Friday , December 15 2017
Home / شہر کی خبریں / چیف ایگزیکٹیو آفیسر وقف بورڈ کو اعلیٰ عہدیداروں کے خلاف تحقیقات کا اختیار نہیں

چیف ایگزیکٹیو آفیسر وقف بورڈ کو اعلیٰ عہدیداروں کے خلاف تحقیقات کا اختیار نہیں

ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی کی مداخلت کے بعد مسئلہ کی یکسوئی ، سی ای او کی بھی وضاحت
حیدرآباد۔12 اکٹوبر (سیاست نیوز) چیف ایگزیکٹیو آفیسر وقف بورڈ کے اختیارات کا مسئلہ آج اس وقت ختم ہوگیا جب ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی نے واضح کردیا کہ وقف بورڈ کے سی ای او کو اپنے اعلی عہدیداروں کے خلاف تحقیقات کے اختیارات حاصل نہیں ہیں۔ چیف ایگزیکٹیو آفیسر منان فاروقی نے بھی وضاحت کردی کہ وہ کسی اعلی عہدیدار کے خلاف تحقیقات کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔ ڈپٹی چیف منسٹر کے پاس منعقدہ جائزہ اجلاس کے بعد میڈیا کے نمائندوں نے اس مسئلہ پر استفسار کیا تو ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ حکومت وقف بورڈ کی جانب سے اعلی عہدیداروں کے خلاف تحقیقات کی اجازت نہیں دے گی اور نہ ہی چیف ایگزیکٹیو آفیسر کو اس سلسلہ میں کوئی اختیارات ہیں۔ واضح رہے کہ 15 ستمبر کو وقف بورڈ نے قرارداد منظور کرتے ہوئے گزشتہ تین برسوں کے دوران کیے گئے اہم فیصلوں کی جانچ کی ذمہ داری چیف ایگزیکٹیو آفیسر کو دی اور انہیں آئندہ اجلاس تک رپورٹ پیش کرنے کی مہلت دی گئی۔ بورڈ کا آئندہ اجلاس 16 اکٹوبر کو مقرر ہے اور اختیارات کے تنازعہ کے سبب چیف ایگزیکٹیو آفیسر نے قرارداد کی تکمیل کے سلسلہ میں کوئی پیشرفت نہیں کی۔ اب جبکہ حکومت نے تحقیقات کے امکانات کو یکسر مسترد کردیا ہے، لہٰذا وقف بورڈ اور حکومت کے درمیان ٹکرائو کی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ منان فاروقی بورڈ کے آئندہ اجلاس میں تحقیقات سے خود کو علیحدہ کرلیں گے اور وقف بورڈ پر اس بات کو چھوڑدیا جائے گا کہ اگر وہ تحقیقات چاہیں تو کسی اور عہدیدار کو مقرر کرلے۔ تحقیقات کی صورت میں جن عہدیداروں کے فیصلوں کی جانچ ہوسکتی ہے ان میں سکریٹری اقلیتی بہبود عمر جلیل کے علاوہ سابق اسپیشل آفیسرس جلال الدین اکبر، شیخ محمد اقبال اور سابق سی ای او محمد اسد اللہ شامل ہیں۔ وقف بورڈ کے اس متنازعہ فیصلے کے بعد سے چیف ایگزیکٹیو آفیسر کے اختیارات پر محکمہ میں بحث چھڑ چکی ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے آج اس بحث کو یہ کہتے ہوئے ختم کردیا کہ کسی بھی اعلی عہدیدار کے خلاف تحقیقات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور نہ ہی سی ای او کو اعلی عہدیداروں کے خلاف تحقیقات کا اختیار حاصل ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت کے اس موقف پر وقف بورڈ کا کیا ردعمل رہے گا۔ دلچسپ بات یہ تھی کہ جس وقت یہ مسئلہ زیر بحث آیا صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم جائزہ اجلاس سے جاچکے تھے۔

TOPPOPULARRECENT