Wednesday , November 21 2018
Home / Top Stories / چیف منسٹرس اوور سیز اسکالر شپ اسکیم

چیف منسٹرس اوور سیز اسکالر شپ اسکیم

بروقت رقم نہ ملنے پر بیرون ملک طلباء وطالبات پریشان
والدین کی مشکلات میں اضافہ ، بجٹ نہیں عہدیداروں کا بہانہ
2015-16 کے بیاچ کو بھی 20 لاکھ دینے کا وعدہ !
حیدرآباد ۔ 11 ۔ اپریل : ( سیاست نیوز ) : حکومت تلنگانہ نے اقلیتی طلبہ کے لیے چیف منسٹرس اوورسیز اسکالر شپ اسکیم متعارف کرواتے ہوئے سارے ملک میں ایک بہترین مثال قائم کی ۔ اس اسکیم کے باعث ، مودی حکومت میں فرقہ پرستی کے باعث ملک کی جو شبیہہ بیرون ملک متاثر ہوئی اسے بہتر بنانے میں بھی مدد ملی ۔ لیکن اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ چیف منسٹر کے سی آر کی اس مثالی اسکیم کو سبوتاژ کرنے کی اعلیٰ عہدہ دار کوشش کررہے ہیں ۔ چیف منسٹر کے سی آر نے مسلم طلباء کو بھی بیرونی یونیورسٹیز میں داخلہ کے خواہاں اقلیتی طلبہ کو ایس سی ، ایس ٹی طلباء کے مماثل 20 لاکھ روپئے دینے کا اعلان کیا ۔ تاہم بے شمار طلبہ کو بیس لاکھ تو دور ہنوز صرف ٹکٹ کی رقم وصول ہوئی ہے اور بعض طلبہ کو ٹکٹس کی رقم بھی نہ مل سکی ۔ 2017 میں 271 طلباء کا اس اسکیم کے تحت انتخاب عمل میں آیا تھا ۔ اس دوران پریشان اولیائے طلباء نے بتایا کہ بیرون ملک کے تعلیمی اداروں میں بچوں کا سکنڈ سمسٹر بھی شروع ہوگیا ہے ۔ فیس کی ادائیگی میں انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ طلبہ کے یہ سرپرست جب اعلیٰ عہدہ داروں سے ربط پیدا کرتے ہیں تو انہیں مختلف بہانوں سے واپس کردیا جاتا ہے ۔ بعض مرتبہ تو ان سے صاف کہدیا جاتا ہے کہ بجٹ نہیں ہے ۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ چیف منسٹر کی جانب سے اقلیتوں کے لیے مختص بجٹ کا مقصد کیا ہے ۔ یہ بھی پتہ چلا ہے کہ صرف 16 طلبہ کے اکاونٹس میں فی کس دس لاکھ روپئے جمع کروائے گئے ہیں ۔ نتیجہ میں مابقی طلبہ کے والدین میں بے چینی پھیل گئی ہے ۔ آپ کو بتادیں کہ حکومت نے جی او نمبر 2672 / ایم ڈبلیو 1/A2/2017 جاری کرتے ہوئے اسکالر شپ کی رقم دس سے بیس لاکھ کرنے کا اعلان کیا تھا ۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ 2015-16 میں بھی جو طلباء وطالبات بیرونی یونیورسٹیز میں اس اسکیم کے تحت داخلہ لیا ہے ۔ انہیں بھی مزید دس لاکھ ( جملہ بیس لاکھ ) روپئے دئیے جائیں گے ۔ اس سلسلہ میں تلگو اخبارات میں رپورٹس بھی شائع ہوئی ہیں جس میں بتایا گیا کہ چیف منسٹر کے سی آر نے 2015-16 کے بیاچ کے طلباء وطالبات کو بھی دس لاکھ کی بجائے 20 لاکھ روپئے اسکالر شپ کی رقم دینے سے اتفاق کیا ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ حکومت وعدے تو بہت کررہی ہے لیکن اعلیٰ عہدہ دار شائد چیف منسٹر کی فلاحی اسکیمات میں رکاوٹ بن رہے ہیں جس سے غریب اقلیتی طلبہ اور ان کے والدین کو ناقابل بیان پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT