Tuesday , November 21 2017
Home / جرائم و حادثات / چندرائن گٹہ حملہ کیس:ریٹائرڈ سب انسپکٹر آف پولیس کا بیان قلمبند

چندرائن گٹہ حملہ کیس:ریٹائرڈ سب انسپکٹر آف پولیس کا بیان قلمبند

حیدرآباد 6 مارچ (سیاست نیوز) چندرائن گٹہ حملہ کیس کی سماعت کا آج دوبارہ آغاز ہوا اور ریٹائرڈ سب انسپکٹر پولیس نے اپنا بیان قلمبند کروایا، وکلائے دفاع نے ان پر جرح کیا۔ ساتویں ایڈیشنل میٹرو پولیٹن سیشن جج مسٹر بی کلیان چکرورتی کے تبادلہ کے بعد انچارج کورٹ کے جج آٹھویں ایڈیشنل میٹرو پولیٹن سیشن جج نے اِس کیس کی سماعت کی۔ چندرائن گٹہ پولیس اسٹیشن سے وابستہ ریٹائرڈ سب انسپکٹر محمد نیازالدین نے عدالت میں دیئے گئے بیان میں بتایا کہ اُنھوں نے 30 اپریل 2011 ء کو چندرائن گٹہ حملہ کیس کا ایف آئی آر جاری کیا تھا اور بعدازاں ایف آئی آر کاپی متعلقہ مجسٹریٹ کورٹ کے حوالہ کی تھی۔ وکیل دفاع ایڈوکیٹ جی گرومورتی نے محمد نیازالدین پر جرح کیا جس میں اُنھوں نے بتایا کہ اُس وقت کے سنتوش نگر انسپکٹر آف پولیس مسٹر یادیا نے اِس واقعہ سے متعلق درخواست ان کے حوالہ کی اور اُس بنیاد پر اُنھوں نے ایف آئی آر جاری کیا تھا۔ ریٹائرڈ سب انسپکٹر نے جرح کے دوران یہ اعتراف کیاکہ حملہ کیس انتہائی اہم نوعیت کا کیس ہے اور اِس قسم کے کیس کی ایف آئی آر کاپی کو عدالت کے حوالہ کرنا لازم ہے۔ اُنھوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ کیس کے حملہ کیس کے ملزمین کی جانب سے دی گئی درخواست پر اُنھوں نے ایف آئی آر جاری نہیں کیا۔ اُنھوں نے جرح کے دوران بتایا کہ موقع واردات پر سب انسپکٹر راملو ڈیوٹی پر موجود تھا لیکن انھیں کنٹرول روم کے وی ایچ ایف سیٹ کے ذریعہ حملہ کی اطلاع موصول ہوئی۔ انھیں حملہ سے متعلق درخواست موصول ہونے پر جی ڈی بُک میں اس کا اندراج کیا تھا اور اُس وقت کے انسپکٹر چندرائن گٹہ مسٹر وینکٹ گیری پولیس اسٹیشن میں موجود نہیں تھے۔ مسٹر نیازالدین نے عدالت کو یہ واقف کروایا کہ ابراہیم بن یونس یافعی کی ہلاکت سے متعلق اُنھوں نے کوئی بھی ایف آئی آر جاری نہیں کیا تھا۔ اُنھوں نے اس بات سے انکار کردیا کہ وہ رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی، رکن اسمبلی اکبرالدین اویسی کے دباؤ میں آکر اُنھوں نے معصوم افراد کو اس کیس میں ماخوذ کیا۔ ایڈوکیٹ مسٹر بی راج وردھن ریڈی کی جانب سے کی گئی جرح میں ریٹائرڈ سب انسپکٹر نیازالدین نے بتایا کہ حملہ کے بعد اعلیٰ عہدیداروں کی جانب سے دی گئی ہدایت پر اُنھوں نے موقع واردات پر پانچ تا چھ کانسٹبلس کو روانہ کیا تھا اور وہ حملہ کے مقام پر نہیں گئے۔ انچارج جج نے حملہ کیس کی سماعت کو ملتوی کردیا۔

TOPPOPULARRECENT