Monday , September 24 2018
Home / شہر کی خبریں / چیف منسٹر اراضی اسکام میں ملوث : ریونت

چیف منسٹر اراضی اسکام میں ملوث : ریونت

جلد بازی میں مختص اراضیات آرڈیننس کی اجرائی کا بھی الزام
حیدرآباد 12 فبروری ( این ایس ایس ) کانگریس لیڈر اے ریونت ریڈی نے الزام عائد کیا کہ ٹی آر ایس حکومت نے مختص اراضیات آرڈیننس جاری کرنے ہی اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کیا ہے ۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ اور جے رامیشور راؤ آرڈیننس سے متعلق اراضیات کے اسکام میں ملوث ہیں۔ یہاں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ریونت ریڈی نے کہا کہ ٹی آر ایس حکومت یہ تاثر دینا چاہتی ہے کہ وہ استفادہ کنندگان کے فائدہ کیلئے مختص اراضیات سے متعلق آرڈیننس جاری کر رہی ہے ۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ کے سی آر خاندان کا کروڑ ہا روپئے کا اراضی اسکام اس آرڈیننس کی اجرائی کی اصل وجہ ہے ۔ انہں نے چیف منسٹر سے مطالبہ کیا کہ ان کے الزامات کا جواب دیںاگر وہ سنجیدہ ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ جے رامیشور راؤ در اصل اس اراضی اسکام میں چیف منسٹر کا بے نامی رول ہیں۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ تقریبا 4,000 ایکڑ اراضی شمس آباد اور مہیشورم میں جے رامیشور راؤ کے پاس تھیں۔ حکومت نے سینئر آئی اے ایس عہدیدار بی آر مینا کو محکمہ ال سے تبادلہ کردیا کیونکہ انہوں نے مختص کردہ اراضیات کو جو ایچ ایم ڈی اے کے دائرہ کار میں تھیں باقاعدہ بنانے کی مخالفت کی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ کلکٹر رنگا ریڈی نے یہ اراضیات رامیشور راؤ کے حوالے کیں اور حکومت جلد بازی میں اسی لئے آرڈیننس جاری کر رہی ہے کیونکہ وہ غیر قانونی طور پر ان اراضیات کو باقاعدہ بنانا اور رامیشور راؤ کو فائدہ پہونچانا چاہتی ہے ۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ یہ واضح کرے کہ رامیشور راؤ کے پاس شمس آباد اور مہیشورم علاقوں میں کتنی اراضیات تھیں اور ان میں کتنے ایکر اراضیات مختص کردہ تھیں۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT