Saturday , October 20 2018
Home / شہر کی خبریں / چیف منسٹرس اوورسیز اسکالر شپ اسکیم

چیف منسٹرس اوورسیز اسکالر شپ اسکیم

سال 2016 کے بے شمار طلباء ہنوز پہلی قسط سے محروم
اقلیتی بہبود کے عہدہ دار چیف منسٹر کے اعلان پر عمل آوری سے قاصر کیوں ؟
حیدرآباد ۔ 21 ۔ نومبر : ( سیاست نیوز ) : اسمبلی اجلاس میں چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے اقلیتوں کی بہبود کے لیے بے شمار اقدامات کے حوالے سے کئی ایک اعلانات کئے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پچھلے تین برسوں سے اقلیتی بہبود کے لیے مختص بجٹ مکمل طور پر خرچ نہیں کیا جاسکا ۔ جس کا اثر شائد چیف منسٹر اوور سیز اسکالر شپ اسکیم پر بھی پڑا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ تعلیمی سال 2016 میں بیرونی یونیورسٹیز میں تعلیم حاصل کررہے تلنگانہ بالخصوص حیدرآباد کے کئی طلباء وطالبات ہنوز فیس کی پہلی قسط حاصل کرنے سے بھی قاصر ہیں ۔ جس کے باعث ان میں اور ان کے والدین میں تشویش کی لہر پائی جاتی ہے ۔ دلچسپی کی بات یہ ہے کہ کل ہی چیف منسٹر مسٹر کے سی آر نے اعلان کیا ہے کہ چیف منسٹر اوور سیز اسکالر شپ اسکیم کے ذریعہ اقلیتی طلبہ کسی بھی ملک کی یونیورسٹی میں داخلے لے سکتے ہیں ۔ اس اجلاس میں ڈپٹی چیف منسٹر جناب محمود علی ، حکومت کے مشیر برائے اقلیتی امور مسٹر اے کے خاں ، سکریٹری اقلیتی بہبود عمر جلیل اور دیگر اعلیٰ عہدہ دار موجود تھے ۔ آپ کو بتادیں کہ سال 2016 میں 400 سے زائد طلباء وطالبات نے چیف منسٹر اوورسیز اسکالر شپ اسکیم کے تحت درخواستیں داخل کی تھیں جن میں سے 140 طلبہ کا انتخاب کیا گیا ان 140 میں سے 100 طلبہ کو پہلی قسط ادا کی گئی جب کہ 40 طلباء وطالبات ہنوز پہلی قسط سے ہی محروم ہیں ۔ ایسے طلبہ اور ان کے والدین میں تشویش کا پایا جانا فطری امر ہے ۔ ایک تو تقریبا چالیس طلبہ ہنوز اسکالر شپ کی پہلی قسط سے محروم ہیں ۔ دوسرے 2017 کے لیے 500 طلبہ نے درخواستیں داخل کی ہیں ۔ ایسے میں پچھلے سال کے طلبہ کی اقساط جاری نہیں کی گئیں تو 2017 کے طلبہ کا کیا ہوگا ۔ اس بارے میں محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدہ داروں اور سکریٹری اقلیتی بہبود مسٹر عمر جلیل کو جواب دینا ہوگا ۔ حکومت اقلیتی بہبود کے لیے کروڑہا روپئے فنڈس جاری کرنے کا دعویٰ کرتی ہے ۔ اگر فنڈس جاری کئے جاتے ہیں تو پھر طلبہ اسکالر شپ کی پہلی قسط سے ابھی تک محروم کیوں ہیں اس اسکیم کا اور ایک مسئلہ یہ ہے کہ ایسے طلبہ گریجویشن میں جن کے نشانات 60 فیصد کے آس پاس ہیں انہیں بھی چیف منسٹرس اوورسیز اسکالر شپ اسکیم سے استفادہ کا موقع فراہم کیا جانا چاہئے ۔ اس لیے کہ سالانہ 250 طلبہ اس اسکیم کے تحت استفادہ کرسکتے ہیں ۔ اقلیتی بہبود کے عہدیدار کیا سالانہ 250 اقلیتی طلبہ کے بیرونی یونیورسٹیز میں داخلے کو یقینی نہیں بناسکتے ؟ اگر ذمہ دار عہدیدار حقیقت میں ذمہ داری کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیں تو اس اسکیم کے تحت طلبہ کی جو سالانہ تعداد مقرر کی گئی ہے انہیں بیرونی جامعات میں حصول علم کے مواقع مل سکتے ہیں ۔

TOPPOPULARRECENT