Wednesday , September 26 2018
Home / شہر کی خبریں / چیف منسٹر ، نامزد عہدوں پر اقلیتوں کے تقررات کے حق میں

چیف منسٹر ، نامزد عہدوں پر اقلیتوں کے تقررات کے حق میں

اقلیتی کمیشن اور حج کمیٹی تقررات میں خامیوں پر اظہار ناراضگی اور عہدیداروں کی سرزنش
حیدرآباد۔13۔ فروری (سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ اقلیتوں کو سرکاری اداروں کے نامزد عہدوں پر تقررات حق میں ہیں ، تاہم بتایا جاتا ہے کہ حال ہی میں دو اقلیتی اداروں کے تقررات کے طریقہ کار نے چیف منسٹر کو ناراض کردیا ہے۔ اقلیتی کمیشن اور حج کمیٹی کے تقررات میں کی گئی خامیوں سے چیف منسٹر ناراض ہیں اور بتایا جاتا ہے کہ یہی ناراضگی دیگر اداروں پر تقررات میں تاخیر کا سبب بن رہی ہے۔ اقلیتی کمیشن اور حج کمیٹی کے تقررات کے سلسلہ میں جاری کردہ احکامات کو تبدیل کرتے ہوئے نئے احکامات جاری کرنے پڑے کیونکہ دونوں اداروں میں قواعد کے برخلاف تقررات عمل میں لائے گئے تھے۔ چیف منسٹر نے جب تقررات کو منظوری دی ، اس وقت محکمہ اقلیتی بہبود نے دونوں اداروں کے سلسلہ میں مقررہ قواعد کا پاس و لحاظ نہیں رکھا جس کے نتیجہ میں حکومت کو اپوزیشن کی تنقیدوں کا سامنا کرنا پڑا۔ کمیشن میں نائب صدرنشین کے عہدہ پر عیسائی طبقہ سے تعلق رکھنے والی شخصیت کو نامزد کیا جانا ہے لیکن ایس سی طبقہ کے فرد کو نائب صدرنشین مقرر کیا گیا ۔ بعد میں قانونی پیچیدگیوں سے بچنے کیلئے نائب صدرنشین کو تبدیل کرتے ہوئے ترمیمی جی او جاری کیا گیا ۔ اسی طرح حج کمیٹی کی تشکیل میں بھی قانون کی خلاف ورزی کی گئی ۔ حج ایکٹ کے مطابق کمیٹی میں شیعہ رکن کی شمولیت لازمی ہے لیکن پہلے جاری کردہ جی او میں کوئی بھی شیعہ رکن نہیں تھا ۔ بعد میں ایک رکن سے استعفیٰ حاصل کرتے ہوئے خاتون شیعہ رکن کو شامل کیا گیا ۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر کے دفتر نے محکمہ اقلیتی بہبود کی دونوں غلطیوں پر ناراضگی کا اظہار کیا کیونکہ قواعد کو ملحوظ رکھنا محکمہ کی ذمہ داری ہے اور دونوں موا قع پر محکمہ نے چیف منسٹر کے دفتر کو ضروری قواعد سے آگاہ نہیں کیا ۔ حج کمیٹی میں خاتون رکن کی شمولیت کے بعد تنازعہ نے شدت اختیار کرلی کیونکہ جس خاتون کو شامل کیا گیا، ان کا تعلق کانگریس پارٹی سے ہے۔ مذکورہ رکن نے کانگریس سے اپنی وابستگی کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، اس طرح کمیٹی میں اپوزیشن کے رکن کی شمولیت حکومت کی بدنامی کا سبب بن رہی ہے۔ ٹی آر ایس سے تعلق رکھنے والے اقلیتی قائدین نے دونوں اداروں میں کی گئی غلطیوں کے بارے میں چیف منسٹر سے نمائندگی کی ۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر نے اقلیتی بہبود عہدیداروں کی سرزنش کی اور مستقبل میں اس طرح کی غلطیوں سے بچنے کی ہدایت دی۔ حج کمیٹی میں کانگریس رکن کا استعفیٰ حاصل کرتے ہوئے ٹی آر ایس سے تعلق رکھنے والی خاتون رکن کو شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا لیکن معاملہ اس وقت بگڑ گیا جب کانگریسی قائد نے مبینہ طور پر استعفیٰ دینے سے انکار کردیا۔ حکومت کے پاس کسی رکن کی برطرفی کیلئے جو شرائط ہیں ، انکا اطلاق کانگریسی قائد پر نہیں ہوتا۔ لہذا حج کمیٹی کی تشکیل مستقل طور پر تنازعہ کی شکل اختیار کرچکی ہے۔ اسی طرح خاتون رکن کو استعفیٰ کے لئے منانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ چیف منسٹر کی ناراضگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ انہوں نے کسی بھی اقلیتی قائد کو ملاقات کیلئے وقت نہیں دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ ڈپٹی چیف منسٹر اور حج کمیٹی کے نئے صدرنشین ملاقات کیلئے کئی دن سے کوشاں ہیں لیکن ابھی تک چیف منسٹر کے دفتر نے ملاقات کا وقت مقرر نہیں کیا ۔ عام طور پر کسی ادارہ کے نئے صدرنشین کو خیرسگالی ملاقات کا وقت تقرر کے فوری بعد دیا جاتا ہے لیکن حج کمیٹی کے صدرنشین کو ابھی تک چیف منسٹر کا اپائٹمنٹ نہیں مل سکا۔ بتایا جاتا ہے کہ ناراضگی کے نتیجہ میں چیف منسٹر دیگر اداروں پر تقررات کے عمل کو موخر کردیا ہے۔ اگرچہ اردو اکیڈیمی کی تشکیل اور دیگر اداروں میں ڈائرکٹرس کے تقررات کی فہرست چیف منسٹر کی منظوری کی منتظر ہے لیکن انہوں نے متعلقہ فائل کو زیر التواء رکھ دیا ہے ۔ توقع ہے کہ چیف منسٹر کی نئی دہلی سے واپسی کے بعد تقررات کے سلسلہ میں کوئی پیشرفت ہوگی۔

TOPPOPULARRECENT