Thursday , May 24 2018
Home / Top Stories / چیف سکریٹری دہلی کا عام آدمی پارٹی ارکان اسمبلی پر بدسلوکی کا الزام

چیف سکریٹری دہلی کا عام آدمی پارٹی ارکان اسمبلی پر بدسلوکی کا الزام

چیف منسٹر کے دفتر اور پارٹی کی جانب سے الزام کی تردید ۔ بی جے پی پر کجریوال حکومت کے کام کاج میں رکاوٹیں پیدا کرنے کا ادعا
نئی دہلی 20 فبروری ( سیاست ڈاٹ کام ) دہلی کے چیف سکریٹری انشو پرکاش کے ساتھ مبینہ طور پر عام آدمی پارٹی کے کچھ ارکان اسمبلی نے چیف منسٹر اروند کجریوال کی قیامگاہ پر بدسلوکی کی ۔ عہدیدار نے یہ بات بتائی جبکہ چیف منسٹر کے دفتر نے اس الزام کو بے بنیاد اور غلط قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا ہے ۔ یہ واقعہ کل رات کجریوال کی موجودگی میں پیش آیا اور ڈپٹی چیف منسٹر منیش سیسوڈیا بھی موجود تھے ۔ ایک سینئر عہدیدار نے یہ بات بتائی ۔ کہا گیا ہے کہ انشو پرکاش کو چیف منسٹر کجریوال نے اشتہارات کی اجرائی سے متعلق مسئلہ پر تبادلہ خیال کیلئے طلب کیا تھا ۔ تاہم عام آدمی پارٹی کا کہنا ہے کہ چیف سکریٹری کو راشن کی اجرائی کے مسئلہ پر بات چیت کیلئے لب کیا گیا تھا ۔ چیف منسٹر کے دفتر سے تعلق رکھنے والے ایک سینئر عہدیدار نے کہا کہ چیف سکریٹری سے بدسلوکی کا الزام بے بنیاد اور غلط ہے ۔ ایک سینئر آئی اے ایس عہدیدار نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ کل رات اس اجلاس میں گرما گرم مباحث ہوئے ۔ بحث و تکرار کے دوران عام آدمی پارٹی کے دو تا تین ارکان اسمبلی نے ان سے بدسلوکی کی اور چیف سکریٹری کی عینک بھی ٹوٹ گئی ۔

اس واقعہ کے بعد چیف سکریٹری نے لیفٹننٹ گورنر انیل بائجل سے کل رات ہی ملاقات کی اور انہیں اس واقعہ سے واقف کروایا ۔ اس واقعہ پر احتجاج درج کرواتے ہوئے آئی اے ایس آفیسرس اسوسی ایشن نے بھی آج لیفٹننٹ گورنر سے ملاقات کی اور اس واقعہ پر احتجاج درج کروایا ۔ ذرائع نے یہ بات بتائی اور کہا کہ اسوسی ایشن نے احتجاج نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ اس سے عوام متاثر ہونگے ۔ عام آدمی پارٹی نے اس الزام کا جواب دیتے ہوئے ایک بیان میں کہا کہ گذشتہ مہینے 2.5 لاکھ خاندان راشن کی عدم اجرائی کی وجہ سے متاثر ہوئے تھے کیونکہ آدھار کے لزوم کو غلط انداز سے اختیار کیا گیا تھا ۔ اس صورتحال میں عام آدمی پارٹی کے ارکان اسمبلی کو عوام کے زبردست دباؤ کا سامنا ہے ۔ پارٹی نے اپنے بیان میں کہا کہ کل رات چیف منسٹر کی قیامگاہ پر ارکان اسمبلی کا اجلاس تھا اور چیف سکریٹری کسی بھی سوال کا جواب دینے سے گریز کر رہے تھے ۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ارکان اسمبلی اور چیف منسٹر کو جوابدہ نہیں ہیں اور وہ صرف لیفٹننٹ گورنر کو جوابدہ ہیں۔ انشو پرکاش نے کچھ ارکان اسمبلی کے خلاف نازیبا زبان تک بھی استعمال کی اور کسی بھی سوال کا جواب دئے بغیر اجلاس سے اٹھ کر چلے گئے ۔ پارٹی نے ان دعووں کو غلط اطلاع قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا کہ یہ اجلاس ٹی وی اشتہارات کے مسئلہ پر منعقد ہوا تھا ۔ پارٹی نے کہا کہ اجلاس میں ساری بات چیت اور تبادلہ خیال راشن کی اجرائی کے مسئلہ پر ہی ہوا تھا کیونکہ راشن کی عدم اجرائی اور آدھار کے لزوم کی وجہ سے کئی خاندان اس سے محروم ہو رہے ہیں۔ پارٹی نے کہا کہ اب چیف سکریٹری کی جانب سے اس طرح کے بے بنیاد الزامات عائد کئے جا رہے ہیں۔ لازمی بات ہے کہ وہ ایسا بی جے پی کی ایما پہر کر رہے ہیں۔ بی جے پی حکومت کے کام کاج کو لیفٹننٹ گورنر اور عہدیداروں کے ذریعہ روک رہی ہے اور انتہائی نچلی سطح پر اتر آئی ہے ۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر چیف سکریٹری ہی اس طرح کے الزامات عائد کرنے لگیں تو پھر اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ بی جے پی کس حد تک عہدیداروں کے ذریعہ دہلی کی کجریوال حکومت کے کام کاج میں رکاوٹیں پیدا کر رہی ہے ۔ دہلی میں افسر شاہی اور عام آدمی پارٹی حکومت میں پہلے ہی سے سرد جنگ چل رہی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT