Tuesday , December 12 2017
Home / دنیا / چیف جسٹس بنگلہ دیش کی دھوکہ دہی کی تحقیقات

چیف جسٹس بنگلہ دیش کی دھوکہ دہی کی تحقیقات

آسٹریلیا سے واپسی پر دوبارہ عہدہ سنبھالنے کی تردید‘ ججس کا ان کی کرسی پر بیٹھنے سے انکار
ڈھاکہ ۔ 15اکٹوبر ( سیاست ڈاٹ کام ) بنگلہ دیش کے اولین ہندو چیف جسٹس ایس کے سنہا کے خلاف ’’ سنگین ‘‘ دھوکہ دہی اور اخلاقی کوتاہیوں کے الزام میں تحقیقات کا سامنا ہے ۔ وزیر قانون نے آج کہا کہ ایک دن قبل اُن پر آسٹریلیا روانگی سے قبل رقومات کی غیرقانونی منتقلی کا الزام عائد کیا گیا تھا ۔ وزیر انیس الحق نے کہا کہ انسداد بدعنوانی کمیشن ’’ تقریباً تمام الزامات ‘‘ کی تحقیقات کرے گا جو سنہا پر ملک کے صدر عبدالحمید نے عائد کئے ہیں ۔ انیس الحق نے کہا کہ کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں ہے ۔ وہ سپریم کورٹ کے بیان کے اجراء کے بعد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے جس کے نتیجہ میں ذرائع ابلاغ میں ہلچل مچ گئی ہے ۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اگر صدر بنگلہ دیش اپنا اختیار تمیزی اختیار کریں تو الزامات ثابت ہونے کے بعد مزید کارروائی نہیں کی جائے گی ۔ حکومت کا عدلیہ کے ساتھ تنازعہ جاریہ سال جولائی میں شروع ہوا تھا جب کہ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلہ میں 16ویں دستوری ترمیم کو کالعدم قرار دیا تھا ۔ اس ترمیم کے ذریعہ پارلیمنٹ کے اختیارات جو سپریم کورٹ کے ججوں کی سرزنش کے بارے میں تھے منسوخ کردیئے گئے تھے ۔ ایک غیرمعمولی اقدام کرتے ہوئے ملک کی سپریم کورٹ نے کہا کہ سپریم کورٹ کے جج جاریہ سال کے اوائل میں فیصلہ کرچکے ہیں کہ سنہا کی کرسی پر نہیں بیٹھیں گے کیونکہ اُن پر سنگین الزامات عائد کئے گئے ہیں ۔ جب کہ یہ الزامات صدر کے علم میں نہیں لائے جاتے کوئی بھی چیف جسٹس کی کرسی پر نہیں بیٹھے گا ۔ سپریم کورٹ نے ایک بیان جاری کیا ہے کہ سنہا آسٹریلیا منتقل ہوچکے ہیں ۔ سپریم کورٹ کے بموجب یہ جولائی کے فیصلہ پر پیدا ہونے والے تنازعہ پر پریشانی کا نتیجہ ہے ۔ انہوں نے حکومت کے اس بیان کی تردید بھی کردی ہے کہ وہ بیمار ہیں ۔ سنہا نے روانگی کے وقت کہا تھا کہ وہ بیمار نہیں ہیں اور وہ فرار بھی نہیں ہورہے ہیں ۔

TOPPOPULARRECENT