Monday , January 22 2018
Home / شہر کی خبریں / چیف منسٹر آندھراپردیش چندرا بابو کیخلاف گورنر سے نمائندگی

چیف منسٹر آندھراپردیش چندرا بابو کیخلاف گورنر سے نمائندگی

وعدوں سے انحراف اور سیاسی انتقام کا الزام، اے پی کانگریس قائدین کی یادداشت

وعدوں سے انحراف اور سیاسی انتقام کا الزام، اے پی کانگریس قائدین کی یادداشت
حیدرآباد ۔ 6 ڈسمبر (سیاست نیوز) آندھراپدیش کانگریس کمیٹی کے ایک وفد نے گورنر نرسمہن سے ملاقات کرتے ہوئے وعدوں سے انحراف کرنے کا چیف منسٹر آندھراپردیش چندرا بابو نائیڈو پر الزام عائد کرتے ہوئے 12 صفحات پر مشتمل ایک یادداشت پیش کی۔ صدر آندھراپردیش کانگریس کمیٹی مسٹر این راگھوویرا ریڈی کی قیادت میں ایک وفد جس میں سابق مرکزی وزیر چرنجیوی، کانگریس کے رکن راجیہ سبھا ڈاکٹر کے وی پی رامچندر راؤ، سابق صدر پردیش کانگریس کمیٹی بوتسہ ستیہ نارائنا، سابق وزیر کے مرلی کے علاوہ دوسرے قائدین نے راج بھون پہنچ کر گورنر سے ملاقات کی۔ چندرا بابو کے دوراقتدار پر ایک یادداشت پیش کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ چیف منسٹر آندھراپردیش سے ناانصافی کررہے ہیں سیاسی انتقام لیا جارہا ہے۔ نئے دارالحکومت کیلئے کسانوں اور عوام سے زبردستی اراضی حاصل کی جارہی ہے۔ وظیفوں کو منسوخ کردیا جارہا ہے۔ شراب کے بیلٹ شاپس بند کرنے کا انتخابی منشور میں وعدہ کیا گیا۔ تاہم ہزاروں کی تعداد میں بیلٹ شاپس کو منظوری دی جارہی ہے۔ بیروزگار کو روزگار نہیں دیا گیا اور نہ ہی بیروزگاری بھتہ جاری کیا گیا۔ آنگن واڑی ورکرس کو تنخواہوں سے محروم کیا جارہا ہے۔ 500 سے زائد منڈل خشک سالی سے متاثر ہیں۔ کسان پریشان ہیں۔ کسانوں اور ڈاکرا خواتین کے قرضوں کی معافی کے معاملے میں صرف زبانی جمع خرچ وعدے کئے جارہے ہیں۔ روزگار کیلئے عوام نقل مقام کررہے ہیں۔ صرف ضلع اننت پور میں 50 کسانوں نے خودکشی کی ہے۔ قرضوں کی معافی کے سلسلہ میں تلگودیشم حکومت مشروط بنتے ہوئے نہ صرف کسانوں میں مایوسی پیدا کررہی ہے بلکہ انتخابی وعدے سے انحراف کررہی ہے جس کی کانگریس پارٹی سخت مذمت کرتی ہے۔

TOPPOPULARRECENT