Saturday , November 18 2017
Home / شہر کی خبریں / چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر ’ سیاسی مفاد پرست و سوداگر ‘

چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر ’ سیاسی مفاد پرست و سوداگر ‘

کرنسی کی منسوخی سے عوام پریشان حال ، ارکان اسمبلی کو بچانے وزیراعظم سے ملاقات کا الزام : محمد علی شبیر
حیدرآباد ۔ 21 ۔ نومبر : ( سیاست نیوز ) : قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز کونسل محمد علی شبیر نے چیف منسٹر کے سی آر کو ’ سیاسی مفاد پرست اور سوداگر ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ کرنسی کی منسوخی سے عوام مشکلات سے دوچار ہیں ۔ اس کو نظر انداز کرتے ہوئے سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے والے ارکان اسمبلی کو بچانے اور ریاست میں اسمبلی کی نشستوں میں اضافہ کرنے کے لیے وزیراعظم نریندر مودی سے معاہدہ کرلینے کا الزام عائد کیا ۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ 500 اور 1000 روپئے کے نوٹوں کے منسوخی کی بی جے پی کے قائدین بشمول این ڈی اے کی حلیف شیو سینا ، چیف منسٹر آندھرا پردیش چندر بابو نائیڈو کے علاوہ کیرالا کے چیف منسٹر اور غیر بی جے پی چیف منسٹرس پر شدید مخالفت کرتے ہوئے وزیراعظم سے اپنا فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کررہے ہیں ۔ جب کہ چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں اور عوامی مشکلات کو نظر انداز کررہے ہیں ۔ کے سی آر کے اس موقف سے ان کے سیکولرازم ہونے پر بھی شکوک پیدا ہورہے ہیں ۔ دن بہ دن ٹی آر ایس اور بی جے پی آپسی رشتے مستحکم ہورہے ہیں ۔ کرنسی منسوخی کے معاملے میں چیف منسٹر تلنگانہ نے عوامی مفادات کو یکسر نظر انداز کردیا ۔ وزیراعظم سے اپنی ملاقات میں کے سی آر تلنگانہ میں اسمبلی نشستوں کے اضافہ پر خاص توجہ دی ہے ۔ غریب عوام ، مزدور ، ٹھیلہ بنڈی پر کاروبار کرنے والے عوام جو گذشتہ 15 دن سے پریشان حال ہیں ۔ بنکوں اور اے ٹی ایم مراکز پر گھنٹوں قطاروں میں وقت برباد کررہے ہیں جس کی کے سی آر کو کوئی فکر نہیں ہے ۔ وہ کانگریس اور تلگو دیشم کے علاوہ دوسری جماعتوں سے ٹی آر ایس میں شامل ہونے والے ارکان اسمبلی کو سیاسی پناہ دینے کے لیے اسمبلی نشستوں میں اضافہ کرنے کی بار بار وزیراعظم سے نمائندگی کررہے ہیں ۔ چیف منسٹر نے تقسیم ریاست بل میں تلنگانہ سے کیے گئے وعدوں کو پورا کرنے کی کبھی وزیراعظم سے نمائندگی نہیں کی تاہم اسمبلی کی نشستوں میں اضافہ کرنے کے لیے کمیشن تشکیل دینے کی اپیل کی ہے ۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ نوٹوں کی منسوخی کے دو ہفتوں کے باوجود چیف منسٹر تلنگانہ نے عوامی مسائل پر کوئی بات چیت نہیں کی ۔ چیف منسٹر مغربی بنگال ممتا بنرجی اور چیف منسٹر دہلی اروند کجریوال نے کھل کر وزیراعظم کے فیصلے کی مخالفت کی اور عوام کے مسائل کو کھل کر پیش کیا ہے ۔ علحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے ڈھائی سال مکمل ہونے کے باوجود تقسیم ریاست بل میں تلنگانہ کے لیے جو وعدے کئے گئے تھے ان میں ایک وعدے کو بھی پورا نہیں کیا گیا اور نہ ہی چیف منسٹر مرکز پر کوئی دباؤ ڈال رہے ہیں ۔۔

TOPPOPULARRECENT