چندرا بابو کے خلاف کے سی آر کے نازیبا ریمارکس کی مذمت

تلنگانہ میں کسانوں کی خود کشی اور برقی بحران کے لیے ٹی آر ایس ذمہ دار ، اپوزیشن قائدین کا ردعمل

تلنگانہ میں کسانوں کی خود کشی اور برقی بحران کے لیے ٹی آر ایس ذمہ دار ، اپوزیشن قائدین کا ردعمل
حیدرآباد ۔ 25 ۔ اکٹوبر : ( پی ٹی آئی ) : تلنگانہ کے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کو کانگریس ، تلگو دیشم اور بی جے پی کے بشمول مختلف اپوزیشن جماعتوں نے ریاست میں 300 کسانوں کی خود کشی کا سبب بننے والے برقی بحران کے لیے ذمہ دار قرار دیتے ہوئے سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور آندھرا پردیش کے چیف منسٹر این چندرا بابو نائیڈو کے خلاف گذشتہ شام استعمال کردہ ناشائستہ الفاظ کی مذمت کی ۔ تلنگانہ کی اپوزیشن جماعتوں اور آندھرا پردیش کی حکومت نے چیف منسٹر کے سی آر کی سخت مذمت کی جو ( کے سی آر ) برقی صورتحال پر اپنے آندھرائی ہم منصب این چندرا بابو نائیڈو کے خلاف نازیبا و ناشائستہ ریمارکس کرنے کے لیے مشہور ہیں ۔ نو قائم شدہ ریاست میں جاری برقی بحران کے لیے چندرا بابو نائیڈو کو مورد الزام ٹھہراتے ہوئے کے سی آر نے کل رات اولا ذکر ( نائیڈو ) کے خلاف انتہائی ناشائستہ زبان استعمال کیا تھا ۔ اپوزیشن جماعتوں نے کے سی آر کے ان ناشائستہ ریمارکس اور دشنام طرازی کو آج مسترد کردیا ۔ تلگو دیشم ، کانگریس اور بی جے پی قائدین نے علحدہ طور پر منعقدہ پریس کانفرنسوں سے خطاب کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ’ کے سی آر دراصل دوسروں کو مورد الزام ٹھہراتے ہوئے صرف اپنی ناکامیوں کی پردہ پوشی کرنے کی کوشش کررہے ہیں ‘
چندرا بابو کے خلاف کے سی آر کے نازیبا ریمارکس کی مذمت ان قائدین نے سوال کیا کہ ’ گذشتہ چار ماہ کے دوران انہوں ( کے سی آر ) نے ریاست میں برقی بحران سے نمٹنے کے لیے کیا کیا ہے ؟ انہوں نے کچھ نہیں کیا اور یہی وجہ ہے کہ ٹی آر ایس کی چار ماہ کی حکمرانی میں اب تک 300 کسان خود کشی کرچکے ہیں‘ ۔ تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر پونالہ لکشمیا نے کہا کہ ’ پولیس ریکارڈس کہتے ہیں کہ تلنگانہ میں گذشتہ چار ماہ کے دوران 318 کسان خود کشی کرچکے ہیں ۔ صرف دیوالی کے روز ہی 14 کسانوں نے اپنی جان لے لی اور چیف منسٹر اس حقیقت پر نادان ہیں ‘ ۔ پونالہ لکشمیا نے استفسار کیا کہ حکومت آندھرا پردیش اے پی تنظیم جدید قانون کی اگر خلاف ورزی کرہی رہی تھی تو ان تمام دن اور مہینے کے سی آر کیا کررہے تھے ؟ انہوں نے اپوزیشن کے ساتھ مل کر ان خلاف ورزیوں سے صدر جمہوریہ اور مرکز کو باخبر کیوں نہیں کیا ‘‘ ۔ تلنگانہ قانون ساز کونسل میں قائد اپوزیشن ڈی سرینواس نے تو چندرا بابو کی تعریف ہی کردی اور کہا کہ انہوں نے ( چندرا بابو ) آندھرا پردیش میں برقی بحران سے نمٹنے کے لیے موثر اقدامات کیا تھا لیکن تلنگانہ کے چیف منسٹر کے چندرشیکھر راؤ نے ایسا نہیں کیا اور اب اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے دوسروں پر الزامات عائد کررہے ہیں ۔ تلنگانہ بی جے پی یونٹ کے صدر جی کشن ریڈی نے کہا کہ ’ کے سی آر نے ’سنہرے تلنگانہ ‘ کا وعدہ کیا تھا لیکن انہوں نے ریاست کو خود کشیوں کے تلنگانہ میں تبدیل کردیا ہے ۔ چیف منسٹر اب خود یہ کہہ رہے ہیں کہ تلنگانہ میں آئندہ تین سال تک برقی بحران جاری رہے گا ۔ تلگو دیشم قائدین ای دیاکر راؤ ، آر چندر شیکھر ریڈی اور ای پدی ریڈی نے تلنگانہ میں برقی بحران کا جائزہ لینے فی الفور کل جماعتی اجلاس کی طلبی کا مطالبہ کیا ۔

TOPPOPULARRECENT