Friday , December 15 2017
Home / ہندوستان / چیف منسٹر ارونا چل پردیش کے خلاف سی بی آئی تحقیقات

چیف منسٹر ارونا چل پردیش کے خلاف سی بی آئی تحقیقات

گوہاٹی ہائی کورٹ کی ہدایت پر سپریم کورٹ کا حکم التواء

نئی دہلی ۔ 26 ۔ اگست : ( سیاست ڈاٹ کام ) : چیف منسٹر ارونا چل پردیش نبم ٹوکی کو راحت فراہم کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے آج سال 2006 میں وزیر تعمیرات عامہ کی حیثیت سے ان کے خلاف عائد کرپشن کے الزامات کی سی بی آئی تحقیقات کے لیے گوہاٹی ہائی کورٹ کے حکم پر روک لگادی ہے ۔ چیف جسٹس ایچ ایل دتو کی زیر قیادت 3 رکنی بنچ نے 21 اگست کے ہائی کورٹ حکم کے خلاف چیف منسٹر کی عرضی پر سی بی آئی اور دیگر کو نوٹس جاری کی ہے ۔ نبم ٹوکی (Nabam Tuki) پر الزام ہے کہ 2006 میں بحیثیت وزیر تعمیرات عامہ بعض کنٹراکٹس اپنے رشتہ داروں کو منظور کروانے کے لیے حکومت پر اثر انداز ہوئے تھے ۔ جب کہ بیشتر کنٹراکٹس شیلانگ ، کولکتہ اور روہتک میں کیندریہ ودیالیہ اور دہلی میں ارونا چل پردیش بھون کی تعمیر سے متعلق تھے ۔ تاہم چیف منسٹر نے الزام عائد کیا کہ ہائی کورٹ نے عجلت پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مفاد عامہ کی درخواستوں کو ایٹانگر سے گوہاٹی بنچ منتقل کردیا ۔ درخواست گذار نے یہ سوال اٹھایا کہ ہائی کورٹ فریقین کی سماعت کے بغیر 10 سال قیدم کنٹراکٹس کی سی بی آئی تحقیقات کا حکم کس طرح دے سکتی ہے جس کے تعمیراتی کام مکمل کرلیے گئے ہیں ۔ قبل ازیں ہائی کورٹ نے 21 اگست کو سی بی آئی کو یہ ہدایت دی تھی کہ چیف منسٹر کے خلاف 10 سال قبل ٹنڈر طلب کیے بغیر وزیر تعمیرات عامہ کے حیثیت سے اپنی اہلیہ ، نسبتی ہمشیرہ اور بھائی اور دیگر رشتہ داروں کو کنٹراکٹس منظور کئے جانے میں قصور وار پائے جانے پر کیس درج کیا جائے اور چیف منسٹر کے ساتھ ڈائرکٹر اسپورٹس کونسل ارونا چل پردیش کے خلاف تحقیقات کا حکم دیا تھا ۔

TOPPOPULARRECENT