Sunday , September 23 2018
Home / شہر کی خبریں / چیف جسٹس آف انڈیا کے مواخذہ کے لیے سی پی آئی ایم کی ملک گیر سطح پر مہم

چیف جسٹس آف انڈیا کے مواخذہ کے لیے سی پی آئی ایم کی ملک گیر سطح پر مہم

سنگین الزامات سے بے چینی کی کیفیت ، مختلف سیاسی جماعتوں کو شامل کرنے کا فیصلہ
حیدرآباد۔ 24 جنوری (سیاست نیوز) چیف جسٹس آف انڈیا کے مواخذہ کیلئے کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) نے باضابطہ ملک کی دیگر سیاسی جماعتوں سے تعاون حاصل کرنے کی مہم شروع کردی ہے۔ چند یوم قبل سپریم کورٹ کے چار ججس کی جانب سے چیف جسٹس آف انڈیا پر عائد کردہ سنگین الزامات کے بعد ملک بھر میں بے چینی کی کیفیت پائی جارہی ہے اور عدالت عظمیٰ میں جاری رسہ کشی کی اس صورتحال کو اب تک بھی ختم نہیں کیا جاسکا ہے، لیکن اب یہ مسئلہ سیاسی نوعیت کا حامل بننے لگا ہے اور کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا مارکسسٹ نے چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس دیپک مشرا کے مواخذہ کیلئے ماحول سازی کا عمل شروع کردیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ سی پی ایم قائدین نے ملک کی سیکولر سیاسی جماعتوں کے علاوہ قدامت پسند تنظیموں کے ہمراہ چیف جسٹس کے مواخذہ کو یقینی بنانے کی مہم شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سی پی ایم ذرائع کے بموجب جنرل سیکریٹری کامریڈ سیتا رام یچوری، این سی پی اور جنتا دل (یونائٹیڈ) کے قائدین سے ملاقات کرتے ہوئے اس مسئلہ پر مشاورت کی ہے اور کہا ہے کہ موجودہ حالات میں جمہوریت کے استحکام کو یقینی بنانے کے لئے عدلیہ میں جاری رسہ کشی کا خاتمہ ناگزیر ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ملک کی اہم اپوزیشن کانگریس بھی سی پی ایم کے اس نظریہ کی حمایت کررہی ہے۔ سی پی ایم کے قائدین کانگریس کی اعلیٰ قیادت سے بھی مشاورت میں مصروف ہیں اور 29 جنوری سے شروع ہونے جارہے پارلیمنٹ کے بجٹ سیشن کے دوران چیف جسٹس آف انڈیا کے مواخذہ کیلئے اقدامات کا امکان ہے۔ ملک کی سیکولر سیاسی جماعتوں کے علاوہ انصاف اور جمہوریت کی بقاء کیلئے چلائی جانے والی تحریکوں کے قائدین کی جانب سے چیف جسٹس آف انڈیا کے رویہ کی شکایت کرنے والے چار ججس کی حمایت کرتے ہوئے نظام عدلیہ پر عوامی اعتماد کی برقراری کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا جارہا ہے اور کہا جارہا ہے کہ ججس کی جانب سے عائد کردہ الزامات کے پیش نظر چیف جسٹس آف انڈیا کا مواخذہ کیا جانا ضروری ہے۔ دو ہفتے گذرنے کے باوجود صورتحال معمول پر نہ لائی جانا اور حکومت کی جانب سے مسئلہ کو نظرانداز کرنے کی پالیسی عدالت پر سے عوامی اعتماد کا خاتمہ کا سبب بن سکتی ہے، اسی لئے جمہوریت کے استحکام کو یقینی بنایا جانا ضروری ہے۔ مسٹر سیتا رام یچوری نے بتایا کہ ملک کے نظام عدلیہ کو محفوظ رکھنے اور اسے تباہ ہونے سے بچانے کیلئے چیف جسٹس آف انڈیا کے مواخذہ کیلئے اقدامات کے متعلق غور کیا جارہا ہے لیکن تاحال پارٹی نے چیف جسٹس آف انڈیا کے مواخذہ کیلئے کوئی تحریک پیش کرنے کا فیصلہ نہیں کیا ہے۔ مسٹر پرکاش کرت نے بتایا کہ پارٹی میں جنرل سیکریٹری سیتا رام یچوری کو اس بات کا اختیار دیا ہے کہ وہ دیگر ہم خیال سیاسی جماعتوں اور اپوزیشن سے مذاکرات کے بعد اس سلسلے میں قطعی فیصلہ کرے۔

TOPPOPULARRECENT