Tuesday , December 12 2017
Home / شہر کی خبریں / چیف منسٹر تلنگانہ کی کارکردگی سیاسی دہشت گرد کی مانند

چیف منسٹر تلنگانہ کی کارکردگی سیاسی دہشت گرد کی مانند

تلگو دیشم و وائی ایس آر کو نقصان ، ملوبٹی وکرامارک کانگریس قائد کا بیان
حیدرآباد ۔ 12 ۔ فروری : ( سیاست نیوز) : ورکنگ پریسیڈنٹ تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی مسٹر ملو بٹی وکرامارک نے چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر پر سیاسی دہشت گرد کی طرح کام کرنے کا الزام عائد کیا ۔ جس سے مقامی جماعتیں تلگو دیشم اور وائی ایس آر کانگریس پارٹی کو نقصان پہونچنے کا دعوی کیا ۔ آج میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے مسٹر ملوبٹی وکرامارک نے تلگو دیشم کے 10 ارکان اسمبلی کی ٹی آر ایس میں شمولیت پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر 2004 کے بعد مزید ٹی آر ایس کے 5 ارکان اسمبلی کو کانگریس میں شامل کرلیا جاتا ہے تو آج ٹی آر ایس کا کوئی وجود نہیں رہتا تھا ۔ ہم نے جمہوری اصولوں اور اقدار کا احترام کیا ہے لیکن حکمران ٹی آر ایس اپنے سیاسی فائدے کے لیے دوسری جماعتوں کے منتخب عوامی نمائندوں کو ٹی آر ایس میں شامل کرتے ہوئے دستور کی دھجیاں اڑا رہی ہے ۔ قانون و دستور کا ٹی آر ایس کے پاس کوئی لحاظ نہیں ہے ۔ ٹی آر ایس حکومت من مانی کرتے ہوئے عوام کے ارمانوں کا خون کررہی ہے ۔ ٹی آر ایس حکومت عہدے ، پیسے کا لالچ دے رہی ہے ۔ ان کی بات نہ ماننے والوں کو بلیک میل کرنے کے ساتھ ساتھ دھمکیاں دی جارہی ہیں باوجود اس کے سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے کا کانگریس پارٹی پر کوئی اثر نہیں رہے گا اور نہ ہی کانگریس کے کوئی ارکان اسمبلی ٹی آر ایس میں شامل ہونے والے ہیں ہاں البتہ مقامی جماعتیں رہنے والی تلگو دیشم اور وائی ایس آر کانگریس پارٹی پر اس کا اثر رہے گا ۔ ریاست میں صرف دو جماعتیں ٹی آر ایس اور کانگریس ہی رہیں گے 2019 کے عام انتخابات میں کانگریس پارٹی شاندار مظاہرہ کرتے ہوئے تلنگانہ میں بھاری اکثریت سے اقتدار حاصل کرے گی ۔ ملو بٹی وکرامارک نے کہا کہ ٹی آر ایس کی 20 ماہ کی کارکردگی مایوس کن ہے ۔ کوئی ترقیاتی و تعمیری اقدامات نہیں ہوئے اور نہ ہی فلاحی اسکیمات پر عمل آوری ہورہی ہے ۔ ٹی آر ایس اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے اور اس سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے کے مسئلہ کو موضوع بناتے ہوئے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کررہی ہے ۔ نارائن کھیڑ اسمبلی حلقہ کے ضمنی انتخابات کے بعد تلنگانہ کانگریس قائدین کا اجلاس طلب کرتے ہوئے جی ایچ ایم سی کے انتخابی نتائج کا جائزہ لیتے ہوئے مستقبل کی حکمت عملی تیار کی جائے گی ۔۔

TOPPOPULARRECENT