Wednesday , January 17 2018
Home / ہندوستان / چھتیس گڑھ کے تین حلقوں میں نکسلائٹس تشدد کا خطرہ

چھتیس گڑھ کے تین حلقوں میں نکسلائٹس تشدد کا خطرہ

رائے پور ۔ 15 ۔ اپریل (سیاست ڈاٹ کام) چھتیس گڑھ میں ماؤنواز تشدد سے متاثرہ تین لوک سبھا حلقوں کانکر ، راج نند گاؤں اور مہا سمندھ میں سیکوریٹی انتظامات کو انتہائی سخت ترین بنالیا گیا ہے، جہاں 17 اپریل کو رائے دہی ہوگی اور اس موقع پر نکسلائٹوں کی جانب سے گڑبڑ اور تشدد کے منصوبوں کے بارے میں خفیہ اطلاعات موصول ہوئی ہیں جس کے پیش نظر یہ قدم

رائے پور ۔ 15 ۔ اپریل (سیاست ڈاٹ کام) چھتیس گڑھ میں ماؤنواز تشدد سے متاثرہ تین لوک سبھا حلقوں کانکر ، راج نند گاؤں اور مہا سمندھ میں سیکوریٹی انتظامات کو انتہائی سخت ترین بنالیا گیا ہے، جہاں 17 اپریل کو رائے دہی ہوگی اور اس موقع پر نکسلائٹوں کی جانب سے گڑبڑ اور تشدد کے منصوبوں کے بارے میں خفیہ اطلاعات موصول ہوئی ہیں جس کے پیش نظر یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔ انٹلیجنس بیورو کے ذرائع کے مطابق پیپلز لیبریشن گوریلا آرمی (پی ایل جی اے) کے تقریباً 500 انتہا پسند جو سی پی آئی (ماؤنواز) کے مسلح شعبہ سے وابستہ ہیں، انتخابی عمل میں گڑبڑ پیدا کرنے کیلئے متحرک کردیئے گئے ہیں۔ انٹلیجنس بیورو کے ایک عہدیدار نے اپنا نام مخفی رکھنے کی شرط پر پی ٹی آئی سے کہا کہ ’’ہمیں پہلے ہی یہ خفیہ اطلاعات موصول ہوچکے تھے کہ حساس مقامات پر نکسلائٹس کی جانب سے انتخابی عمل میں رکاوٹ پیدا کی جاسکتی ہے

لیکن بستر لوک سبھا حلقہ میں سیکوریٹی فورسس اور پولنگ ٹیم پر حالیہ حملوں کے بعد ہم مزید محتاط ہوگئے ہیں‘‘۔ انہوں نے کہا کہ مہاراشٹرا کے نکسلائٹس سرگرمیوں سے متاثرہ علاقہ گڈی چرولی سے چھتیس گڑھ کے کانکر اور راج نند گاؤں کو جبکہ اڈیشہ سے مہاسمندھ کو بڑے پیمانہ پر انتہا پسندوں کو روانہ کرنے سے متعلق خفیہ اطلاعات موصول ہوئی ہیں جن کے بعد سیکوریٹی میں مزید اضافہ کرتے ہوئے سخت ترین چوکسی اختیار کی جارہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ماؤنواز انتہا پسند ان علاقوں میں سیکوریٹی فورسس اور پولنگ عملہ کو نشانہ بناسکتے ہیں۔ علاوہ ازیں تینوں حلقوں میں جہاں ان کے طاقتور گڑھ سمجھے جانے والے مواضعات میں پہنچ کر وہ پوسٹرس چسپاں کر رہے ہیں اور عوام سے کہا جارہا ہے کہ وہ حق رائے دہی استعمال نہ کریں۔

TOPPOPULARRECENT