Friday , June 22 2018
Home / شہر کی خبریں / چیرمین ریاستی حج کمیٹی کا عدم انتخاب، کمیٹی کی برقراری تعطل کا شکار

چیرمین ریاستی حج کمیٹی کا عدم انتخاب، کمیٹی کی برقراری تعطل کا شکار

مقررہ مدت کا اختتام، قانونی رائے پر کمیٹی کی تحلیل ممکن، تاحال ایک بھی اجلاس نہیں ہوا

مقررہ مدت کا اختتام، قانونی رائے پر کمیٹی کی تحلیل ممکن، تاحال ایک بھی اجلاس نہیں ہوا

حیدرآباد ۔31 ۔ مارچ (سیاست نیوز) ریاستی حج کمیٹی کی تشکیل کو 45 دن مکمل ہوگئے۔ تاہم ابھی تک صدر نشین کا انتخاب نہیں ہوسکا۔ حج کمیٹی ایکٹ 2002 ء کے تحت کمیٹی کی برقراری تعطل کا شکار ہوچکی ہے۔ قواعد کے مطابق حج کمیٹی کے تشکیل کے اندرون 45 یوم صدرنشین کا انتخاب کیا جانا چاہئے لیکن یہاں یہ مدت گزرگئی جس کے باعث کمیٹی کی برقراری پر سوالیہ نشان لگ چکا ہے۔ کمیٹی ارکان کی برقراری کے سلسلہ میں سنٹرل حج کمیٹی اور وزارت قانون سے رائے حاصل کی جارہی ہے ۔ واضح رہے کہ کرن کمار ریڈی حکومت نے 13 فروری کو جی او آر ٹی 47 کے ذریعہ 16 ارکان پر مشتمل حج کمیٹی تشکیل دی تھی۔ جی او میں صراحت کی گئی تھی کہ ازروئے قانون اندرون 45 یوم صدرنشین کا انتخاب کیا جائے۔ تاہم کمیٹی کی تشکیل کے چند دن بعد ہی کرن کمار ریڈی نے چیف منسٹر کے عہدہ سے استعفیٰ دیدیا۔ عام طور پر صدرنشین کے نام کا انتخاب حکومت کی جانب سے کیا جاتا ہے جس کی توثیق کمیٹی کے اجلاس میں کی جاتی ہے۔ چونکہ ریاست میں حکومت موجود نہیں تھی لہذا نہ ہی الیکشن آفیسر کا تقرر کیا گیا اور نہ کمیٹی کا پہلا اجلاس طلب کیا جاسکا۔ 30 مارچ کو حج کمیٹی کے 45 دن مکمل ہوگئے جبکہ اس مدت کے دوران صدرنشین کے انتخاب کے سلسلہ میں کوئی پیشرفت نہیں کی گئی۔

اب کمیٹی کی برقراری کے مسئلہ پر محکمہ اقلیتی بہبود میں مختلف رائے کا اظہار کیا جارہا ہے۔ اہم سوال یہ ہے کہ 45 دن کی مدت میں صدرنشین کے انتخاب میں ناکام کمیٹی کیا آئندہ بھی برقرار رہے گی ؟ اس مسئلہ پر حج کمیٹی ایکٹ 2002 ء نے کوئی صراحت نہیں کی ہے۔ قانون میں صرف 45 دن میں صدرنشین کے انتخاب کو لازمی قرار دیا جائے گا جبکہ 45 دن میں عدم انتخاب کی صورت میں کمیٹی کے مستقبل کے بارے میں کوئی وضاحت نہیں کی گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ محکمہ اقلیتی بہبود اس مسئلہ کو سنٹرل حج کمیٹی اور مرکزی وزارت قانون سے رجوع کرے گا اور اس کی رائے کے بعد ہی کمیٹی کے مستقبل کے بارے میں کوئی فیصلہ ہوگا۔حکومت نے 16 رکنی کمیٹی میں ایک رکن اسمبلی اور ارکان قانون ساز کونسل کو شامل کیا جبکہ حج ایکٹ 2002 ء کے مطابق رکن کی حیثیت سے ایک ایم پی کو بھی شامل کیا جانا چاہئے ۔ اس طرح حج کمیٹی باقاعدہ طور پر جائزہ حاصل کرنے سے قبل ہی تعطل کا شکار ہوچکی ہے ۔ اگر محکمہ قانون کمیٹی کی برخاستگی کے حق میں رائے دے گا تو 16 ارکان پر مشتمل کمیٹی از خود تحلیل ہوجائے گی۔ واضح رہے کہ کمیٹی کی تشکیل کے بعد سے آج تک ایک بھی اجلاس منعقد نہیں ہوسکا اور تحلیل کی صورت میں ارکان کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

TOPPOPULARRECENT