Saturday , December 15 2018

چھتیس گڑھ میں مخبر کی گمراہ کن اطلاع پر انکاؤنٹر کا واقعہ

رائے پور۔/3فبروری، ( سیاست ڈاٹ کام ) چھتیس گڑھ کے ضلع کنکیر میں ماویسٹوں کی جانب سے گھات لگاکر کئے گئے حملہ میں 2پولیس ملازمین بشمول ایک اسٹیشن ہاوز آفیسر کی ہلاکت کے واقعہ کی تحقیقات شروع کردی گئی ہے جبکہ پولیس کو شبہ ہے کہ انفارمر ( مخبر ) نے گشتی دستہ کو جال میں پھانسنے کیلئے گمراہ کیا ہوگا۔ ایڈیشنل ڈائرکٹر جنرل پولیس ( انسداد نکسلا

رائے پور۔/3فبروری، ( سیاست ڈاٹ کام ) چھتیس گڑھ کے ضلع کنکیر میں ماویسٹوں کی جانب سے گھات لگاکر کئے گئے حملہ میں 2پولیس ملازمین بشمول ایک اسٹیشن ہاوز آفیسر کی ہلاکت کے واقعہ کی تحقیقات شروع کردی گئی ہے جبکہ پولیس کو شبہ ہے کہ انفارمر ( مخبر ) نے گشتی دستہ کو جال میں پھانسنے کیلئے گمراہ کیا ہوگا۔ ایڈیشنل ڈائرکٹر جنرل پولیس ( انسداد نکسلائیٹس کارروائی ) مسٹر آر کے وج نے بتایا کہ بنڈے پولیس اسیشن کے حدود میں کل سیکورٹی فورسیس اور انتہا پسندوں کے درمیان پیش آئے انکاؤنٹر کی تحقیقات شروع کردی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ تحقیقات طلب ہے کہ پولیس کو کس نوعیت کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں کیونکہ مہلوک پولیس ملازمین کو موصولہ اطلاعات کی بنیاد پر نکسلائیٹس کے خلاف تلاشی مہم شروع کی گئی تھی۔ واضح رہے کہ ہوال براس اور پنوار دیہاتوں کے درمیان گھنے جنگل میں کل شام نکسلائیٹس کے حملہ میں بنڈے پولیس اسٹیشن کے SHO اویناش شرما اور اسسٹنٹ کانسٹبل سونو رام گاوڈے ہلاک ہوگئے تھے جبکہ 6سیکوریٹی اہلکار بشمول بی ایس ایف اسسٹنٹ کمانڈنٹ اور دو دیہاتی زخمی ہوگئے۔ ایڈیشنل ڈائرکٹر جنرل پولیس نے بتایا کہ اروند شرما ایک بہادر اور نڈر آفیسر تھے اور سابق میں ماویسٹوں کے خلاف انکاونٹر میں شامل تھے۔ ریاستی حکومت نے عہدہ کے قطع نظر ایوارڈ دینے کا فیصلہ کیا تھا

اور انہیں بہت جلد ترقی دی جانے والی تھی۔ ایک سینئر آفیسر کی حیثیت سے اروند شرما کی قیادت میں10سیکورٹی اہلکار 5 موٹر سیکلوں پر سوار ہوکر رائے پور سے 250کلو میٹر دور واقع ہوال براس گاؤں کی سمت گشت پر نکلے تھے اور جب گشتی دستہ ( پٹرولنگ پارٹی) ہوال براس گاؤں عبور کرگیا دیکھا کہ سڑک کی بائیں جانب چند نوجوان کرکٹ کھیل رہے ہیں۔ دریں اثناء گھنے جنگل کے دائیں جانب سے فائرنگ شروع ہوگئی جس میں پہلے راؤنڈ کی فائرنگ میں بیشتر پولیس ملازمین زخمی ہوگئے اور جب سیکورٹی فورس نے جوابی حملہ شروع کیا تو انتہا پسند گھنے جنگل میں فرار ہوگئے۔ ابتدائی تحقیقات میں پتہ چلا ہے کہ اسٹیشن ہاوز آفیسر کو یہ اطلاع ملی تھی کہ بعض نکسلائیٹس خود سپردگی کیلئے آمادہ ہیں۔ اس کے برخلاف پولیس کے وہاں پہنچنے پر انتہا پسندوں نے اچانک حملہ کردیا۔ سرکاری ذرائع نے یہ بات بتائی ۔ جس مخبر نے یہ اطلاع دی تھی وہ جھوٹی اور گمراہ کن تھی جس کے باعث یہ واقعہ پیش آیا۔انہوں نے شبہ ظاہر کیا کہ اس حملہ کا منصوبہ مہاراشٹرا کے علاقہ گڈچیرول سے وابستہ نکسلائیٹس لیڈر راملو نے بنایا ہوگا۔

TOPPOPULARRECENT