Monday , June 18 2018
Home / شہر کی خبریں / چندر شیکھر راؤ کی گورنر سے دوسرے دن بھی ملاقات

چندر شیکھر راؤ کی گورنر سے دوسرے دن بھی ملاقات

تلنگانہ میں اعلی کورسیس میں داخلوں ‘ بیوروکریٹس کی تقسیم و دیگر مسائل پر نمائندگی

تلنگانہ میں اعلی کورسیس میں داخلوں ‘ بیوروکریٹس کی تقسیم و دیگر مسائل پر نمائندگی

حیدرآباد 19 مئی (سیاست نیوز) ٹی آر ایس کے سربراہ کے چندرا شیکھر راو نے آج ریاستی گورنر ای ایس ایل نرسمہن سے ملاقات کی ۔ گزشتہ دو دن کے دوران کے سی آر کی گورنر سے یہ مسلسل دوسرے دن ملاقات ہے۔ اس ملاقات کے بارے میں سیاسی حلقوں میں مختلف اندازے قائم کئے جارہے ہیں۔ تلنگانہ راشٹرا سمیتی کے قائدین نے ملاقات کی توثیق کی۔ تاہم گورنر کے ساتھ ہوئی بات چیت کے بارے میں کچھ بھی کہنے سے گریز کیا ہے۔ واضح رہے کہ چندر شیکھر راؤ نے کل پارٹی کے نومنتخب ارکان اسمبلی کے ساتھ گورنر سے ملاقات کی تھی تاکہ انہیں لیجسلیچر پارٹی کے فیصلے سے واقف کرایا جائے۔ لیجسلیچر پارٹی نے چندر شیکھر راؤ کو متفقہ طور پر اپنا قائد منتخب کیا۔ پہلی ملاقات میں ریاست کی تقسیم کی صورت میں تلنگانہ کے ساتھ امکانی ناانصافیوں کے سلسلہ میں گورنر کو ایک یادداشت پیش کی گئی تھی۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ آج کی ملاقات میں کے سی آر نے ریاست کی تقسیم کے باوجود آئندہ دس برسوں تک اعلیٰ کورسس میں داخلوں کیلئے موجودہ سسٹم کی برقراری کے مسئلہ پر نمائندگی کی۔ واضح رہے کہ گورنر نے اعلیٰ سطحی اجلاس میں موجودہ تعلیمی نظام کو آئندہ دس برسوں تک جاری رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ ٹی آر ایس کا ماننا ہے کہ اس فیصلہ سے تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے طلباء سے ناانصافی ہوگی۔ چندر شیکھر راؤ نے کسی بھی رکن اسمبلی یا سینئر قائد کے بغیر تنہا گورنر سے ملاقات کی اور مختلف مسائل پر ان سے نمائندگی کی ۔

بتایا جاتا ہے کہ ملازمین کی تقسیم اور دفاتر کی تقسیم کے سلسلہ میں بھی کے سی آر نے گورنر کو اپنے موقف سے آگاہ کیا۔ سیول سرویس اور آئی پی ایس عہدیداروں کی تقسیم کے مسئلہ پر بھی کے سی آر نے اپنے موقف سے گورنر کو واقف کرایا ۔ حکومت کی جانب سے سیما آندھرا ملازمین کو تلنگانہ میں کام کرنے کی اجازت سے متعلق آپشن کی فراہمی کے خلاف بھی کے سی آر نے گورنر سے نمائندگی کی ہے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق ریاست کی تقسیم کے بعد دونوں ریاستوں میں برقی اور پانی کی سربراہی کا مسئلہ بھی اس ملاقات میں اہم موضوع رہا۔ کے سی آر نے دونوں ریاستوں کیلئے مشترکہ امتحانات کے انعقاد کی مخالفت کی اور دونوں ریاستوں کیلئے علحدہ علحدہ امتحانات کے انعقاد کا مطالبہ کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ تلنگانہ کے متوقع پہلے چیف منسٹر کے سی آر نے گورنر سے اس بات کی خواہش کی کہ وہ یوم تاسیس کی تاریخ کو پیشگی کرنے کیلئے مرکز سے نمائندگی کریں کیونکہ انتخابی نتائج کے بعد اسمبلی کی تشکیل اور نئی حکومت کے قیام کیلئے ٹی آر ایس کو دو ہفتہ انتظار کرنا پڑے گا۔

TOPPOPULARRECENT