Monday , February 26 2018
Home / جرائم و حادثات / چندرائن گٹہ میں گٹکھا کے خلاف کارروائی ، ایک شخص گرفتار

چندرائن گٹہ میں گٹکھا کے خلاف کارروائی ، ایک شخص گرفتار

مشنری اور شیاء ضبط ، ڈی سی پی ساوتھ زون ستیہ نارائنا کی پریس کانفرنس
حیدرآباد ۔ /7 فبروری (سیاست نیوز) حکومت کی جانب سے گٹکھا اور دیگر تمباکو اشیا پر امتناع عائد کئے جانے کے بعد حیدرآباد پولیس شہر کے کئی مقامات پر دھاوا کرتے ہوئے گھٹکے کے کاروبار میں ملوث تاجرین کے خلاف ہنوز کارروائی جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ ایک تازہ کارروائی میں چندرائن گٹہ پولیس نے گھٹکے کا کاروبار کرنے والے ایک شخص کو گرفتار کرلیا اور اس کے قبضے سے سفاری برانڈ کے گھٹکے اور اس کی تیاری کیلئے استعمال کی جانے والی مشنری اور دیگر اشیاء برآمد کرلئے ۔ پولیس نے بتایا کہ 23 سالہ محمد منیرالدین رومان عرف شاہ ساکن اندرا نگر سنتوش نگر نے گزشتہ سال بی ٹیک کی تعلیم حاصل کی تھی اور وہ معاشی پریشانیوں کا شکار ہوگیا تھا ۔ پولیس نے دعویٰ کیا کہ بیروزگاری سے تنگ آکر اس نے آسانی سے روپئے کمانے کی غرض سے گھٹکے کی تیاری میں ملوث ہوگیا اور حرمین کالونی کتہ پیٹ واقع بالاپور میں ایک کارخانہ بھی قائم کیا ۔ گھٹکے کی تیاری کیلئے منیرالدین 5 مزدوروں کو بھی ملازمت پر رکھا تھا اور کانپور سے گھٹکا تیار کرنے کی اشیاء اکٹھا کیا کرتا تھا ۔ پولیس نے دعویٰ کیا کہ گرفتاری کے بعد منیرالدین رومان نے پولیس عہدیداروں کو یہ باور کروانے کی کوشش کی کہ وہ آسٹریلیا کا ویزا کے حصول کیلئے نئی دہلی گیا ہوا تھا جہاں پر اس کی ملاقات اترپردیش کانپور کے سندیپ ارورہ سے ہوئی اور اس نے گھٹکے کی تیاری پر معقول منافع دینے کا وعدہ کیا ۔ پولیس نے مزید بتایا کہ منیرالدین نے عمر بن حیدرا کا مکان کرایہ پر دلایا جہاں پر گھٹکے کا کارخانہ قائم کیا گیا ۔ پریس کانفرنس کے دوران گرفتار نوجوان نے یہ دعویٰ کرتے ہوئے سنسنی پیدا کردی کہ اسے پولیس بیجا مقدمات میں ماخوذ کررہی ہے اور اس کا گھٹکا کے کاروبار سے کوئی تعلق نہیں ہے لیکن دوبارہ اسی نوجوان نے ڈرامائی انداز میں کچھ دیر بعد یہ بیان دیا کہ وہ پولیس کی اس کارروائی سے پریشان ہوگیا تھا اور اس نے یہ غلط بیانی کی تھی ۔ ڈپٹی کمشنر پولیس ساؤتھ زون مسٹر وی ستیہ نارائنا نے بتایا کہ منیر کے قبضے سے 25 لاکھ مالیتی گھٹکا تیار کرنے کی مشینیں اور پانچ لاکھ مالیتی گھٹکا اور تمباکو اشیاء برآمد ہوئیں ۔ انہوں نے کہا کہ پریس کانفرنس کے دوران منیرالدین پولیس پر الزامات عائد کرتے ہوئے تحقیقات سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی لیکن پولیس اب اس سلسلے میں مزید تحقیقات کرتے ہوئے اس کے 6 ماہ کے کال ڈیٹا ریکارڈس حاصل کرے گی اور اس میں ملوث دیگر افراد کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی ۔

TOPPOPULARRECENT