Friday , October 19 2018
Home / Top Stories / چندرا بابو نائیڈو کو راحت، عدالت میں شخصی حاضری سے استثنیٰ

چندرا بابو نائیڈو کو راحت، عدالت میں شخصی حاضری سے استثنیٰ

دھرم آباد کورٹ میں چیف منسٹر آندھراپردیش کی درخواست سماعت کے لیے قبول
حیدرآباد۔12 اکٹوبر (سیاست نیوز) چیف منسٹر آندھرا پردیش این چندر بابو نائیڈو کو آج مہاراشٹرا کی دھرماباد عدالت میں اس وقت راحت ملی جب عدالت نے جاری کردہ غیر ضمانتی وارنٹ واپس لینے سے متعلق درخواست کو قبول کرلیا اور چندرا بابو نائیڈو کو شخصی طور پر حاضری سے استثنیٰ دیا ہے۔ عدالت نے چندرا بابو نائیڈو اور دیگر تلگودیشم قائدین کے خلاف غیر ضمانتی وارنٹ جاری کرتے ہوئے حاضر ہونے کی ہدایت دی تھی۔ چیف منسٹر کی جانب سے دو روز قبل عدالت میں درخواست داخل کرتے ہوئے غیر ضمانتی وارنٹ واپس لینے کی اپیل کی گئی جس پر آج سماعت ہوئی۔ سپریم کورٹ کے سینئر وکیل سدھارت لوتھرا اور سبا رائو نے چندرا بابو نائیڈو کی جانب سے پیش ہوکر دلائل پیش کیے۔ مہاراشٹرا حکومت کی جانب سے گوداوری ندی پر بابلی پراجیکٹ کی تعمیر سے شمالی تلنگانہ کے خشک سالی سے متاثرہ علاقہ میں تبدیل ہونے کے استدلال کے ساتھ چندرا بابو نائیڈو کی قیادت میں احتجاج کیا گیا تھا۔ 17 جولائی 2010ء کو مہاراشٹرا کی دھرماباد پولیس نے نائیڈو اور دیگر تلگودیشم قائدین کے خلاف مقدمات درج کیے تھے۔ مقدمات کی سماعت کے موقع پر عدالت نے نائیڈو سمیت 16 دیگر قائدین کے خلاف غیر ضمانتی وارنٹ جاری کیا۔ عدالت نے 15 اکٹوبر کو سماعت کے موقع پر چندرا بابو نائیڈو اور دیگر قائدین کو شخصی طور پر حاضر ہونے کی ہدایت دی تھی۔ نائیڈو کی جانب سے داخل کی گئی ریکال پٹیشن کا جائزہ لیتے ہوئے عدالت نے چندرا بابو نائیڈو کو شخصی طور پر حاضری سے استثنیٰ دیا ہے۔ درخواست میں چیف منسٹر آندھراپردیش نے کہا کہ اس مقدمہ اور ان کے خلاف غیر ضمانتی وارنٹ کی اجرائی کے بارے میں انہیں میڈیا سے پتہ چلا ہے۔ سیاسی مقاصد کے تحت انہیں نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ مقدمہ سے متعلق سمن، نوٹس اور وارنٹ انہیں نہیں ملا ہے۔ کم ا ز کم چارج شیٹ کے ادخال تک بھی ایک نوٹس بھی نہیں دی گئی۔ نائیڈو نے اپنی درخواست میں کہا کہ پولیس کی جانب سے لگائے گئے دفعات سنگین نہیں لہٰذا عدالت غیر ضمانتی وارنٹ کو واپس لے سکتی ہے۔ واضح رہے کہ مقامی عدالت نے 5 جولائی 2018ء کو غیر ضمانتی وارنٹ جاری کیا تھا۔

TOPPOPULARRECENT