چیف منسٹروں کا جھگڑا ٹھنڈا پڑ گیا

محمد نعیم وجاہت

محمد نعیم وجاہت
نوٹ برائے ووٹ اور ٹیلیفون ٹیپ کرنے کے معاملے میں تلنگانہ اور آندھرا پردیش کے چیف منسٹرس قصوروار ہیں، مگر اس کی سزا سیکشن 8 کے تحت بے قصور حیدرآباد کو ملنے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔ 15 دنوں تک دونوں تلگو ریاستوں میں اس مسئلہ پر سیاسی بازار گرم رہا۔ چار دن قبل تک یہ مسئلہ ہر گھنٹہ ایک نیا رخ اختیار کرتا رہا۔ کے چندر شیکھر راؤ اور این چندرا بابو نائیڈو نے وزراء، پارٹی کے اہم قائدین اور پولیس کے اعلی عہدہ داروں کا وقفہ وقفہ سے نہ صرف اجلاس طلب کیا، بلکہ دونوں چیف منسٹرس گورنر نرسمہن کی تائید حاصل کرنے اور وزراء کو ایک دوسرے پر تنقید کرنے کے لئے مامور کیا، جب کہ پولیس کے اعلی عہدہ داروں نے عوام کو یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ دونوں چیف منسٹرس بہت جلد گرفتار ہو سکتے ہیں یا چندرا بابو نائیڈو کو گرفتار کیا گیا تو تلنگانہ کی ٹی آر ایس حکومت تحلیل ہوسکتی ہے۔

ٹی آر ایس اور تلگودیشم حکومتوں اور ان کے قائدین نے سیاسی بحران جیسا ماحول پیدا کردیا تھا، جس سے دونوں ریاستوں میں تجسس پیدا ہو گیا تھا، تاہم دونوں چیف منسٹرس کے حیدرآباد چھوڑکر اپنے اپنے اضلاع کے دورے پر جانے کے بعد اچانک یہ معاملہ ٹھنڈا پڑ گیا اور اعلی عہدہ داروں کی سرگرمیاں بھی کافی حد تک کم ہو گئیں۔ دراصل نوٹ برائے ووٹ اور ٹیلیفون ٹیپ کرنے کا معاملہ اب دہلی منتقل ہو گیا ہے۔ ان دونوں معاملات سے سیکشن 8 کا کوئی تعلق نہیں ہے، کیونکہ تقسیم ریاست کے موقع پر آندھرائی قائدین اور عوام کے خدشات دور کرنے کے لئے تقسیم ریاست بل میں سیکشن 8 شامل کرکے آئندہ دس برسوں کے لئے حیدرآباد کو تلنگانہ اور آندھرا پردیش کا مشترکہ دارالحکومت قرار دیا گیا ہے اور حیدرآباد کے لاء اینڈ آرڈر کی ذمہ داری گورنر کے حوالے کی گئی ہے۔ سیکشن 8 میں اس بات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ اگر حیدرآباد میں نظم و ضبط کا کوئی مسئلہ پیدا ہوتا ہے تو گورنر تلنگانہ کی کابینہ سے مشورہ کریں اور رائے حاصل ہونے کے بعد وہ کسی بھی فیصلہ کے مجاز ہوں گے۔ مرکزی حکومت نے گورنر کے لئے دو مشیر بھی نامزد کئے تھے۔ علاوہ ازیں گورنر نرسمہن گزشتہ ایک سال کے دوران جب بھی دہلی گئے، انھوں نے وزیر اعظم سے حیدرآباد میں اپنے اختیارات کے متعلق بات چیت کی، لیکن وزیر اعظم نے انھیں مرکزی وزیر داخلہ سے معاملہ نمٹانے کا مشورہ دے کر ٹال دیا۔ باوثوق ذرائع سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ جب گورنر نے اس مسئلہ پر مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ سے تبادلہ خیال کیا تو انھوں نے گورنر سے دریافت کیا: ’’کیا حیدرآباد میں لاء اینڈ آرڈر کا کوئی مسئلہ ہے؟‘‘۔ لیکن گورنر کا جواب نفی میں پاکر انھوں نے کہا کہ ’’جیسا چل رہا ہے چلنے دو‘‘۔

نوٹ برائے ووٹ معاملے میں تلگودیشم رکن اسمبلی ریونت ریڈی کی ٹی آر ایس کے نامزد رکن اسمبلی اسٹیفن سے سودے بازی اور 50 لاکھ روپیوں کے ساتھ پکڑے جانے کے بعد تلگودیشم نے اپنے دفاع کے لئے سیکشن 8 کو پیش کیا۔ پہلے تو ریونت ریڈی نے انھیں دوسری جگہ گرفتار کرنے اور ضبط کردہ نوٹوں سے اپنی لاتعلقی ظاہر کرتے ہوئے اسے ٹی آر ایس حکومت کی سازش قرار دیا، مگر اسٹنگ آپریشن کی ویڈیو کلپنگ ٹیلی ویژن چینلس پر پیش کئے جانے کے بعد تلگودیشم بوکھلاہٹ کا شکار ہو گئی، کیونکہ اسٹیفن سے چیف منسٹر آندھرا پردیش چندرا بابو نائیڈو نے بھی بات چیت کی تھی۔ ریونت ریڈی نے پیشگی کے طورپر 50 لاکھ روپئے دیئے اور تلگودیشم کے حق میں ووٹ استعمال کرنے پر مزید 4.5 کروڑ روپئے دینے کا وعدہ کیا تھا۔ ویڈیو فوٹیج میں یہ بھی دکھایا گیا ہے کہ ’’ان کے باس نے انھیں یہ ذمہ داری سونپی ہے اور ان کے خلاف اگر کوئی کارروائی ہوئی تو انھیں آندھرا پردیش کے اینگلو انڈین کوٹے میں دوبارہ رکن اسمبلی نامزد کیا جائے گا‘‘۔
تلگودیشم کی سودے بازی کی اطلاع ٹی آر ایس قیادت کو پہلے ہی پہنچ گئی تھی، لہذا اس نے اے سی بی کو اطلاع دیتے ہوئے جال بچھاکر ریونت ریڈی کو گرفتار کروالیا۔ آٹھ دس دن تک چندرا بابو نائیڈو نے اس معاملے پر اپنا ردعمل ظاہر نہیں کیا، اپنے اجلاسوں میں صرف اے سی بی تلنگانہ کی سرگرمیوں کا جائزہ لیتے رہے، لیکن 7 جون کو اسٹیفن اور مسٹر نائیڈو کے درمیان ٹیلیفون پر کی گئی بات چیت کے منظر عام پر آنے کے بعد انھوں نے اپنی قیامگاہ پر پولیس کے اعلی عہدہ داروں کا اجلاس طلب کیا اور تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد حکومت کے مشیر پرکالا پربھاکر نے پریس کانفرنس کے دوران چندرا بابو کا ٹیلیفون ٹیپ کرنے ٹی آر ایس حکومت پر الزام عائد کیا، جب کہ گنٹور میں آندھرا پردیش کی پہلی یوم تاسیس تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چندرا بابو نائیڈو نے اپنی خاموشی توڑی اور دہلی پہنچ کر وزیر اعظم، مرکزی وزیر داخلہ، مرکزی وزیر ٹیلی کمیونکیشن اور دیگر سے ملاقات کرکے اپنے علاوہ آندھرا پردیش کے وزراء اور دیگر 120 اہم شخصیتوں کے ٹیلیفونس ٹیپ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے چیف منسٹر تلنگانہ اور ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا اور حیدرآباد کے نظم و ضبط کی ذمہ داری گورنر کے حوالے کرنے پر زور دیا۔ بعد ازاں دونوں ریاستوں کی صورت حال کشیدہ ہونے پر مرکزی حکومت نے گورنر کو دہلی طلب کرکے تازہ صورت حال سے واقفیت حاصل کی۔

چوں کہ تلگودیشم این ڈی اے کی حلیف ہے، لہذا اس کی طرف بی جے پی کا جھکاؤ یقینی ہے۔ ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ مرکزی حکومت نے ٹیلیفون ٹیپ کرنے کی محکمہ جاتی تحقیقات کروائی اور مسٹر نائیڈو کی جانب سے پیش کردہ شواہد کا جائزہ لے رہی ہے، جب کہ گورنر کی جانب سے فراہم کردہ رپورٹ کو ایڈوکیٹ جنرل سے رجوع کرتے ہوئے سیکشن 8 کے نفاد پر قانونی رائے طلب کی ہے۔ مرکز یہ بھی جائزہ لے رہا ہے کہ حیدرآباد کے نظم و ضبط کے مسئلہ کو گورنر کے حوالے کرنے کے لئے آئندہ پارلیمانی اجلاس تک قانون میں ترمیم کے لئے انتظار کیا جائے یا آرڈیننس جاری کرتے ہوئے سیکشن 8 پر عمل آوری کو یقینی بنایا جائے؟۔

ان دونوں معاملے میں قصوروار دونوں ریاستوں کے چیف منسٹرس ہیں، مگر سزا حیدرآباد کو دینے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ تلنگانہ اے سی بی نے چار دن کے لئے ریونت ریڈی اور دیگر دو افراد کو اپنی تحویل میں لے کر پوچھ تاچھ کی، جب کہ چوتھا ملزم متیا فرار ہے۔ انھوں نے وجے واڑہ کے ایک پولیس اسٹیشن میں چیف منسٹر کے سی آر اور ٹی آر ایس کے غنڈوں کے خلاف شکایت درج کرائی ہے۔ علاوہ ازیں چیف منسٹر تلنگانہ کے خلاف آندھرا پردیش کے مختلف پولیس اسٹیشنوں میں 88 مقدمات درج کئے گئے ہیں۔ تلنگانہ اے سی بی کی قیادت اے کے خان کر رہے ہیں اور شک کی بنیاد پر تلگودیشم قائدین کو نوٹس دے کر پوچھ تاچھ کی فہرست تیار کر رہے ہیں۔ اب تک اے سی بی نے تلگودیشم کے ایک ایم ایل سی سے پوچھ تاچھ کی ہے اور تلگودیشم رکن اسمبلی وینکٹ ویریا کو رجوع ہونے کی نوٹس جاری کی ہے۔ اسی طرح آندھرا پردیش حکومت نے بھی کے سی آر کے خلاف درج کئے گئے مقدمات کی تحقیقات کے لئے محمد اقبال کی قیادت میں ایس آئی ٹی تشکیل دی ہے۔ ایس آئی ٹی ٹیلیفون ٹیاپنگ کے علاوہ دیگر معاملات کا جائزہ لے کر نوٹس جاری کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔سارے ایپی سوڈ میں چندر شیکھر راؤ اور چندرا بابونائیڈو برابر کے ذمہ دار ہیں اور دونوں ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ چیف منسٹر تلنگانہ کے فرزند ریاستی وزیر پنچایت راج دہلی پہنچ کر مختلف مرکزی وزراء سے ملاقات کرتے ہوئے نوٹ برائے ووٹ معاملے میں مسٹر نائیڈو کے ملوث ہونے کا ثبوت پیش کر رہے ہیں اور ٹیلیفون ٹیاپنگ کی تردید کر رہے ہیں۔

مذکورہ معاملات سے کوئی تعلق نہ ہونے کے باوجود صدر وائی ایس آر کانگریس جگن موہن ریڈی نے حیدرآباد میں گورنر سے اور دہلی میں مرکزی وزراء سے ملاقات کرتے ہوئے چیف منسٹر کے عہدہ سے چندرا بابو نائیڈو کی بے دخلی کا مطالبہ کیا۔ اگر مرکزی حکومت سیکشن 8 پر عمل آوری کے لئے گرین سگنل دیتی ہے تو چندرا بابو نائیڈو کی جیت ہوگی اور چندر شیکھر راؤ کا کنٹرول ختم ہوکر حیدرآباد کا نظم و ضبط گورنر کے کنٹرول میں چلا جائے گا۔

TOPPOPULARRECENT