Saturday , December 15 2018

چندرشیکھر راؤ ۔ مبارک باشد

ایک اک نقش مجھ میں روشن ہے ایک چٹان بن کے آیا ہوں چندرشیکھر راؤ ۔ مبارک باشد

ایک اک نقش مجھ میں روشن ہے
ایک چٹان بن کے آیا ہوں
چندرشیکھر راؤ ۔ مبارک باشد
ملک کی 29 ویں ریاست تلنگانہ کے نئے چیف منسٹر کے چندرشیکھر راؤ نے اپنے مقصد کو حاصل کرلیا ہے۔ 2001ء میں علحدہ ریاست تلنگانہ کیلئے تحریک شروع کرکے اس تحریک کو تاریخی بنادیا۔ میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا کہ مصداق انہوں نے اپنی تحریک کو بام عروج پر اس وقت پہنچایا تھا جب بھوک ہڑتال شروع کرکے ساری دنیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کرلی تھی۔ قومی میڈیا نے ابتداء میں ان کی تحریک کو اہمیت نہیں دی جب انہوں نے 2009ء میں اپنی ہمت اور حوصلہ کو مزید مضبوط کرنے کیلئے بھوک ہڑتال کی تو مرکز کی بنیادیں ہل گئیں۔ 60 سالہ چندرشیکھر راؤ جو کے سی آر سے مقبول ہیں، اپنی 14 سالہ جدوجہد کا ثمر حاصل کرچکے ہیں۔ انہیں اپنی ریاست کے عوام کے لئے دیکھے گئے خوابوں کو شرمندہ تعبیر دینا ہے۔ بہت بڑا خواب یعنی تلنگانہ کا قیام شرمندہ تعبیر ہوچکا ہے تو اس علاقہ کی پسماندگی کو دور کرنا دوسرا ضروری کاز ہے۔ اس تحریک میں حصہ لے کر تلنگانہ زندہ باد کا نعرہ بلند کرنے والا ہر تلنگانہ باشندہ کو بھی اس نئی ریاست کی ترقی میں حصہ ملنا ضروری ہے۔ تلنگانہ کو آندھرائی غلبہ سے آزاد کرا لیا گیا ہے اس کی ترقی کے لئے وقت تو درکار ہے

جتنی شدت کے ساتھ تحریک کو مضبوط بنایا گیا اس سے زیادہ شدت کے ساتھ تلنگانہ کی ترقی کو یقینی بنانا نئی حکومت کے ہر رکن کا فرض ہے۔ نئی کابینہ میں کے سی آر نے حسب وعدہ ایک مسلم اور ایک دلت لیڈر کو ڈپٹی چیف منسٹر کا عہدہ دیا ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر کی حیثیت سے جناب محمد محمود علی کو تحریک سے اٹوٹ وابستگی کا صلہ ضرور ملا ہے انہیں اپنی ٹیم کے ساتھ مل کر اقلیتوں کے لئے کئی کام انجام دینے ہیں۔ اقلیتی امور کا جہاں تک تعلق ہے اس کی ذمہ داری اگرچیکہ چیف منسٹر کے سی آر نے اپنی ذمہ لی ہے تو انہیں اپنے وعدوں اور منصوبوں کے مطابق تلنگانہ کے مسلمانوں، مسلم نوجوانوں اور خواتین کے لئے ترقیاتی اقدامات کرنے ہوں گے۔ تلنگانہ تحریک کو 1969-72ء سے شروع کیا گیا تھا مگر 2004ء سے اس تحریک کو نئی سمت عطا کرکے کے سی آر نے ناقابل تسخیر مسئلہ کو حل کرالیا۔ نئی ریاست تلنگانہ کی نئی حکومت کو عوام کی بھرپور حمایت حاصل ہے جو حکومت اخلاقی برتری، عوامی خدمت اور قانون کی حکمرانی کی بناء پر اپنے پاؤں پہ کھڑی ہوگی وہ ترقی کی منزلیں بھی آسانی سے طئے کرے گی۔ چیف منسٹر چندرشیکھر راؤ نے تلگو کی دو ریاستوں اور عوام کے ساتھ دوستانہ تعلقات کو خوشگوار بنانے کا عہد کیا ہے۔ باہمی دوستی اور بھائی چارگی سے ہی ہر علاقہ ترقی کرسکتا ہے۔ آندھراپردیش کے چیف منسٹر کی حیثیت سے 8 جون کو حلف لینے والے صدر تلگودیشم چندرا بابو نائیڈو نے چندرشیکھر راؤ کو مبارکباد پیش کرکے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے اور اپنی حلف برداری تقریب میں شرکت کی دعوت دی ہے۔ اس طرح کے خوشگوار تعلقات کو پڑوسی ریاست میں فروغ دیا جاتا ہے تو اس کا عوام کے سیاسی نفسیات پر کافی مثبت اثر ہوگا۔ وزیراعظم نریندر مودی نے بھی چندرشیکھر راؤ کو مبارکباد پیش کرکے مرکز کی جانب سے ہر ممکنہ تعاون کا پیشکش کیا ہے۔ نئی ریاست کے اپنے کئی نئے اور پرانے مسائل ہیں ان کو ایک ایک کرکے حل کرنے کی کوشش کی جانی چاہئے۔ مسلمانوں کو بھی تلنگانہ کے حصول کا ثمر ملنا چاہئے۔ تلنگانہ عوام کو اب تک تقریروں کے ذریعہ ہی حوصلہ بخشا گیا ہے۔ لہٰذا نئی حکومت میں تقریریں، ہڑتالیں، بند اور احتجاج کے بجائے صرف کام، کام اور کام پر دھیان دینا ہوگا۔

تلنگانہ میں برقی کا مسئلہ، شہر حیدرآباد میں پانی کا مسئلہ، بے ہنگم ٹریفک، گنجان آبادیوں کا مسئلہ سنگین بنتا جارہا ہے۔ شہر حیدرآباد کو عالمی درجہ کا شہر بنانے کے اب تک وعدے اور دعویٰ ہوتے رہے ہیں۔ نئے چیف منسٹر نے بھی عزم ظاہر کیا ہیکہ حیدرآباد کو عالمی خطوط پر ترقی دیں گے۔ چندرشیکھر راؤ نئی ریاست کے نئے چیف منسٹر ہیں تو ان میں ایک نئے اور بدلے ہوئے چیف منسٹر کی تمام خوبیوں کو بروئے کار لانا ہوگا۔ سچ تو یہ ہیکہ انہیں تلگو بولنے والے عوام کے درمیان نفرت کی دیوار کو بلند کرنے کی اجازت نہیں دینی ہوگی۔ حکمرانی کے فرائض کی انجام دہی میں ان کے سامنے کئی مسائل اور مشکلات آئیں گے لیکن انہوں نے سب سے اہم مسئلہ حل کرکے دکھایا ہے تو ماباقی مسائل ان کے لئے کوئی مشکل ثابت نہیں ہوں گے، انہیں ماضی کی بے رحم تاریخ کو بھول کر واضح اکثریت کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا ہے تو عوام کی ہر پریشانی اور مشکل کو دور کرکے ان کی ہر خواہش کو پورا کرنے کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ انہیں تلنگانہ کی ہوائیں سلام کرتی ہیں۔ نئی حکومت کو سیاسی وابستگیوں اور سفارشوں سے بالاتر ہوکر کام کرنے کی عادت ڈالنی ہوگی۔ حلف لینے کے بعد چندرشیکھر راؤ نے کرپشن سے پاک حکمرانی کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے تو ہر سرکاری ادارہ سے کرپٹ اور ناکارہ لوگوں کو نکال باہر پھینکنا ہوگا۔ ریاست میں پولیس کے نظام کو بھی مؤثر بنانے کیلئے اس محکمہ کو سیاسی اثر سے آزاد کرانا ہوگا۔ تعلیم سب کے لئے، روزگار سب کیلئے نعرے کے ساتھ مسلم نوجوانوں کے مستقبل کی فکر کرنا نئے چیف منسٹر کی اولین ذمہ داری ہونی چاہئے۔ اپنے سینے پر تمغہ تلنگانہ لگانے لینے والے چیف منسٹر کو ایک تمغہ حسن کارکردگی درکار ہے۔ مبارک باشد

TOPPOPULARRECENT