Friday , September 21 2018
Home / Top Stories / چندرا بابو نائیڈو نے مودی کے سحر کو چکنا چور کردیا ؟

چندرا بابو نائیڈو نے مودی کے سحر کو چکنا چور کردیا ؟

نائیڈو نے گجرات مسلم کش فسادات کے خلاف بھی آواز اٹھائی تھی
چیف منسٹر گجرات کی حیثیت سے استعفیٰ کیلئے تلگو دیشم نے زور دیا تھا
این ڈی اے سے علحدگی ، آندھرا پردیش کی بقاء کے لیے اہم فیصلہ
نائیڈو ، تلگو عوام کے ’’ مسیحا ‘‘ : تلگو دیشم قائدین کا احساس

فرقہ پرستوں کے بھاری بوجھ کو سیاسی کندھا دینے سے انکار ، بادشاہ گر کا ایک جراتمندانہ قدم
حیدرآباد ۔ 17 ۔ مارچ : ( سیاست نیوز ) : چیف منسٹر آندھرا پردیش و صدر تلگو دیشم این چندرا بابو نائیڈو نے بالاخر ’ اہل فرقہ پرست ‘ کے اس بھاری بوجھ کو مسلسل اپنا کندھا پیش کرنے سے انکار کر کے صاحبان فرقہ پرستوں کی اینٹ سے اینٹ بجا دی ہے ۔ مرکز کی مودی حکومت سے علحدگی اور تحریک عدم اعتماد کی پیشکشی کے جراتمندانہ فیصلہ کے بعد چندرا بابو نائیڈو نے 2014 سے ملک بھر میں فرقہ پرستوں کی جانب سے پیدا کردہ اس خیالی قلعہ کو کہ نریندر مودی کے سامنے کوئی پرندہ بھی پر نہیں مار سکتا ایک ہی جھٹکے میں مسمار کردیا ہے ۔ آندھرا پردیش ریاست کو خصوصی زمرہ کا موقف حاصل کرنے کی جدوجہد کرنے والے چیف منسٹر نائیڈو کو مرکزی حکومت کے رویہ نے یہ فیصلہ کرنے کی قوت عطا کردی کہ انہوں نے تلگو عوام کی غیرت اور عزت کو محترم مقام پر برقرار رکھتے ہوئے مودی حکومت کو اس کا مقام بتادیا ۔ اس فیصلہ سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ نائیڈو نے بی جے پی کو بری طرح پسپا کردیا ہے ۔ مودی کے حامیوں نے ملک بھر میں یہ ہوا کھڑا کردیا تھا کہ موودی کے سامنے کوئی آواز اٹھانے کی ہمت کرنے والا پیدا نہیں ہوا ہے ۔ لیکن نائیڈو نے تلگو عوام کے لیے مسیحائی کا کام کرتے ہوئے فرقہ پرستوں کو ان کی اوقات دکھا دی ۔ بظاہر یہ ایک سیاسی فیصلہ ہے مگر اس فیصلہ کی گہرائی سیکولر عوام کے دلوں کو راحت بخشے گی ۔ بی جے پی ، تلگو دیشم کے اتحاد میں عدم اعتماد کا بخار تیزی سے چڑھتا گیا تو نریندر مودی اور نائیڈو کے درمیان تعلقات بھی بے چینی اور دل شکنی کا شکار ہوگئے ۔ چندرا بابو نائیڈو نے اپنے قوت ارادی ، سیاسی بصیرت اور حوصلہ مندی کا ثبوت 2002 میں ہی دیا تھا جب انہوں نے گجرات مسلم کش فسادات کے فوری بعد نریندر مودی کی سرزنش کی تھی جب کہ چندرا بابو نائیڈو اس وقت کی این ڈی اے کے اہم رکن تھے انہوں نے برسر عام نریندر مودی کے خلاف اپنے موقف کا اظہار کرتے ہوئے گجرات مسلم کش فسادات کی مخالفت کی تھی ۔ اسی سال اپریل میں تلگو دیشم پولیٹ بیورو نے چیف منسٹر گجرات کی حیثیت سے نریندر مودی کے استعفیٰ کے لیے زور دیا تھا اور کہا تھا کہ گجرات میں مودی اقتدار پر رہنے کا اپنا اخلاقی حق کھو چکے ہیں ۔ تلگو دیشم نے اس وقت گجرات فسادات کے خلاف واجپائی حکومت کو بھی درپردہ دھمکی دی تھی اور کہا تھا کہ سیکولرازم ہی تلگو دیشم کا بنیادی اصول ہے اور اسی بنیادی شرائط پر تلگو دیشم نے این ڈی اے کا ساتھ دیا تھا ۔ اس مرتبہ خصوصی زمرہ کے موقف کے مسئلہ پر آندھرا پردیش میں اٹھنے والا طوفان دہلی پہونچ گیا ۔ مودی کے دعوؤں اور عملی اقدامات میں جب ہم آہنگی نہیں پائی گئی تو نائیڈو نے مودی حکومت کو اس کی حیثیت و اہمیت دکھا دی ۔ سیاسی حلقوں میں نائیڈو کے تدبر و فراست کے چرچے اکثر ہوتے رہتے ہیں ۔ وہ ’ بادشاہ گر ‘ سے بھی جانے جاتے ہیں ۔ اب کی بار انہوں نے مودی کے مضبوط قلعہ کو دہلا کر رکھدیا ہے ۔ آنے والے دنوں میں عام انتخابات کا ڈول ڈالا جائے گا ۔ اور سیاسی شطرنج بازی کی بساط بچھاتے ہوئے نائیڈو نے مودی کی بازی الٹ دینے کی تیاری کرلی ہے ۔ فرقہ پرستوں کی انا پرستی کو شدید ٹھیس پہونچاتے ہوئے سیاسی طاقت کا بھر پور مظاہرہ کرنے والے نائیڈو نے سیکولر ووٹوں کو مضبوط بنانے کی ایک نئی جہت دیدی ہے ۔ اسی طرح سیکولر پارٹیوں کے لیے بھی مودی حکومت کے خلاف ہمت دکھانے کا درس بھی ملتا ہے ۔ اب تمام سیکولر پارٹیوں کو اپنی سیاسی بلوغیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے مودی کے سحر کو توڑنے والے نائیڈو کے حوصلے کی مانند فرقہ پرستوں کی سیاسی کرسیاں خالی کرانے کی مہم میں سرگرم ہوجانا چاہئے ۔ تلگو دیشم کی این ڈی اے سے علحدگی اور مودی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد سے تلگو عوام میں نیا جوش و جذبہ پیدا ہونا یقینی ہے ۔ تلگو دیشم کے ارکان اسمبلی و پارلیمنٹ نے چندرا بابو نائیڈو کے اقدام کی زبردست ستائش کی ہے ۔ انہیں تلگو عوام کا مسیحا قرار دیا ہے ۔ نائیڈو نے اپنی ریاست کو فرقہ پرستوں سے بچالیا ہے ۔ تلگو دیشم لیڈر راجولے گوکلایلی سوریا راؤ نے نائیڈو کو پیدائشی عوامی خدمت گار قرار دیا ۔ ان کے علاوہ گاڈے رام موہن ( وجئے واڑہ ) پی سجاتا ( چنتلا پوڈی ) بی رامنا مورتی ( نرسنا پیٹ) نے بھی نائیڈو کی زبردست ستائش کی ہے ۔ آندھرا پردیش اسمبلی نے جمعرات کو ایک قرار داد منظور کرتے ہوئے نائیڈو کی 40 سالہ عوامی خدمت کی تکمیل پر مبارکباد دی ۔۔

TOPPOPULARRECENT