Sunday , December 17 2017
Home / شہر کی خبریں / چھوٹے اضلاع سے تیز رفتار ترقی کی راہ ہموار ، کل سے نئی شروعات

چھوٹے اضلاع سے تیز رفتار ترقی کی راہ ہموار ، کل سے نئی شروعات

حکومت کا فیصلہ سیاسی فوائد پر مرکوز نہیں ، اپوزیشن کی تنقید مسترد ، کانگریس نے منڈل سسٹم کی بھی مخالفت کی تھی ، چیف منسٹر کے سی آر کا ورنگل میں پریس کانفرنس

حیدرآباد۔ 9 اکتوبر (پی ٹی آئی؍ سیاست نیوز) تلنگانہ کے چیف منسٹر کلواکنٹلہ چندر شیکھر راؤ نے آج کہا کہ چھوٹے اضلاع سے تیز رفتار ترقی کی راہ ہموار ہوگی۔ کے سی آر نے جو ورنگل کے ایک مندر میں بھدرا کالی دیوی کے سَر پر 3.7 کروڑ روپئے مالیتی 11 کیلو وزنی سونے کا تاج چڑھانے کے بعد اخباری نمائندوں سے بات چیت کررہے تھے، کہا کہ ’’چھوٹے اضلاع کا قیام نہ صرف تیز رفتار ترقی کی راہ ہموار کرے گا بلکہ انتظامیہ کو عوام کے قریب سے قریب تر پہونچائے گا۔ مزید برآں ریاستی حکومت کی طرف سے شروع کردہ تمام فلاحی پروگرامس کے فوائد ہر شہری تک پہونچیں گے‘‘۔ کے سی آر نے اپنے اس خیال کا اظہار بھی کیا کہ چھوٹے اضلاع کی صورت میں سرکاری فنڈس ہڑپ کرنے کے واقعات میں بھی کمی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ’’نئے اضلاع کے قیام کا فیصلہ ایک سال قبل کابینہ کے اجلاس میں کیا گیا تھا۔ نئے اضلاع کے قیام کا جائزہ لینے کیلئے ایک کابینی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی‘‘۔ انہوں نے کہا کہ اس مسئلہ پر تمام سیاسی جماعتوں سے رائے لی گئی۔ کے سی آر نے مزید کہا کہ ’’رکن پارلیمنٹ کے کیشو راؤ کی قیادت میں ایک اعلیٰ اختیاری کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جس نے ارکان اسمبلی، ارکان پارلیمنٹ اور دیگر عوامی نمائندوں سے رائے حاصل کی تھی‘‘۔ اس ضمن میں چیف منسٹر کے سی آر کل کابینہ کا ہنگامی اجلاس طلب کریں گے جس میں نئے اضلاع کے قیام سے متعلق اعلامیہ کا قطعی مسودہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ تمام 31 نئے اضلاع 11 اکتوبر سے اپنا کام شروع کردیں گے۔ کے سی آر نے دعویٰ کیا کہ سیاسی فوائد کیلئے نئے اضلاع کا قیام عمل میں نہیں لایا گیا ہے۔ چیف منسٹر نے اپوزیشن جماعتوں کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ 1985ء میں اس وقت کے چیف منسٹر این ٹی راما راؤ نے منڈل نظام متعارف کیا تھا تو کانگریس نے اس کی مخالفت کی تھی لیکن منڈل نظام بہتر کام کر دکھایا اور عوام اس نظام سے خوش ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ’’بالکل اسی طرح نئے اضلاع کے بھی اچھے نتائج برآمد ہوں گے اور 4 لاکھ خاندانوں کی آبادی پر ایک ضلع تشکیل دینے کی ضرورت ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت چکلی آئیلماں، ڈوڈی کمورنیا، پی وی نرسمہا راؤ، سورورم پرتاپ ریڈی جیسی مشہور شخصیات سے نئے اضلاع کو موسوم کرنا چاہتی ہے۔ چیف منسٹر نے تعداد میں مزید اضافہ سے متعلق بالواسطہ اشارہ دیا کہ دوبارہ کابینہ کے اجلاس میں غور و خوص کرکے اضلاع کی قطعی تعداد کا تعین کرکے اعلان کیا جائے گا ۔ مسٹر چندر شیکھر راؤ نے نئے اضلاع کی تشکیل پر کی جانے والی تنقیدوں پر اپنی شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اضلاع کی تقسیم کے مسئلہ پر کانگریس پارٹی سیاست کررہی ہے ۔ جبکہ اپوزیشن جماعتوں کے قائدین کی رائے حاصل کرنے کے بعد ہی نئے اضلاع کو قطعیت دی گئی ۔ اس کے باوجود نئے اضلاع کی تشکیل کے سلسلہ میں غیر ضروری کی جانے والی تنقیدوں پر چیف منسٹر نے برہمی کا اظہار کیا ۔ انہوں نے سابق کانگریس حکومت کو ہدف ملامت بناتے ہوئے کہا کہ ریاست میں دس سال حکمرانی کرنے والی کانگریس پارٹی ریاست کو ترقی دینے میں ناکام رہی بلکہ ریاست کی ترقی پر کبھی توجہ نہیں دی ۔ بلکہ خود کو کچھ نہیں کرسکے لیکن آج موجودہ ٹی آر ایس حکومت کی فلاحی کوششوں میں رکاوٹیں پیدا کررہے ہیں۔ کے سی آر نے کہا کہ ان کی حکومت کے اقدامات کے سبب سرکاری آمدنی میں زبردست اضافہ ہوا ہے ۔ کانگریس کے دور میں ریت کی نکاسی میں بے قاعدگیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پانچ سال میں صرف 7 کروڑ روپئے کی آمدنی ہوئی تھی لیکن ٹی آر ایس حکومت کے دو سال میں ریت کی نکاسی سے 365 کروڑ روپئے حاصل ہوئے۔

TOPPOPULARRECENT