Sunday , December 17 2017
Home / اداریہ / چیف منسٹر اور مسلم تحفظات

چیف منسٹر اور مسلم تحفظات

پوشیدہ جو دل میں ہے وسیم ایک اجالا
سچائی کی راہوں سے بھٹکنے نہیں دیتا
چیف منسٹر اور مسلم تحفظات
مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات کی فراہمی کے بارے میں چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے اپنی حکومت کی سنجیدگی کا ثبوت دینے کی کوشش کرتے ہوئے اعلان کیا کہ وہ تحفظات کے لئے بہت جلد اسمبلی کا خصوصی سیشن طلب کریں گے جس میں قرارداد منظور کرلی جائے گی  ۔اس قرارداد کے ذریعہ ٹاملناڈو کے خطوط پر تحفظات کی پالیسی وضع کی جائے گی ۔ اس پس منظر میں حتمی طور پر یہ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کا یہ عزم اور وعدہ کب پورا ہوگا ۔ اسمبلی میں قرارداد کی منظوری اہم مسئلہ ہے ۔ مسلمانوں کے حقوق اور پسماندگی کے بارے میں تلنگانہ اسمبلی میں جو قرارداد منظور ہوگی اس کی افادیت میں اس وقت ہی اضافہ ہوگا جب تحفظات کو یقینی بنانے کی کوشش کی جائے گی ۔ چیف منسٹر کے سی آر بلاشبہ ایک فراخدل لیڈر ہیں ان کی حکمرانی کی خوبیوں کے بارے میں اب ان کے ناقدین نے بھی اپنی رائے تبدیل کرنی شروع کی ہے ۔ چیف منسٹر نے گورنر کے خطبہ پر تحریک تشکر کا جواب دیتے ہوئے اپنی 20 ماہی پرانی حکومت کی کارکردگی اور اسکیمات پر عمل آوری کا تذکرہ کیا ۔ بلاشبہ تلنگانہ حکومت میں ٹی آر ایس کا رول اہمیت رکھتا ہے ۔ سچ تو یہ ہے کہ تلنگانہ میں مسلمانوں کو سیاسی بازیابی سے محروم رکھا جانے کا حربہ پرانا ہے مسلمانوں کی ترقی کو تاحال یرغمال بنا کر رکھا گیا ہے اگر ایک طرف اس طبقہ کو ووٹوں  کے لئے فریب دیا جاتا رہا ہے تو دوسری طرف یہ طبقہ ابھی تک سیاستدانوں کی خفیہ چالوں سے بے خبر رہتا ہے ۔ تحفظات کے حوالے سے مضحکہ خیز امر یہ ہے کہ سابق کانگریس حکومت نے بھی تحفظات دینے کی پالیسی تیار کی لیکن یہ پالیسی قانونی چارہ جوئی میں پھنس کر رہ گئی ہے ۔ شاباش ہے کہ تلنگانہ کے قیام کے بعد چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے مسلمانوں کی پسماندگی کا جائزہ لینے کے لئے کمیشنوں کا قیام عمل میں لایا ۔ چیف منسٹر نے اب سدھیر کمیشن اور چلیا کمیشن کی رپورٹ وصول ہونے کے بعد تحفظات کیلئے اقدامات کرنے کا وعدہ کیا ہے ۔ یہ فکر انگیز مباحثہ ان دنوں زور پکڑ رہا ہے کہ آیا یہ حکومت مسلمانوں کو تحفظات دینے میں دلچسپی رکھتی ہے یا نہیں ۔ اضلاع میں تحفظات کے حصول کے لئے سرگرم مہم کے کامیاب نتائج نکل رہے ہیں ۔ اس کی ایک مثال چیف منسٹر کی جانب سے اسمبلی میں قرارداد کی منظوری کی جانب اشارہ ہے ۔ چیف منسٹر نے سیاستدانوں کی روایتی سوچ سے ہٹ کر مسلمانوں کے بارے میں نیک نیتی کا اظہار کیا ہے تو امید کی جارہی ہے کہ مسلمانوں کو تحفظات دینے کویقینی بنایا جائے گا ۔ درحقیقت تحفظات کے لئے ریاستی حکومت کو ٹھوس ہوم ورک کرنے کی ضرورت ہے ۔ تلنگانہ کے مسلمانوں کی اکثریت دست بہ دعا ہے کہ ان کے لئے چیف منسٹر کی کوششیں بہرحال کامیاب ہوجائیں ۔ لیکن ایک تاثر یہ بھی ہے کہ ریاستی قیادت کی پالیسیوں میں مقامی جماعت کی قیادت ہر کوچہ و دیوار کے سایے میں رکاوٹیں کھڑی کرسکتی ہے ۔ اب تک مسلمانوں کو پسماندگی کے ذریعہ زندہ درگور رکھنے کی سازش کے ذریعہ ہی اپنا سیاسی قد بلند کرلیا ہے ۔ یہ راز اب کوئی راز نہیں سب اہل تلنگانہ جان چکے ہیں ۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے ریاست میں آئندہ  3 سال کے دوران ایک لاکھ ملازمتیں فراہم کرنے کا وعدہ کیاہے ۔ یہ تو واضح ہے کہ سابق کانگریس حکومتوں میں مسلمانوں کے ساتھ صرف وعدہ ہی کئے گئے تھے ۔ اس بات کی نشاندہی چیف منسٹر کے سی آر نے اپنی تقریر میں بارہا کی ہے ۔ سال 2009 کے انتخابات میں کانگریس نے وعدے کئے تھے مسلمانوں کی معاشی ، تعلیمی اور سماجی طور پر ترقی دی جائے گی لیکن کانگریس کا انتخابی منشور صرف کاغذ تک ہی محدود تھا ۔ جبکہ ٹی آر ایس حکومت اپنے انتخابی منشور میں کئے گئے وعدہ کی تکمیل کے ساتھ دیگر وعدوں کو بھی پورا کرنے جارہی ہے ۔ غریب افراد کو ڈبل بیڈروم کے مکانات کی فراہمی ایک بہترین کوشش ثابت ہورہی ہے ۔ اس لئے ٹی آر ایس کی مقبولیت میں دن بہ دن اضافہ ہورہا ہے ۔ شادی مبارک اسکیم ، کلیان لکشمی اسکیم کا انتخابی منشور میں ذکر نہیں کیا گیا تھا مگر انتخابی جیت کے بعد حکومت نے ان اسکیمات کا اعلان کیا ۔ ٹی آر ایس حکومت کو درپیش چیلنجس اور امکانات کے باوجود چیف منسٹر نے اپنے طور پر بہترین حکمران دینے کی کوشش کیہے ۔ ان کے فکر و عمل کے چشمے پھوٹتے ہیں تو یقیناً مسلمانوں کو تحفظات دینے کا عزم بھی کامیاب ہوگا ۔ اچھے حکمرانوں کی پہچان یہ ہے کہ وہ اچھی حکمرانی کا اہتمام کرتے ہیں اور عوام کو انصاف اور زندگی کی بنیادی سہولتیں فراہم کرنے کے علاوہ انھیں بلند نصب العین اور اعلی انداز سے وابستہ رکھنے کی پالیسیاں بناتے ہیں ۔ مسلمانوں کو تحفظات کی فراہمی بھی چیف منسٹر کا نصب العین ہے ۔

TOPPOPULARRECENT