چھوٹی چھوٹی نیکیاں

مریم النساء اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے: ’’جس نے ذرہ برابر بھی نیکی کی ہوگی وہ اس کو دیکھ لے گا اور جس نے ذرہ برابر بھی بدی کی ہوگی وہ اس کو دیکھ لے گا‘‘۔ (سورۂ زلزال)

مریم النساء
اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے: ’’جس نے ذرہ برابر بھی نیکی کی ہوگی وہ اس کو دیکھ لے گا اور جس نے ذرہ برابر بھی بدی کی ہوگی وہ اس کو دیکھ لے گا‘‘۔ (سورۂ زلزال)
اعمالِ صالحہ کرنے کے لئے قرآن و حدیث میں مسلمانوں کو بہت توجہ دِلائی گئی ہے، کیونکہ اعمالِ صالحہ ایمان کی شرط ہے۔ نیکی خواہ بڑی ہو یا چھوٹی، اللہ تعالیٰ اس کا اجر اپنے بندوں کو ضرور دے گا اور ہر نیکی خواہ وہ چھوٹی ہو یا بڑی، خلوص نیت کے ساتھ کی جائے تو اللہ کے ہاں قابل قبول ہوگی۔ آدمی اپنی زندگی میں صرف بڑی بڑی نیکیوں کو ہی اہمیت نہ دے، بلکہ چھوٹی نیکیاں بھی اہمیت کی حامل ہوتی ہیں، لہذا ان کو نظرانداز نہ کیا جائے۔ جس طرح قطرے قطرے سے دریا بھرتا ہے، اسی طرح چھوٹی چھوٹی نیکیاں مل کر بڑی نیکی بن جاتی ہے۔ علاوہ ازیں چھوٹی نیکیاں کرتے کرتے انسان بڑی نیکی کرنے کا عادی ہو جاتا ہے۔ جن باتوں کو ہم اہمیت نہیں دیتے، اسلام نے ان کو بھی اہمیت دی ہے، مثلاً راستہ سے تکلیف دہ چیز کا ہٹانا، مسکراکر ملنا یا کسی کو پانی پلانا وغیرہ۔

حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تم کسی بھی نیکی کو حقیر مت سمجھو، خواہ وہ کسی پانی مانگنے والے کے برتن میں ایک ڈول (پانی) ڈال دینا ہو یا یہ نیکی ہو کہ تم اپنے کسی بھائی سے خندہ پیشانی (مسکراتا چہرہ) کے ساتھ ملو‘‘۔ (مسلم)
اگر ہم ان نیکیوں کو اپنالیں تو ایک دن ہم بڑی بڑی نیکیاں کرسکتے ہیں اور پھر اللہ تعالیٰ کسی نیکی کرنے والے کے اجر کو ضائع نہیں کرتا۔ اگر ہم کوئی اور نیکی نہیں کرسکتے تو کسی سے اچھی بات تو کرسکتے ہیں، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اچھی بات کرنے کو نیکی میں شمار کیا ہے۔ ایک مسلمان کو چاہئے کہ نیکی کرنے کی عادت ڈالے اور ہر برائی سے اپنے آپ کو بچائے، یہاں تک کہ چھوٹی چھوٹی برائیوں کو بھی چھوڑدے، کیونکہ ذرہ ذرہ سے انبار بن جاتا ہے، لہذا چھوٹے چھوٹے گناہ قیامت کے دن ہمارے لئے وبال جان بن سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو نیکوکار بنائے اور گناہوں سے بچائے۔ (آمین)

TOPPOPULARRECENT