Sunday , December 17 2017
Home / شہر کی خبریں / چندرائن گٹہ حملہ کیس ‘ ایک اور انسپکٹر نے بیان قلمبند کروایا

چندرائن گٹہ حملہ کیس ‘ ایک اور انسپکٹر نے بیان قلمبند کروایا

حیدرآباد۔/7مارچ، ( سیاست نیوز) چندرائن گٹہ حملہ کیس کی سماعت انچارج کورٹ کے اجلاس پر بھی روزانہ کی اساس پر جاری ہے اور آج ایک انسپکٹر نے اپنا بیان قلمبند کروایا۔ اس وقت کے سنتوش نگر پولیس اسٹیشن کے ایڈیشنل انسپکٹر مسٹر نرسنگ یادیا نے آج حاضر عدالت ہوکر اپنا بیان قلمبند کروایا جس میں انہوں نے بتایا کہ وہ سال 2011 میں سنتوش نگر پولیس اسٹیشن میں خدمات انجام دے رہے تھے اور 30اپریل کو انہیں اسسٹنٹ کمشنر آف پولیس ( اے سی پی) سنتوش نگر مسٹر محمد اسمعیل کا ذریعہ فون پیام موصول ہوا اور انہیں کہا گیا کہ وہ فوری اویسی ہاسپٹل پہنچیں جہاں پر منصور عولقی موجود تھے اور انہوں نے ان سے تحریری درخواست حاصل کی۔ مسٹر یادیا نے بتایا کہ تحریری درخواست کو چندرائن گٹہ پولیس اسٹیشن کے سب انسپکٹر محمد نیاز الدین کے حوالے کیا اور بعد ازاں ایس آئی نے اس درخواست پر کارروائی کرتے ہوئے ایف آئی آر جاری کیا۔ گواہ نے مزید بتایا کہ اے سی پی سنتوش نگر نے انہیں یہ ہدایت دی کہ وہ مقام واردات واقع بالا پور پہنچیں اور وہاں پر موجود پولیس عہدیداروں کو ضبطی اور دیگر کارروائی میں مدد کریں۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے پنچنامہ تیار کرنے میں پولیس عہدیداروںکی مدد کی اور انہوں نے دیکھا کہ مقام واردات پر کلوز ٹیم، میڈیا اور فنگر پرنٹس ماہرین کی ٹیم موجود تھی۔ کلوز ٹیم کے ماہر راجہ نائیک کی نگرانی میں ٹیم کے فوٹو گرافرس اور ویڈیو گرافرس نے مقام واردات کی تصویر کشی کی اور انہوں نے ضبط شدہ اشیاء کو اے سی پی سنتوش نگر کے حوالے کیا۔ مسٹر یادیا نے اپنے بیان میں بتایا کہ مقام واردات سے 23 اشیاء بشمول ہیرو ہونڈا ایکٹیوا گاڑی، خون آلود چاقو، کپڑے، کارتوس، کرکٹ بیاٹ وغیرہ ضبط کئے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ کلوز ٹیم نے اویسی ہاسپٹل پہنچ کر اپنے ضابطہ کی کارروائی کی تکمیل کی۔ 30اپریل سال 2011کو اے سی پی سنتوش نگر محمد اسمعیل نے رکن اسمبلی اکبر الدین اویسی کے ملبوسات اور ان کے جوتے ضبط کئے۔ آٹھویں ایڈیشنل میٹرو پولیٹن سیشن جج نے کیس کی سماعت کو کل تک کیلئے ملتوی کردیا اور انسپکٹر یادیا پر وکیل دفاع جرح کریں گے۔

TOPPOPULARRECENT