Friday , December 15 2017
Home / اضلاع کی خبریں / چھیڑ چھاڑ واقعات کے تدارک کیلئے قانون سازی

چھیڑ چھاڑ واقعات کے تدارک کیلئے قانون سازی

کریم نگر /23 اگست (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) ریاست بھر میں ہر روز لڑکیوں اور خواتین کے ساتھ چھیڑ چھاڑ اور ایذا رسانی کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس طرح کے جرائم کی روک تھام کے لئے ریاستی حکومت نے ایک نیا بل تیار کیا ہے، تاکہ ریلوے اسٹیشنوں، بس اسٹانڈ، بازاروں، اسکولس، گرلز کالجس اور شاپنگ مالس کے آس پاس لڑکیوں اور خواتین کے ساتھ نازیبا سلوک اور چھیڑ چھاڑ کرنے والے آوارہ نوجوانوں کے خلاف سخت کارروائی کی جاسکے۔ ایسے لوگوں کو جیل تک پہنچانے کے لئے تلنگانہ اسٹیٹ پروبیشن آف ایوٹیزنگ اینڈ ہراسمنٹ آف ویمن ضابطہ قانون ترتیب دیا گیا ہے اور اس کو مرکزی حکومت کی منظوری کے لئے بھیجا گیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ فی الحال اس ضابطہ کی مرکز میں جانچ پڑتال ہو رہی ہے۔ اگر اس کو وہاں منظور کرلیا گیا تو اس بل کو اسمبلی کے اجلاس میں پیش کرتے ہوئے قانونی حیثیت حاصل ہو جائے گی اور اس پر عمل آوری ہونے پر مجرمین کو کم از کم دو سال سزائے مشقت کے علاوہ ایک لاکھ روپئے جرمانہ عائد کئے جانے کی گنجائش ہوگی، جب کہ جرمانہ کی عدم ادائیگی پر مزید جیل کی سزا بھگتنی پڑے گی۔ تاملناڈو میں پروبیشن آف ایوٹیزنگ آرڈیننس پر عمل آوری ہو رہی ہے، اسی طرز پر یہاں بھی بل مرتب کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ 1998ء میں مدراس کی کالج طالبہ ساریکا چھیڑ چھاڑ کا شکار ہوکر فوت ہو گئی تھی، جس پر ریاست بھر میں احتجاجی مظاہرے ہونے پر حکومت نے قانون سازی کی تھی، جس پر مؤثر عمل آوری کی وجہ سے وہاں خواتین کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کے واقعات میں کمی آئی ہے۔ 1992ء میں اس طرح کا قانون نافذ کیا گیا تھا، تاہم اس قسم کے واقعات میں کوئی کمی نہیں آئی، لہذا اب قوانین میں کچھ ترمیم کرکے اسے سخت بنایا گیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ چھیڑ چھاڑ کے مجرمین کو دو سال سزا کے علاوہ 30 ہزار تا ایک لاکھ جرمانہ عائد کیا جائے گا، جب کہ متاثرہ کے زخمی ہونے پر تین تا دس سال قید اور 30 ہزار تا دو لاکھ جرمانہ عائد کیا جائے گا۔

TOPPOPULARRECENT