Tuesday , June 26 2018
Home / Top Stories / چندر شیکھر راؤ ‘ انتخابی حکمت عملی طئے کرنے میں مصروف

چندر شیکھر راؤ ‘ انتخابی حکمت عملی طئے کرنے میں مصروف

حیدرآباد۔/31ڈسمبر، ( سیاست نیوز) جیسے جیسے عام انتخابات قریب آرہے ہیں ٹی آر ایس کے سربراہ چندر شیکھر راؤ انتخابی حکمت عملی طئے کرنے میں مصروف ہیں۔ پارٹی کے باوثوق ذرائع نے بتایا کہ علحدہ ریاست کی تشکیل اور تلنگانہ میں ٹی آر ایس کا مضبوط موقف دیکھتے ہوئے چندر شیکھر راؤ نے بیک وقت لوک سبھا اور اسمبلی کیلئے مقابلہ کرنے کی تیاری کررہے ہی

حیدرآباد۔/31ڈسمبر، ( سیاست نیوز) جیسے جیسے عام انتخابات قریب آرہے ہیں ٹی آر ایس کے سربراہ چندر شیکھر راؤ انتخابی حکمت عملی طئے کرنے میں مصروف ہیں۔ پارٹی کے باوثوق ذرائع نے بتایا کہ علحدہ ریاست کی تشکیل اور تلنگانہ میں ٹی آر ایس کا مضبوط موقف دیکھتے ہوئے چندر شیکھر راؤ نے بیک وقت لوک سبھا اور اسمبلی کیلئے مقابلہ کرنے کی تیاری کررہے ہیں۔ پارٹی کے باوثوق ذرائع نے بتایا کہ چندر شیکھر راؤ آندھرا پردیش اور ساتھ ہی ساتھ قومی سیاست میں بھی اہم رول ادا کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔ گزشتہ چند دنوں میں کے سی آر نے میدک کے جگدیو پور میں واقع اپنے فارم ہاوز میں پارٹی کے سینئر قائدین سے انتخابی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ چندر شیکھر راؤ نے حلقہ لوک سبھا میدک اور اسی ضلع کے گجویل اسمبلی حلقہ سے مقابلہ کا فیصلہ کیا ہے۔ پارٹی سینئر قائدین سے مشاورت کے بعد ہی انہوں نے یہ فیصلہ کیا تاکہ میدک ضلع میں ٹی آر ایس کے موقف کو مستحکم کیا جاسکے۔ چندر شیکھر راؤ فی الوقت حلقہ لوک سبھا محبوب نگر کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اس سے قبل وہ کریم نگر سے بھی منتخب ہوئے تھے۔ حلقہ لوک سبھا میدک سے وجئے شانتی 2009ء میں منتخب ہوئیں تاہم حالیہ عرصہ میں انہوں نے اسی حلقہ سے دوبارہ ٹکٹ نہ دیئے جانے کے اشارے پر پارٹی سے بغاوت کردی۔ لہذا اس نشست پر خود کے سی آر مقابلہ کرنے کی تیاری کررہے ہیں۔ پارٹی کے ذرائع نے بتایا کہ تلنگانہ جاگرتی کی صدر اور کے سی آر کی دختر کویتا توقع ہے کہ حلقہ لوک سبھا نظام آباد سے مقابلہ کریں گی جبکہ ان کے فرزند کے ٹی راما راؤ اپنے موجودہ اسمبلی حلقہ سرسلہ ( کریم نگر ) سے ہی دوبارہ مقابلہ کرسکتے ہیں۔دلچسپ بات تو یہ ہے کہ میدک سے زیادہ کریم نگر ضلع میں ٹی آر ایس کا موقف مستحکم ہے اور عوامی نمائندوں کے اعتبار سے بھی میدک دیگر اضلاع سے پیچھے ہے۔بتایا جاتا ہے کہ پارٹی نے تلنگانہ کے 10اضلاع میں حال ہی میں ایک سروے کا اہتمام کیا جس کے ذریعہ پارٹی کے موقف کا جائزہ لیا گیا۔ سروے میں بتایا گیا کہ میدک ضلع میں پارٹی کا موقف مستحکم ہوا ہے اور اگر کے سی آر خود اس ضلع سے مقابلہ کریں گے تو منتخب عوامی نمائندوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوگا۔ کے سی آر کا آبائی موضع جگدیوپور حلقہ اسمبلی گجویل کے تحت آتا ہے۔

میدک کے 10اسمبلی حلقوں میں سنگاریڈی، نرسا پور، نارائن کھیڑ، گجویل، ظہیرآباد، اندول، سدی پیٹ، میدک، پٹن چیرو اور دوباک شامل ہیں جبکہ ضلع میںدو پارلیمانی حلقے ہیں جن میں میدک کے علاوہ ظہیرآباد شامل ہیں۔ پارٹی ظہیرآباد لوک سبھا نشست سے بھی کسی مضبوط امیدوار کو میدان میں اُتارنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ اس حلقہ سے فی الوقت کانگریس کے سریش شیٹکر نمائندگی کررہے ہیں۔ظہیرآباد لوک سبھا حلقہ میں نظام آباد کے بعض اسمبلی حلقے شامل ہیں۔ میدک کے 10اسمبلی حلقوں میں 2009ء کے انتخابات میں صرف ایک ہی نشست سدی پیٹ پر ہریش راؤ بھاری اکثریت سے منتخب ہوئے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ ضلع میں کانگریس کے بعض ارکان اسمبلی دوبارہ نشست کے تیقن کی صورت میں ٹی آر ایس میں شمولیت کیلئے تیار ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کے سی آر خود دوبارہ ضلع میدک پر اپنا سیاسی تسلط قائم کرنے کے لئے کوشاں ہیں۔ گجویل اسمبلی حلقہ سے کانگریس کے نرسا ریڈی گزشتہ انتخابات میں منتخب ہوئے لیکن حالیہ تلنگانہ تحریک میں ٹی آر ایس کے موقف میں استحکام ہوا ہے۔پارٹی ذرائع نے مزید بتایا کہ تلنگانہ میں زائد لوک سبھا نشستوں پر کامیابی اور مرکز میں تشکیل حکومت میں اہم رول کی صورت میں کے سی آر اپنی لوک سبھا کی نشست کو برقرار رکھیں گے۔

TOPPOPULARRECENT