Monday , September 24 2018
Home / ہندوستان / چیف منسٹر بہار مانجھی پر نوجوان نے جوتا پھینک مارا

چیف منسٹر بہار مانجھی پر نوجوان نے جوتا پھینک مارا

23 سالہ پوسٹ گریجویٹ گرفتار ، حکومت پر سماج کو ذات پات کے خطوط پر منقسم کرنے کا الزام

23 سالہ پوسٹ گریجویٹ گرفتار ، حکومت پر سماج کو ذات پات کے خطوط پر منقسم کرنے کا الزام
نئی دہلی۔ 5 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) بہار کے چیف منسٹر جتن رام مانجھی پر ایک نوجوان نے آج اس وقت جوتا پھینک مارا جب وہ پٹنہ میں واقع اپنی رہائش گاہ پر ہفتہ وار پروگرام ’’جنتا کے دربار میں مکھیا منتری‘‘ میں عوام سے بات چیت کررہے تھے۔ اس نوجوان کی شناخت ضلع چھپرا سے تعلق رکھنے والے امریتوش کمار کی حیثیت سے کی گئی ہے جس کا پھیکا ہوا جوتا نشانہ چوکنے کے سبب چیف منسٹر تک نہیں پہنچ سکا، البتہ ان کے قریب گر پڑا۔تفصیلات کے مطابق یہ نوجوان ’جنتا کے دربار میں مکھیا منتری‘ پروگرام کے دوران قطار سے چھلانگ لگا دیا اور چیخ و پکار کرتے ہوئے کہنے لگا کہ ریاستی حکومت سماج کو ذات پات کے خطوط پر تقسیم کررہی ہے۔ سکیورٹی پر تعینات اہل کاروں نے کمار کو اس وقت پکڑ لیا جب اس نے اپنا جوتا چیف منسٹر کے قریب پھینکا اس کو ہال سے باہر لے جایا گیا۔ کمار نے دعویٰ کیا کہ وہ چیف منسٹر سے شکایت کرنے کیلئے پہنچا تھا کہ پولیس نے اس کو ایک جھوٹے مقدمے میں پھنسا دیا ہے۔ پٹنہ کے سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس جیتندر رانا نے جو مقام پر موجود تھے ، آکر کہا کہ نوجوان کو حراست میں لیا جاچکا ہے اور پوچھ گچھ کیلئے سچوالیا پولیس اسٹیشن کو منتقل کردیا گیا ہے۔ایس ایس پی نے کہا کہ واقعہ کی تفصیلی تحقیقات کے بعد نوجوان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ چیف منسٹر مانجھی نے بعدازاں اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ یہ نوجوان جو ایک پوسٹ گریجویٹ بتایا گیا ہے کہ ان سے ملاقات کے خواہش مند افراد کی قطار میں ٹھہرا ہوا تھااور چیف منسٹر سے اپنے مسئلہ پر نمائندگی کے لئے بات چیت کا موقع دیئے جانے سے قبل ہی برہم ہوگیا اور ناشائستہ حرکات کرنے لگا۔ مانجھی نے کہا کہ ’’اس واقعہ کی تحقیقات کی جارہی ہیں ‘‘۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT