Friday , June 22 2018
Home / مضامین / چندرا بابو نائیڈو کی امیدوں پر پانی پھرگیا تلنگانہ میں سنگین برقی بحران

چندرا بابو نائیڈو کی امیدوں پر پانی پھرگیا تلنگانہ میں سنگین برقی بحران

نعیم وجاہت

نعیم وجاہت
آندھراپردیش کو ترقی کی بلندیوں تک پہنچانے کا عزم رکھنے والے چیف منسٹر این چندرابابو نائیڈو کو ہدہد طوفان نے مایوس کردیا۔ طوفان کی وجہ سے جہاں 29 افراد ہلاک ہوئے وہیں ابتدائی تخمینہ کے مطابق 70 ہزار کروڑ روپئے کے نقصانات کا اندازہ لگایا گیا ہے۔ ریاست کی تقسیم کے بعد آندھراپردیش کے عوام نے جگن موہن ریڈی کے مقابل چندرابابو نائیڈو کو اپنا لیڈر منتخب کرتے ہوئے انھیں آندھراپردیش کی تعمیر نو کی ذمہ داری سونپی۔ ریاست کی تقسیم کے بعد دارالحکومت حیدرآباد سے محروم ہونے کے بعد آندھراپردیش پہلے سے مالی بحران کا شکار تھا۔ تاہم آندھراپردیش میں تیز ترقی کیلئے قدرتی وسائل کی کمی نہیں ہے مثلاً سمندری پٹی، مچھلیوں کی افزائش، گیس کی فراہمی، لوہے کی فیاکٹری کے علاوہ دوسرے اور بھی کئی وسائل موجود ہیں جو آندھراپردیش کی ترقی و تعمیر میں اہم رول ادا کرسکتے ہیں۔ ساتھ ہی تلگودیشم این ڈی اے کی حلیف ہے۔

چندرابابو نائیڈو وزیراعظم نریندر مودی کے اچھے دوست بھی ہیں۔ اس کو بنیاد بناکر نائیڈو نے ترقی اور بہبود کی حکمت عملی تیار کی تھی۔ وجئے واڑہ اور گنٹور کا احاطہ کرتے ہوئے جہاں دارالحکومت بنانے کا فیصلہ کیا تھا وہیں وشاکھاپٹنم انفارمیشن ٹیکنالوجی کا مرکز بنانے کی منصوبہ بندی کی تھی۔ اس طرح آندھراپردیش کے 13 اضلاع میں ہر ضلع کیلئے کوئی نہ کوئی حکمت عملی تیار کی تھی۔ تقسیم کے بِل میں یو پی اے زیرقیادت مرکزی حکومت نے آندھراپردیش کو خصوصی ریاست کا درجہ دینے کے علاوہ کئی مرکزی ادارے قائم کرنے کی منظوری دی تھیں جنھیں ذہن میں رکھتے ہوئے چندرابابو نائیڈو نے ترقی اور تعمیر نو کی حکمت عملی مرتب کی تھی۔ تاہم قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ ہدہد طوفان نے چیف منسٹر آندھراپردیش کے تعمیری و ترقیاتی ارادوں کو متزلزل کردیا۔ ساحلی آندھرا علاقہ پوری طرح طوفان کی زد میں آگیا جس سے آندھراپردیش کو 70 ہزار کروڑ روپئے کا نقصان ہوا۔ کئی مواضعات کا عوامی زندگی سے رابطہ ٹوٹ گیا۔ برقی کے نقصانات کا تخمینہ ہی تقریباً ایک ہزار کروڑ روپئے لگایا گیا ہے۔ مواصلاتی نظام بھی درہم برہم ہوگیا، سڑکیں ناکارہ ہوگئیں، فصلیں تباہ ہوگئیں، بڑے پیمانے پر نقصانات ہوئے۔ تقسیم ریاست سے متاثر ہونے والے علاقہ آندھرا کو ہدہد طوفان نے ترقی کے میدان میں کافی پیچھے ڈھکیل دیا۔ وزیراعظم نریندر مودی نے وشاکھاپٹنم کا دورہ کرتے ہوئے طوفان کی تباہ کاریوں کا جائزہ لینے کے فوری بعد ایک ہزار کروڑ روپئے کی امداد کا اعلان کیا جو سورج کو چراغ دکھانے کے مماثل ہے۔ یہ رقم آندھراپردیش کی تعمیر نو کے لئے قطعی ناکافی ہے۔ آندھراپردیش کے دارالحکومت کی تعمیر کیلئے مرکزی حکومت کو بھاری فنڈس منظور اور جاری کرنا لازمی تھی وہیں ہدہد طوفان کی تباہ کاریوں نے مرکز پر زائد ذمہ داری ڈال دی۔ ساتھ ہی تلگودیشم این ڈی اے کی حلیف بھی ہے۔ اس کا بھی خیال رکھنا مرکزی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ چندرابابو نائیڈو نے مصیبت کے وقت عوام کے درمیان رہ کر اُن کا دل جیت لیا۔ پانچ لاکھ سے زائد افراد کو محفوظ مقامات منتقل کرتے ہوئے جانی نقصان کو کم سے کم کرنے میں چندرابابو نائیڈو نے زبردست کامیابی حاصل کی وہیں بنیادی سہولتوں کی فراہمی میں بھی غیرمعمولی رول ادا کیا۔ طوفان کے آنے سے قبل وشاکھاپٹنم پہونچنے والے چندرابابو نے تمام سرکاری عہدیداروں کی رخصت کو منسوخ کردیا اور اُنھیں عوام کی خدمت پر کمربستہ ہوجانے کی ہدایت دی۔ تقسیم ریاست اور ہدہد طوفان نے آندھراپردیش کی معیشت کو یقینا بُری طرح نقصان پہنچایا وہیں آندھراپردیش میں سرمایہ کاری کا ارادہ رکھنے والوں کو بھی زبردست جھٹکا لگا۔ سرمایہ کار اپنے فیصلوں پر ازسرنو غور کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ سرمایہ کاروں کا آئندہ اگر یہی رجحان رہے تو آندھراپردیش کی ترقی پر بھی اس کے منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ بحیثیت صدر تلگویشم پارٹی چندرابابو نائیڈو نے عام انتخابات سے قبل اپنے منشور میں کسانوں اور ڈواکرا خواتین کے قرض معاف کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ ہر گھر کو ایک ملازمت کا نعرہ دیتے ہوئے ملازمت حاصل ہونے تک نوجوانوں کو بے روزگاری بھتہ دینے کا بھی وعدہ کیا تھا جو مستقبل میں چیف منسٹر نائیڈو کے لئے بڑا چیلنج بن کر سامنے آسکتا ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا چندرابابو نائیڈو ان چیالنجس کا سامنا کرسکتے ہیں۔ آندھراپردیش کا سرکاری خزانہ مسائل سے نمٹنے کی اجازت دے گا۔ وزیراعظم نریندر مودی مشکلات سے نکالنے میں اپنی حلیف جماعت تلگودیشم سربراہ کا ساتھ دیں گے، حکومت تشکیل دینے کے صرف چار ماہ بعد آندھراپردیش میں تلگودیشم حکومت کے خلاف عوامی لہر پیدا ہوگی اور اپوزیشن جماعتوں کو اس سے فائدہ اُٹھانے کا بھرپور موقع ملے گا؟ یہ ایسے سوالات ہیں جو آندھراپردیش کے مستقبل کیلئے اہمیت کے حامل ہیں۔ بے شک چندرابابو نائیڈو باصلاحیت اور تجربہ کار لیڈر ہیں لیکن ان مسائل سے نمٹنے میں اُنھیں اپنی ساری توانائیاں جھونک دینی ہوگی۔ ریاست کی تقسیم ہوئی ہے تلگو عوام ایک ہی ہیں لہذا مصیبت کے وقت تلنگانہ حکومت اور عوام کی ذمہ داری ہے کہ وہ آندھراپردیش کے مصیبت زدہ عوام کی مدد کریں۔ آفات سماوی کو سیاسی نظر سے نہیں دیکھنا چاہئے۔

طوفان ہدہد نے ریاست تلنگانہ کو بھی برقی بحران کی شکل میں کافی پریشان کردیا ہے۔ اوڈیشہ سے برقی خریدنے میں تلنگانہ حکومت کو فنی دشواریوں کا سامنا ہے۔ ایسے میں کے سی آر حکومت کو برقی مسئلہ کی یکسوئی اور کسانوں کے خودکشی واقعات کو روکنے کیلئے خصوصی حکمت عملی مرتب کرنا بے حد ضروری ہے۔ ریاست تلنگانہ میں دن بدن برقی کی ضرورت میں اضافہ ہورہا ہے وہیں پیداوار میں کمی تشویشناک ہے۔ جس کی وجہ سے ریاست تلنگانہ برقی کے شدید بحران سے دوچار ہوگئی ہے۔

حکومت کی برقی بحران پر غیر واضح پالیسی نے عوام کو برہم کردیا ہے۔ اِس صورتحال سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کے خلاف محاذ کھول دیا ہے۔ کانگریس اور تلگودیشم بس یاترا کا آغاز کرتے ہوئے عوام بالخصوص کسانوں کی تائید حاصل کرنے میں مصروف ہوگئی ہیں۔ ٹی آر ایس حکومت نے بھی جوابی وار کرتے ہوئے برقی بحران کے لئے کانگریس اور تلگودیشم کو ذمہ دار قرار دیا ہے۔ چیف منسٹر تلنگانہ کے چندرشیکھر راؤ تلنگانہ کی تعمیر نو اور عوام کی فلاح و بہبود پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں۔ کامیاب طریقہ سے سروے کرانے کے بعد اب فوڈ سکیورٹی کارڈ کی اجرائی کا آغاز کیا ہے۔ بہت جلد ریونیو لینڈ کا سروے کرانے کا بھی ارادہ رکھتے ہیں۔ سروے میں انھیں تلنگانہ عوام کا پتہ چلا ہے۔ فوڈ سکیوریٹی کارڈس کی اجرائی کا مقصد بوگس راشن کارڈس کی منسوخی اور بوگس وظیفہ یابوں کا پتہ چلانا ہے تاکہ حکومت تلنگانہ پر جو زائد مالی بوجھ عائد ہورہا ہے اُس کو کسی بھی طرح سے کم کیا جاسکے۔ اسکالرشپس اور فیس ری ایمبرسمنٹ کے معاملہ میں بھی تلنگانہ حکومت صرف تلنگانہ کے طلبہ سے انصاف کرنا چاہتی ہے۔ چیف منسٹر تلنگانہ چندرشیکھر راؤ تلنگانہ کیلئے علیحدہ الیکشن کمیشن، علیحدہ پبلک سرویس کمیشن، علیحدہ ہائیکورٹ، علیحدہ بورڈ آف انٹرمیڈیٹ، علیحدہ آر ٹی سی کارپوریشن بنانا چاہتے ہیں تاکہ تلنگانہ کو فائدہ ہو اور آمدنی کے ذرائع میں اضافہ ہو۔

ہائیکورٹ کیلئے پردہ گیٹ اور ایرم منزل کے گیسٹ ہاؤز کا جائزہ لیا جارہا ہے۔ چیف منسٹر تلنگانہ نے اپنے دورے دہلی کے موقع پر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سے اس مسئلہ پر تبادلہ خیال کیا۔ تلنگانہ آر ٹی سی کارپوریشن کے لئے 1000 بسیں خریدنے کا فیصلہ کیا گیا اس کا لوگو بھی تبدیل کردیا جائے گا۔ آر ٹی سی بسوں پر موجود Z لفظ کو رکھا جائے گایا نہیں یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔ حکومت آندھراپردیش نے جب نظام سے ٹرانسپورٹ نظام کو اے پی ایس آر ٹی سی میں ضم کیا تھا تو تب Z لفظ بسوں کے نمبر پلیٹ پر رکھنے کا معاہدہ ہوا تھا۔ چیف منسٹر تلنگانہ نے آر ٹی سی کو نقصانات سے بچانے کے لئے 150 کروڑ روپئے جاری کرنے سے اتفاق کیا ہے۔ ساتھ ہی اُنھوں نے ایک اور تاریخی فیصلہ کرتے ہوئے زرعی سرگرمیوں کے لئے استعمال ہونے والے ٹریکٹرس اور آٹو کے ٹیکس کو بھی منسوخ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ٹی آر ایس حکومت عوام میں اپنی چھاپ چھوڑنے کی ہرممکن کوشش کررہی ہے مگر اپنے فیصلوں کو عوام تک پہنچانے اور اس کی مناسب طریقہ سے تشہیر کرنے میں ناکام ہورہی ہے جبکہ اپوزیشن جماعتیں حکومت کے خلاف عوام میں شعور بیدار کرنے میں کامیاب ہیں۔

TOPPOPULARRECENT