Tuesday , December 11 2018

چیف منسٹر اور ان کے ارکان خاندان پر الزام تراشی ناقابل برداشت

تلگو دیشم سے کانگریس میں شامل ہونے والے ریونت ریڈی کو ڈاکٹر پی راجیشور ریڈی کا انتباہ
حیدرآباد۔ 23 نومبر (سیاست نیوز) تلنگانہ راشٹریہ سمیتی نے تلگودیشم سے استعفیٰ دینے والے رکن اسمبلی ریونت ریڈی کو انتباہ دیا کہ وہ چیف منسٹر اور ان کے ارکان خاندان کے خلاف الزام تراشی سے باز آجائیں۔ گورنمنٹ وہپ ڈاکٹر پی راجیشور ریڈی نے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ریونت ریڈی جرائم کی سیاست اختیار کرتے ہیں اور ان کے روابط جرائم میں ملوث افراد سے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی سرگرمیوں کے سبب ریونت ریڈی کا جیل جانا یقینی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلگودیشم سے علیحدگی اختیار کرنے کے بعد ریونت ریڈی کی مجرمانہ سرگرمیوں میں اضافہ ہوچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دنوں میڈیا سے غیر رسمی بات چیت کرتے ہوئے ریونت ریڈی نے چیف منسٹر اور ان کے ارکان خاندان کے خلاف بے بنیاد الزامات عائد کیے۔ انہوں نے کہا کہ ریونت ریڈی چیف منسٹر اور ان کے خاندان کو نشانہ بنانا اپنا بنیادی مقصد بناچکے ہیں۔ راجیشور ریڈی نے کہا کہ 28 تا 30 نومبر حیدرآباد میں منعقد ہونے والے عالمی معاشی سمٹ کے سلسلہ میں سکیوریٹی انتظامات کے تحت بعض پروگراموں کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شعراء کے مقابلے سے متعلق پروگرام کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ عالمی سمٹ کے پس منظر میں دیا گیا ہے۔ لیکن ریونت ریڈی اسے بھی حکومت پر تنقید کے لیے استعمال کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے وقت جبکہ عالمی سمٹ جاری رہے، پولیس کے لیے شعراء کے مقابلوں کا انعقاد اور اس کی اجازت دینا ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ رحمن کنسرٹ کو اجازت کی آڑ میں حکومت کو تنقید کا نشانہ بنانا حقائق سے عدم واقفیت کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد میں مختلف بین الاقوامی آئی ٹی کمپنیوں کی جانب سے مختلف پروگرام منعقد کئے جارہے ہیں اور ان کا انعقاد ڈسمبر میں ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اے آر رحمن کنسرٹ کے انعقاد سے حکومت کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ حیدرآباد میں ہونے والے مختلف پروگراموں سے کے ٹی آر کو جوڑنا نامناسب ہے۔ ریونت ریڈی کو اپنے الزامات کے حق میں ثبوت پیش کرنا چاہئے۔ راجیشور ریڈی نے کہا کہ وہ ان الزامات کو غلط ثابت کرسکتے ہیں اور اس کے لیے ریونت ریڈی کو کھلے مباحث کا چیلنج کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ریونت ریڈی الزامات کو ثابت کرنے میں ناکام رہیں تو انہیں تحریری طور پر معذرت خواہی کرنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس نے گزشتہ تین برسوں میں سماجی برائیوں میں اضافہ سے متعلق سرگرمیوں پر قابو پانے میں اہم رول ادا کیا۔ برخلاف اس کے کانگریس دور حکومت میں پبس، کارڈس کے کلبس اور گڑمبے کا کاروبار عروج پر تھا۔ ٹی آر ایس حکومت نے کارڈس کھیلنے کے کلبس پر پابندی عائد کردی اور گڑنبہ کے کاروبار پر سختی سے کنٹرول کیا گیا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ مرکزی حکومت نے خود اس بات کا اعتراف کیا کہ حیدرآباد ڈرگس کی سرگرمیوں کا مرکز نہیں ہے۔ 2014ء میں حیدرآباد میں 423 وائن شاپس اور بار تھے جبکہ 2017ء میں یہ تعداد گھٹ کر 441 ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریونت ریڈی اسپیکر کو استعفیٰ پیش کیے بغیر ہی تنخواہ، سکیوریٹی اور کوارٹر سے دستبرداری کا ڈرامہ کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں رکن اسمبلی ہوتے ہوئے آندھراپردیش کے چیف منسٹر کو استعفیٰ پیش کرنا مضحکہ خیز ہے۔ انہوں نے ریونت ریڈی کو چیلنج کیا کہ اگر ان میں ہمت ہو تو اسپیکر تلنگانہ اسمبلی سے مل کر استعفیٰ پیش کریں۔ انہوں نے کہا کہ ضمنی انتخابات میں ٹی آر ایس کوڑنگل کے ایک عام کارکن کو انتخابی میدان میں اتارتے ہوئے بآسانی کامیابی حاصل کرسکتی ہے۔

TOPPOPULARRECENT