Tuesday , November 13 2018
Home / سیاسیات / چھتیس گڑھ میں کل پہلے مرحلے کی پولنگ

چھتیس گڑھ میں کل پہلے مرحلے کی پولنگ

چیف منسٹر رمن سنگھ کے بشمول 190 امیدوار، ماؤسٹ اہم موضوع
رائے پور ، 10 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) چھتیس گڑھ کے ماؤسٹوں سے متاثرہ آٹھ اضلاع میں پھیلی ہوئی 18 اسمبلی نشستوں کیلئے انتخابی مہم ہفتہ کی شام ختم ہوگئی۔ ریاست میں پہلے مرحلہ کی رائے دہی کیلئے یہ مہم زوردار رہی جس میں ایک طرف سیاسی پارٹیوں نے نکسل ازم کے مسئلہ پر توجہ دی تو دوسری طرف اس مدت کے دوران بائیں بازو کے انتہاپسندوں کے تقریباً نصف درجن حملے دیکھنے میں آئے ہیں۔ پہلے مرحلہ کی پولنگ پیر 12 نومبر کو مقرر ہے۔ بی جے پی جس نے اس ریاست میں تین لگاتار انتخابات جیتے ہیں، اور کانگریس دونوں نے انتخابی مہم کیلئے اپنے سرکردہ قائدین کی خدمات حاصل کیں ، جیسا کہ کانگریس سربراہ راہول گاندھی، قومی صدر بی جے پی امیت شاہ اور چیف منسٹر اترپردیش یوگی ادتیہ ناتھ نے آج آخری روز ریالیوں اور روڈ شوز کے ذریعے ووٹروں کو رجھانے کی کوششیں کئے۔ وزیراعظم نریندر مودی نے جمعہ کو ایک ریالی میں کانگریس پر لفظی حملہ میں اسے ’’شہری نکسلائٹس‘‘ کی حمایت کرنے کا مورد الزام ٹہرایا، اور کہا تھا کہ وہ اس خطہ میں ماؤسٹ شورش پسندی کو ’’ریموٹ کنٹرول‘‘ سے چلاتے ہوئے غریب قبائلیوں کی زندگیوں کو تباہ کررہی ہے۔ اس مرحلے میں جملہ 190 امیدوار بشمول چیف منسٹر رمن سنگھ (حلقہ راج نند گاؤں) اس مرحلے میں مسابقت کررہے ہیں۔ بی جے پی نے 2013ء کے گزشتہ چناؤ میں ان 18 نشستوں کے منجملہ 12 ہارے تھے۔ ایک اندازہ کے مطابق 31,79,520 ووٹرس بشمول 16,21,839 مرد اور 15,57,592 خواتین ہیں۔ ان کیلئے 4,336 پولنگ بوتھ بنائے گئے

TOPPOPULARRECENT