Saturday , January 20 2018
Home / جرائم و حادثات / چھتہ بازار میں تاجر کا سفاکانہ قتل

چھتہ بازار میں تاجر کا سفاکانہ قتل

حیدرآباد /10 ڈسمبر ( سیاست نیوز ) حیدرآباد شہر کے علاقہ چھتہ بازار میں آج ایک شخص پر حملہ کرتے ہوئے اسے ہلاک کردیا گیا تاہم قاتل کے ارادوں سے مقتول نے کل رات ہی میرچوک پولیس کو واقف کروایا تھا ۔ رقمی لین دین کو قتل کی وجہ قرار دیا جارہا ہے اور مشتبہ قاتل حسن جعفری پر فینانسر ہونے کا الزام ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ 24 سالہ محمد جاوید جو چندا نگ

حیدرآباد /10 ڈسمبر ( سیاست نیوز ) حیدرآباد شہر کے علاقہ چھتہ بازار میں آج ایک شخص پر حملہ کرتے ہوئے اسے ہلاک کردیا گیا تاہم قاتل کے ارادوں سے مقتول نے کل رات ہی میرچوک پولیس کو واقف کروایا تھا ۔ رقمی لین دین کو قتل کی وجہ قرار دیا جارہا ہے اور مشتبہ قاتل حسن جعفری پر فینانسر ہونے کا الزام ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ 24 سالہ محمد جاوید جو چندا نگر یاقوت پورہ علاقہ کا ساکن تھا ۔ آج صبح جب وہ اپنی دوکان کھولنے چھتہ بازار پہونچا اور جیسے ہی اس نے دوکان کھولی اس پر تقریباً 2 تا 3 افراد نے چاقووں سے حملہ کرتے ہوئے شدید زخمی کردیا تاہم شدید زخمی حالت میں جاوید کو عثمانیہ جنرل ہاسپٹل منتقل کیا گیا جہاں علاج کے دوران شام تقریباً 5 بجے محمد جاوید زخموں سے جانبر نہ ہوسکا جاوید کی چھتہ بازار میں پرنٹنگ پریس کی دکان تھی اور اس پر حملہ کرنے والا حسن جعفری بھی اسی علاقہ میں دوکان چلایا کرتا تھا ۔ دونوں میں رقمی لین دین کا معاملہ تھا ۔ جاوید کے خاندانی ذرائع کے مطابق اس رقمی لین دین کے تعلق سے دونوں میں بحث و تکرار گذشتہ چند روز سے جاری تھی اور گذشتہ روز حسن نے جاوید کو جان سے مار دینے کی دھمکی بھی دی تھی اور اس بات پر پریشان جاوید اپنے رشتہ داروں کے ہمراہ کل رات میرچوک پولیس اسٹیشن سے رجوع ہوا تھا اور اس بات کا تذکرہ کیا اور پولیس کو حسن کے ناپاک ارادوں سے واقف کروایا تھا ۔ مقتول جاوید کے بھائی محمد رفیق نے بتایا کہ ایک سال قبل ان کے بھائی نے حسن سے ایک لاکھ روپئے قرض لیا تھا اور انہوں نے حسن پر الزام لگایا کہ وہ 15 تا 20 فیصد شرح سود پر قرض دیا کرتا ہے۔ ایک سال تک ان کے بھائی جاوید نے بڑی مشکل سے شرح سود کی اقساط ادا کی اور جس کے بعد اس نے 50 ہزار اصل رقم حسن کو واپس کردیا ۔

باوجود اس کے ہراسانی جاری تھی اور حسن بے وقت دوکان پہونچکر بدسلوکی اور دل آزاری کیا کرتا تھا ۔ کل رات پولیس سے رجوع ہونے کے بعد آج صبح اس نے ان کے بھائی کو قاتلانہ حملہ کرتے ہوئے ہلاک کردیا جبکہ ان کے بھائی نے اصل رقم سے زائد مقدار میں سود کی رقم ادا کردی تھی اور حسن کی ہراسانی سے تنگ آچکا تھا ۔ محمد جاوید یاقوت پورہ علاقہ کے ساکن محمد معین الدین کا بیٹا تھا اور چھتہ بازار میں معین پرنٹرس دوکان چلایا کرتا تھا ۔ تقریباً 12 سال سے ان کی دوکان چھتہ بازار میں موجود ہے ۔ اس خصوص میں میر چوک پولیس کا کہنا ہے کہ مبینہ قاتل حسن بھی چھتہ بازار میں پرنٹنگ پریس چلایا کرتا ہے ۔ تاہم پولیس نے قطعی طور پر اس کو فینانسر قرار نہیں دیا اور کہا کہ حسن چٹھی کا کاروبار کرتا ہے اور گذشتہ 4 تا 5 ماہ سے جاوید نے اسے چٹھی کی رقم ادا نہیں کی تھی جس پر دونوں کے درمیان تعلقات خراب ہوگئے ۔ پولیس مقتول کے قاتل حسن کے ناپاک ارادے سے واقف ہونے کے باوجود اس کے خلاف فوری کارروائی کرنے سے قاصر رہی ۔ اس قتل کی واردات میں پولیس کی مبینہ لاپرواہی اور کارکردگی پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے ۔ میر چوک پولیس نے قتل کا مقدمہ درج کرلیا ہے اور قاتل کی تلاش شروع کردی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT