Tuesday , November 21 2017
Home / جرائم و حادثات / چندرائن گٹہ حملہ کیس : وکیل دفاع کا اعتراض ، سماعت میں خلل

چندرائن گٹہ حملہ کیس : وکیل دفاع کا اعتراض ، سماعت میں خلل

اسلحہ و گولہ باردو کے دوکان کے مالک کی جانب سے کاروبار کے اصل رجسٹرکی عدم پیشکشی پر بحث
حیدرآباد ۔ /19 اگست (سیاست نیوز)  چندرائن گٹہ رکن اسمبلی حملہ کیس کی سماعت میں آج اس وقت خلل پیدا ہوگیا جب وکیل دفاع نے اسلحہ و گولہ بارود کی دوکان کے مالک کی جانب سے اصلی کاروباری رجسٹر عدالت میں داخل نہ کرنے پر اعتراض کیا ۔ جج نے کیس کی سماعت کو روک دیا اور گواہ کو اصلی دستاویزات /22 اگست کو عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت دی ۔ حملہ کیس کے گواہ نمبر 26 محمد سراج الدین شفیق جو  پتھر گٹی میں واقع  ’’رفیق آرمری‘‘ اسلحہ و گولہ بارود دوکان کے مالک ہے نے ساتویں ایڈیشنل میٹروپولیٹن سیشن جج کے اجلاس پر اپنا بیان قلمبند کرانے کے دوران دو وکلائے دفاع ایڈوکیٹ گرومورتی اور ایڈوکیٹ احمد علی نے اصلی کاروباری دستاویزات کی عدم فراہمی پر اعتراض کیا ۔ گواہ نے بتایا کہ کاروباری دستاویزات کی نقل پولیس کو فراہم کی ہے اور دستاویزات ان کی تصدیق شدہ ہے ۔ گواہ نے یہ دعوی کیا کہ ایک مبینہ ملزم نے ان کی دوکان میں اپنے ہتھیار جمع کروائے تھے ۔ وکیل دفاع نے اعتراض کرتے ہوئے جج سے درخواست کی کہ گواہ کی جانب سے عدالت میں نہ ہی اصلی دستاویزات جمع کئے گئے ہیں اور مذکورہ دستاویزات عدم  تصدیق شدہ اور قابل قبول نہیں ہے ۔ اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر مسٹر اوما مہیشور راؤ نے یہ استدلال پیش کیا کہ تصدیق شدہ رجسٹر کی نقل قابل قبول ہے لیکن  وکلاء دفاع کی جانب سے مسلسل اعتراض کئے جانے پر جج نے کاروباری دستاویزات کی نقل کا معائنہ کیا اور اسے قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے گواہ کو یہ ہدایت دی کہ وہ /22 اگست کو عدالت میں اصل کاروباری رجسٹر داخل کرے ۔ قبل ازیں گواہ سے مختصر جرح کے طور پر  بعض سوالات کئے گئے   جس میں یہ سوال کیا گیا کہ کیا ہتھیار جمع کروانے والوں کی تفصیلات کا کاروبار رجسٹر میں اندراج ہوتا ہے اور کیا ان دستاویزات کو پولیس میں داخل کیا جاتا ہے ۔ گواہ نے بتایا کہ رجسٹر میں تمام تفصیلات کے اندراج کے بعد ہی پولیس کو مطلع کیا جاتا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT