Tuesday , December 12 2017
Home / شہر کی خبریں / چیف منسٹرکا لہجہ تکبر کی علامت، عوام کیلئے گالی قبول

چیف منسٹرکا لہجہ تکبر کی علامت، عوام کیلئے گالی قبول

دھمکیاں مجھے مسائل پیش کرنے سے روک نہیں سکتیں، تلنگانہ میں ایک خاندان کا راج: پروفیسر کودنڈا رام

حیدرآباد۔/7اکٹوبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ عوام کی بھلائی کیلئے آواز اٹھانے پر اگر مجھے کوئی گالی دیتا ہے تو مجھے قبول ہے۔ تلنگانہ کی تشکیل کے وقت عوام نے جو خواب دیکھا تھا اُن کی تکمیل کے سلسلہ میں میری جدوجہد جاری رہے گی اور چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے جس تکبرانہ لہجہ میں مجھے بُرا بھلا کہا ہے میں اسی زبان میں جواب دینا مناسب نہیں سمجھتا۔ چیف منسٹر کے الزامات اور لہجہ کو میں ان کے ضمیر پر چھوڑتا ہوں۔ تلنگانہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے صدرنشین پروفیسر کودنڈا رام نے ’سیاست‘ سے بات چیت کرتے ہوئے چیف منسٹر کے اُن کے خلاف ریمارک پر کچھ اس طرح کا تبصرہ کیا۔ پروفیسر کودنڈا رام کی قیادت میں آج جے اے سی کا اجلاس منعقد ہوا جس میں چیف منسٹر کے بیان کا جائزہ لیا گیا۔ جے اے سی نے اپنی عظیم روایات کو برقرار رکھتے ہوئے چیف منسٹر کے اندازِ بیان اور دھمکی آمیز لہجہ کا جواب دینے کے بجائے تلنگانہ عوام کی بھلائی کیلئے اپنی جدوجہد جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کودنڈا رام نے کہا کہ چیف منسٹر کا بیان دراصل اقتدار کے نشہ میں ادا کئے گئے الفاظ کے سوا کچھ نہیں اور یہ ان کے غرور اور تکبر کو ظاہر کرتا ہے۔ اقتدار کسی بھی پارٹی اور شخصیت کیلئے مستقل نہیں ہوتا۔ عوام نے ہمیشہ اس طرح کے متکبر قائدین کو سبق سکھایا ہے۔ کودنڈا رام نے کہا کہ وہ اگر تلنگانہ عوام کے حق میں آواز اٹھاتے ہیں تو چیف منسٹر کو برا کیوں لگ رہا ہے۔ اگر وہ حقیقی معنوں میں تلنگانہ عوام کے ہمدرد ہیں تو پھر انہیں جے اے سی کی تجاویز اور خامیوں کی نشاندہی کو خندہ پیشانی سے قبول کرنا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کی تشکیل کے وقت عوام نے اپنے روشن مستقبل کیلئے جو توقعات وابستہ کی تھیں وہ گزشتہ تین برسوں میں مایوسی میں تبدیل ہوچکی ہیں۔ تلنگانہ میں صرف ایک خاندان کی حکمرانی چل رہی ہے اور تمام فیصلے چیف منسٹرکے سی آر کررہے ہیں۔ حالانکہ جمہوریت میں اس طرح کا طرزِ حکمرانی آمریت اور ڈکٹیٹر شپ کے تحت آتا ہے۔ کودنڈا رام نے کے سی آر سے کہا کہ وہ ہرگز اس خوش فہمی میں نہ رہیں کہ صرف ان کی مساعی سے تلنگانہ ریاست حاصل ہوئی ہے۔ تلنگانہ کے ہر شخص نے ریاست کیلئے جدوجہد کی اور ہزاروں نوجوانوں کی قربانیاں شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس طرح کی دھمکیوں سے خوفزدہ ہونے والے نہیں اور وہ تلنگانہ تحریک کے نظریہ ساز پروفیسر جئے شنکر کی نصیحت پر قائم ہیں جس میں انہوں نے تلقین کی تھی کہ تلنگانہ کی تشکیل کے بعد عوامی اُمیدوں کی تکمیل کیلئے جدوجہد کی جائے۔ کودنڈا رام نے کہا کہ چیف منسٹر ہر معاملہ میں تنہا فیصلے کررہے ہیں حتیٰ کہ کابینہ کو بھی اعتماد میں نہیں لیا جارہا ہے۔ تلنگانہ کے عوام نے صرف ایک خاندان کی خوشحالی کیلئے قربانیاں نہیں دیں۔ کودنڈا رام نے کہا کہ ٹی آر ایس پارٹی اور حکومت ایک خاندانی ورثے میں تبدیل کردی گئی ہے اور کسی کو آواز اٹھانے کی اجازت نہیں۔ تمام اختیارات چیف منسٹر تک محدود ہیں اور وزراء و عوامی نمائندے برائے نام ہوکر رہ گئے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ تلنگانہ حکومت کے بیشتر پراجکٹس جن میں مشن بھگیرتا اور مشن کاکتیہ شامل ہیں ان سے آندھرائی کنٹراکٹرس کو فائدہ پہنچایا جارہا ہے۔ آندھرائی ظلم اور لوٹ کے خلاف تلنگانہ ریاست کا مطالبہ کیا گیا تھا لیکن علحدہ ریاست کی تشکیل کے باوجود آندھرائی کنٹراکٹرس کا تسلط برقرار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بے زمین افراد میں 3 ایکر اراضی کی تقسیم، ڈبل بیڈ روم مکانات اور نوجوانوں کیلئے روزگار کے وعدے محض کاغذی بن کر رہ گئے ہیں۔ بھلائی اسکیمات کیلئے حکومت کے پاس بجٹ نہیں ہے۔ پراجکٹس کے ٹنڈرس ڈیزائن کو قطعیت دیئے بغیر ہی طلب کئے جارہے ہیں اور بعد میں ری ڈیزائننگ کے نام پر کنٹراکٹرس کو فائدہ پہنچایا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی دھمکیاں جے اے سی کو جدوجہد کے راستہ سے ہٹا نہیں سکتیں۔ چیف منسٹر اپنے عہدہ کے وقار کو ملحوظ رکھے بغیر تشدد کو ہوا دینے کی کوشش کررہے ہیں۔ انہوں نے چیف منسٹر کے اس بیان پر افسوس کا اظہار کیا جس میں انہوں نے جے اے سی کے اجلاس میں شرکت نہ کرنے اور سوشیل میڈیا میں حکومت کے خلاف لکھنے پر قانونی کارروائی کی دھمکی دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی سوچ غیر جمہوری ہے۔ پروفیسر کودنڈا رام نے کہا کہ عوامی مسائل پر حکومت سے سوال کرنے کے بدلے دھمکیاں اور گالیاں مل رہی ہیں لیکن وہ تلنگانہ کے مفاد میں اسے قبول کرنے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر نے دو گھنٹے طویل پریس کانفرنس میں زیادہ تر وقت شخصی حملوں پر صرف کیا ہے۔ کودنڈارام نے کہاکہ جے اے سی نے تلنگانہ تحریک میں جس طرح کا رول ادا کیا اور تمام جماعتوں کو متحد کرنے میں ان کے رول سے عوام اچھی طرح واقف ہیں۔ اگر ان میں سیاسی عزائم ہوتے تو وہ آج اقتدار کی راہداریوں میں نظر آتے۔

 

TOPPOPULARRECENT