Saturday , November 18 2017
Home / ہندوستان / چھگن بھوجبل کی 300 کروڑ کے مالیتی بے نامی جائیدادیں ضبط

چھگن بھوجبل کی 300 کروڑ کے مالیتی بے نامی جائیدادیں ضبط

ناسک کی شوگر ملز، ممبئی کے سانتا کروزاور باندرہ کی ہمہ منزلہ عمارتیں بھی شامل
نئی دہلی ؍ ممبئی ۔ 5 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) محکمہ انکم ٹیکس نے این سی پی لیڈر چھگن بھوجبل اور ان کے ارکان خاندان کے300 کروڑ روپئے مالیتی بے نامی اثاثوں کو ضبط کرتے ہوئے ان کے خلاف نووضع کردہ فوجداری قانون کے تحت الزامات درج کیا ہے۔ محکمہ انکم ٹیکس نے کہا کہ ان افراد نے تقریباً چار درجن شل کمپنیوں کا نام استعمال کرتے ہوئے یہ اثاثے بنائے تھے۔ جیل میں محروس مہاراشٹرا کے سابق ڈپٹی چیف منسٹر بھوجبل کے خلاف ایک نئی مصیبت پیدا کرتے ہوئے محکمہ انکم ٹیکس نے بھوجبل، ان کے بیٹے پنکج اور بھتیجہ سمیر بھوجبل کے اثاثوں کی عبوری ترقی کیلئے نوٹسیں جاری کئے ہیں اور بے نامی اثاثوں کے استفادہ کنندگان کی حیثیت سے ان کی نشاندہی کی گئی ہے۔ پی ٹی آئی کو دستیاب ترقی کی نوٹس دفعہ 24(3) قانون (انسداد) بے نامی معاملین 2016ء کے تحت جاری کی گئی ہے۔ اس دفعہ کے تحت محکمہ انکم ٹیکس کے عہدیدار یہ تصور کرسکتے ہیں کہ جو افراد بے نامی اراضی رکھتے ہیں انہیں ایسی بے نامی جائیداد سے محروم کیا جاسکتا ہے۔

احکام کے تحت قرقی (ضبط) کی جانے والی غیرمنقولہ جائیدادوں میں ناسک میں واقع 80.97 کروڑ روپئے مالیتی گیرنا شوگر ملز کے علاوہ ممبئی کے مغربی سانتاکروز میں واقع ہمہ منزلہ رہائشی عمارت ’’سالیٹیر‘‘ بھی شامل جس کی مالیت 11.30 کروڑ روپئے بتائی گئی ہے۔ تاہم اس کی مارکٹ قیمت کئی سو کروڑ روپئے ہوسکتی ہے۔ شوگر ملز اگرچہ آرمسٹرانگ انفراسٹرکچر پرائیویٹ لمیٹیڈ کے نام پر ہیں جبکہ عمارت پرویش کنسٹرکشن پرائیویٹ لمیٹیڈ کے نام پر ہے۔ ضبط شدنی جائیدادوں میں مہاراشٹرا کے ریاستی دارالحکومت کے علاقہ مغربی باندروہ میں واقع حبیب مانور اور فاطمہ مانور بلڈنگ بھی شامل ہے، جس کی مالیت 43.61 کروڑ روپئے بتائی گئی ہے۔ رائے گڑھ کے پانویل علاقہ میں زمین کا ایک پلاٹ بھی ضبط کیا جارہا ہے جس کی مالیت 87.54 کروڑ روپئے ہے۔ محکمہ انکم ٹیکس نے گذشتہ ماہ آر جے ڈی کے سربراہ لالو پرساد یادو اور ان کے چھ ارکان خاندان کے خلاف 1000 کروڑ روپئے مالیتی بے نامی اثاثوں کی تحقیقات کے ضمن میں ا یک مقدمہ درج کیا ہے۔ سرکاری اعداد کے مطابق محکمہ انکم ٹیکس نے رواں سال ممئی 23 تک ملک بھر میں 400 بے نامی اثاثوں کی نشاندہی کی ہے اور 240 کیسیس میں عبوری قرقی (ضبطیاں) بھی کی گئی ہیں۔

TOPPOPULARRECENT