Thursday , November 23 2017
Home / Top Stories / !چندرا بابو نائیڈو کی بہو براہمنی سرگرم سیاست میں داخل 

!چندرا بابو نائیڈو کی بہو براہمنی سرگرم سیاست میں داخل 

خواتین کو یکساں حقوق دینے کا مطالبہ ، امراوتی نیشنل ویمنس پارلیمنٹ سے خطاب

امراوتی ۔ 11 ۔ فروری : ( سیاست نیوز ) : چیف منسٹر آندھرا پردیش این چندرا بابو نائیڈو کی بہو نارا براہمنی بھی اب سرگرم سیاست میں قدم رکھ رہی ہیں وہ آج امراوتی میں جاری پہلے نیشنل ویمنس پارلیمنٹ میں سب سے نمایاں رہیں ۔ اس کانکلیو میں سب کی توجہ براہمنی کی جانب سے مرکوز تھی ۔ براہمنی جو ہیرٹیج فوڈ کی ایگزیکٹیو ڈائرکٹر ہیں یہ کمپنی خاندان کی ملکیت ہے ۔ 3 روزہ کانکلیو کے دوسرے دن وہ اسٹیج پر نمودار ہوئیں اور خواتین کے حقوق کے حق میں پر اثر تقریر کی ۔ اس کانفرنس میں ہندوستان اور بیرون ہند سے خواتین پر مشتمل مندوبین شریک ہیں ۔ یہ خوبصورت بزنس ویمن نے خواتین کو با اختیار بنانے پر اپنے خیالات سے حاضرین کو واقف کروایا ۔ خواتین کو تعلیم دینے کی اہمیت پر زور دیا اور خواتین کو بااختیار بنانے اپنے ، دادا آنجہانی این ٹی راما راؤ اور خسر این چندرا بابو نائیڈو کی کوششوں کی جانب توجہ دلائی ۔ امراوتی کی تاریخ کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے اپنے والد این بالا کرشنا کی حالیہ ریلیز فلم گوتمی پترا سٹکرنی کا تذکرہ کیا ۔ انہوں نے کہا کہ امراوتی ایک مشہور تاریخی شہر ہے جس کے راجہ سٹکرنی تھے ۔ اسٹانڈ فورڈ گریجویٹ اسکول آف بزنس سے ایم بی اے کرنے والی براہمنی نے مزید کہا کہ خواتین کو یکساں حقوق دئیے جانے چاہئے اور پارلیمنٹ میں ہر خاتون رکن کو بھی مرد رکن پارلیمنٹ کی طرح یکساں درجہ اور مشاہیر دئیے جائیں ۔ خواتین کو آگے بڑھانے میں ان کے خاندان کی کوششوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خاندان میں ہمیشہ خواتین کی حوصلہ افزائی کی جاتی رہی ہے ان کی ساس این بھونیشوری ہیرٹیج فوڈ کی منیجنگ ڈائرکٹر ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں کئی دور اندیش اور ویژن رکھنے والے قائدین گذرے ہیں ۔ انہوں نے ریمارک کیا کہ ہم آج کے دور میں خواتین کے ساتھ روا امتیازی سلوک پر چشم پوشی اختیار نہیں کرسکتے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ کئی ترقی پذیر ملکوں سے بہت پہلے ہی سے ہندوستان میں خواتین کو حکومت اور ریاستوں کے سربراہوں کی حیثیت سے منتخب کیا گیا ہے لیکن مضبوط قوانین کے باوجود خواتین کو یکساں مشاہیر اور یکساں کام نہیں دیا جاتا ۔ حالیہ جائزہ سے پتہ چلتا ہے کہ صرف ہندوستان میں صرف 5 فیصد ہی کارپوریٹ سیکٹر میں اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں ۔ جب کہ عالمی تناسب 20 فیصد ہے ۔ انہوں نے ایقان ظاہر کیا کہ اپنی مدد آپ ہی خواتین کو بااختیار بناسکتا ہے ۔ انہوں نے خواتین پر زور دیا کہ وہ اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کریں ۔۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT