Wednesday , November 22 2017
Home / شہر کی خبریں / چندرائن گٹہ حملہ کیس کی سماعت قطعی مراحل میں داخل

چندرائن گٹہ حملہ کیس کی سماعت قطعی مراحل میں داخل

اسپیشل پبلک پراسیکوٹر نے دلائل پیش کئے ‘ آج پھر سماعت
حیدرآباد 12 جون (سیاست نیوز) چندرائن گٹہ حملہ کیس کی سماعت اب آخری مرحلہ میں پہونچ چکی ہے اور آج سرکاری وکیل نے عدالت میں حملے کے واقعہ سے متعلق تمام تفصیلات سے عدالت کو واقف کروایا۔ ساتویں ایڈیشنل میٹرو پولیٹن سیشن جج کے اجلاس پر اسپیشل پبلک پراسکیوٹر مسٹر اوما مہیشور راؤ نے اپنا استدلال پیش کیا اور عدالت کو یہ بتایا کہ رکن اسمبلی اکبرالدین اویسی ایک عوامی نمائندہ ہیں اور اِن کی کافی مقبولیت ہے۔ اُن کے حلقے سے وہ ہمیشہ بھاری اکثریت سے کامیاب ہوتے ہیں۔ رکن اسمبلی اور اس کیس کے ملزمین کے درمیان مخاصمت 2009 ء عام انتخابات کے دوران ہوئی جس میں ملزمین نے اکبراویسی کے حریف امیدوار کی تائید کی تھی۔ اتنا ہی نہیں ملزمین سرکاری اراضیات ہڑپ لینے کی کوشش کررہے تھے جس کے نتیجہ میں مقامی عوام نے رکن اسمبلی کو اِس سے واقف کروایا تھا جس کے نتیجہ میں اکبراویسی نے 13 اپریل 2011 ء کو محکمہ مال اور دیگر عہدیداروں کے ہمراہ اپنے حلقہ اسمبلی کا دورہ کیا تھا جس میں سرکاری اراضیات بھی شامل ہیں۔ مسٹر اوما مہیشور راؤ نے عدالت کو بتایا کہ 20 اپریل 2011 ء کو اِس کیس کے ایک گواہ نے اپنی شادی کی سالگرہ کے موقع پر عمر فنکشن ہال چندرائن گٹہ پہونچ کر اِس کی بکنگ کروانی اس وقت اُس نے بعض افرادکو رکن اسمبلی کے خلاف سازش کرتے ہوئے سنا تھا۔ سرکاری وکیل نے یہ بھی بتایا کہ 30 اپریل 2011 ء کو رکن اسمبلی اپنے حلقہ میں افتتاحی پروگرامس میں شرکت کیلئے بارکس پہونچے تھے جہاں پر پولیس نے بندوبست بھی کیا تھا بعدازاں رکن اسمبلی اُن کے حلقہ میں منعقد ہونے والے ایک مذہبی اجتماع کے انتظامات کا جائزہ لیکر بارکس واپس پہونچے جہاں اُن کے کارپوریٹر نے اُن کے لئے چائے کا انتظام کیا تھا۔ جبکہ اُن کے ہمراہ حلقہ اسمبلی ملک پیٹ کے رکن اسمبلی مسٹر احمد بلعلہ بھی تھے۔ اِس پروگرام کے بعد اکبرالدین اویسی واپس لوٹ رہے تھے کہ بعض افراد نے اُن پر اچانک کرکٹ بیاٹ اور چاقوؤں سے حملہ کردیا اور فائرنگ بھی کی۔ اکبراویسی پر مسلسل حملے کے نتیجہ میں گن مین جانی میاں نے ابراہیم بن یونس یافعی پر فائرنگ کی جس پر نوجوان کی موت واقع ہوگئی۔ اِس حملے کی ایک ٹی وی چیانل کے کیمرہ مین سلیم نے ویڈیو گرافی کی اور اِس ویڈیو کو پولیس نے ضبط کیا ۔بعدازاں جسے عدالت میں پیش کیا گیا۔ مسٹر اوما مہیشور راؤ نے عدالت کو بتایا کہ ویڈیو کیسٹ کی تصدیق کیلئے اور چھیڑ چھاڑ نہ ہونے کا پتہ لگانے کے لئے چندی گڑھ کے فارنسک لیباریٹری کو روانہ کیا۔ سرکاری وکیل نے عدالت کو ملزمین کی ضمانت منسوخ کرنے سے متعلق تفصیلات بھی بتائیں۔ عدالت نے سماعت کو کل تک کے لئے ملتوی کردیا جہاںسرکاری وکیل اپنے دلائلپیش کریں گے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT