہ مسلسل بی جے پی کارکنوں پر حملہ کررہے ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ بی جے پی ورکرس سی پی آئی ایم کی پرتشدد کارروائیوں کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے کانگریس پر بھی الزام عائد کیا کہ مخالف لیفٹ فرنٹ ووٹوں کو تقسیم کرنے کے لیے کانگریس مختلف حربے اختیار کررہی ہے۔

TOPPOPULARRECENT