Sunday , July 22 2018
Home / Top Stories / چیف جسٹس کا مواخذہ ‘ اپوزیشن کیلئے تمام امکانات برقرار

چیف جسٹس کا مواخذہ ‘ اپوزیشن کیلئے تمام امکانات برقرار

مسئلہ انتہائی سنگین ۔ تفصیلی غور و خوض کی ضرورت ۔ سابق وزیر قانون کپل سبل کا بیان
نئی دہلی 12 اپریل ( سیاست ڈاٹ کام ) کانگریس نے آج کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کیلئے چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس دیپک مصرا کے خلاف تحریک مواخذہ پیش کرنے کے معاملہ میں تمام امکانات برقرار ہیں۔ سینئر کانگریس لیڈر کپل سبل نے عدلیہ کی آزادی پر تشویش کا اظہار کیا اور اس مسئلہ کو انتہائی سنگین قرار دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ اپوزیشن جماعتوں کیلئے اب بھی تمام امکانات برقرار ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں کے پاس کئی امکانات موجود ہیں۔ انہوں نے میڈیا کی جانب سے چیف جسٹس کے خلاف تحریک مواخذہ پیش کرنے کی تجویز پر سوال کے جواب میں یہ بات کہی ۔ پارلیمنٹ میں تحریک مواخذہ پیش کرنے میں تاخیر سے متعلق سوال کے جواب میں کپل سبل نے کہا کہ یہ ایسا مسئلہ نہیں ہے کہ اس پر فوری کوئی فیصلہ کرلیا جائے ۔ ہم ایک بڑے ادارہ کے مسئلہ کا شکار ہیں اور ہم کو تمام پہلووں کا جائزہ لینے ضرورت ہے ۔ اسی لئے اس پر کوئی فوری فیصلہ نہیں ہو رہا ہے ۔ یہ ایک سنگین مسئلہ ہے ۔ کپل سبل سابق وزیر قانون بھی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اگر اپوزیشن کو چیف جسٹس کے خلاف مواخذہ کی تحریک پیش کرنی ہی پڑ جائے تو پھ یہ ایک افسوسناک دن ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ اگر اپوزیشن ایسا فیصلہ کرتی بھی ہے تو انتہائی تکلیف کیساتھ کریگی لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اپوزیشن نے اس مسئلہ کو ختم شدہ باب سمجھ لیا ہو۔ کانگریس لیڈر نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کو بھی عدلیہ کی آزادی کے مسئلہ پر دوسروں کی طرح برابر کی تشویش لاحق ہے ۔ ہم چاہتے ہیں کہ عدلیہ جیسے ادارہ کا حکومت کی جانب سے کسی بھی طرح کی مداخلت سے تحفظ کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ عدالت میں جو کچھ ہو رہا ہے ہم کو اس پر کافی تشویش ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ عدلیہ آزاد رہے ۔ کپل سبل نے تاہم کہا کہ یہ عدالت کا ہی کام ہے کہ وہ اجتماعی طور پر اپنی آزادی کا تحفظ کرے ۔ ججس کے تقرر میں تاخیر پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کپل سبل نے کہا کہ سپریم کورٹ کالیجیم کی سفارش کے باوجود ایسا ہو رہا ہے ۔ کسی بھی جماعت کو ‘ چاہے وہ برسر اقتدار جماعت ہی کیوں نہ ہو ‘ ججس کے تقررات میں مداخلت کی اجازت نہیں دی جانی چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر عدالتوں کی سفارش کو روک دیا جاتا ہے تو چیف جسٹس آف انڈیا اور سینئر ترین ججس کو نہ صرف اس پر مزاحمت کرنی چاہئے بلکہ اس بات کو بھی یقینی بنانا چاہئے کہ ان کی سفارشات پر عمل آوری ہو۔ اگر ایسا نہیں کیا جاتا تو پھر یہ عاملہ کا دباؤ تسلیم کرلینے کی بات ہوگی اور یہ انتہائی سنگین مسئلہ ہے ۔ ہم چیف جسٹس اور ساری عدالت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ متحد ہوجائیں اور تقررات کو یقینی بنائیں۔

TOPPOPULARRECENT