Wednesday , September 19 2018
Home / شہر کی خبریں / چندرا بابو نائیڈو کسانوں کے قرض کے وعدہ سے منحرف

چندرا بابو نائیڈو کسانوں کے قرض کے وعدہ سے منحرف

چیف منسٹر اے پی کا عوام کے ساتھ دھوکہ، جگن موہن ریڈی کی پریس کانفرنس

چیف منسٹر اے پی کا عوام کے ساتھ دھوکہ، جگن موہن ریڈی کی پریس کانفرنس
حیدرآباد /4 دسمبر (سیاست نیوز) صدر وائی ایس آر کانگریس جگن موہن ریڈی نے کسانوں کے قرضہ جات کی معافی کے وعدہ سے انحراف کا چیف منسٹر آندھرا پردیش چندرا بابو نائیڈو پر الزام عائد کیا۔ آج پارٹی ہیڈ کوارٹر پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ بحیثیت صدر تلگودیشم مسٹر نائیڈو نے کسانوں کے تمام قرضہ جات معاف کرنے کا وعدہ کیا تھا، تاہم کامیابی حاصل کرنے کے بعد قرضہ جات کی معافی کو مشروط بنادیا۔ انھوں نے الزام عائد کیا کہ پہلے تمام زرعی قرضہ جات معاف کرنے کا اعلان کیا گیا تھا، لیکن اب صرف کاشت کے لئے حاصل کردہ قرضہ جات کو معاف کرنے کا اعلان کیا جا رہا ہے۔ انھوں نے استفسار کیا کہ عوام کو گمراہ کرنے اور دھوکہ دینے والے چیف منسٹر آندھرا پردیش خود بتائیں کہ ان کے خلاف 420 یا 840 کونسا کریمنل مقدمہ درج کیا جائے؟۔ مسٹر جگن نے کہا کہ اقتدار حاصل کرنے کے بعد بحیثیت چیف منسٹر چندرا بابو نائیڈو نے کسانوں کے 87,612 کروڑ اور ڈاکرا گروپس کے 14,204 کروڑ روپئے قرض ہونے کا اعلان کیا تھا، مگر اب وہ انتخابی وعدہ سے منحرف ہوکر اور قرضوں کی معافی کو مشروط بناکر اعداد و شمار بھی الٹ پھیر کر رہے ہیں، جس کی وائی ایس آر کانگریس سخت مذمت کرتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ تلگودیشم کسانوں کو دھوکہ دے رہی ہے، جس کی وجہ سے کسانوں میں مایوسی پائی جا رہی ہے اور آندھرا پردیش میں اب تک 80 کسان خودکشی کرچکے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ صرف ضلع اننت پور میں اب تک 40 کسانوں نے خودکشی کی ہے، جس کے ذمہ دار چندرا بابو نائیڈو اور ان کی حکومت ہے۔ انھوں نے بتایا کہ حکومت کی عوام دشمن پالیسیوں کے خلاف 5 دسمبر کو وائی ایس آر کانگریس آندھرا پردیش کے 13 ضلعی ہیڈ کوارٹرس پر احتجاجی دھرنے منظم کرے گی۔ انھوں نے کہاکہ تلگودیشم نے ہر گھر کے ایک فرد کو ملازمت دینے اور بیروزگار نوجوانوں کو روزگار ملنے تک بھتہ دینے کا وعدہ کیا تھا، لیکن اقتدار کے 6 ماہ مکمل ہونے کے باوجود ایک بھی وعدہ پورا نہیں کیا گیا۔

TOPPOPULARRECENT