Saturday , December 15 2018

چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر پر عثمانیہ یونیورسٹی طلبہ کی سخت ناراضگی

کے سی آر غدار کے پوسٹرس پر ٹماٹروں سے حملہ ، روزگار فراہمی میں حکومت کی ناکامی پر طلبہ کا شدید ردعمل
حیدرآباد ۔13۔ ڈسمبر (سیاست نیوز) تلنگانہ تشکیل کے بعد وعدوںکی تکمیل میں ناکامی سے ناراض عثمانیہ یونیورسٹی کے طلبہ نے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ سے اپنی سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے ۔ تلنگانہ تحریک میں حصہ لینے والی طلبہ تنظیم کے نمائندوں نے آرٹس کالج کے قریب کے سی آر کا بڑا پوسٹر آویزاں کرتے ہوئے اس پر تلنگانہ کا غدار تحریر کیا۔ اس کے علاوہ برہم طلبہ نے اس پوسٹر پر ٹماٹر پھینکتے ہوئے اپنی ناراضگی جتائی ۔ عثمانیہ یونیورسٹی جہاں تلنگانہ تحریک کے دوران اور پھر تلنگانہ ریاست کے قیام کے بعد ٹی آر ایس حامی طلبہ کی جانب سے کئی مرتبہ کے سی آر کی تصویر کو دودھ سے نہلایا گیا ، آج اسی یونیورسٹی میں طلبہ ناراضگی کا اظہار کر رہے ہیں۔ بیروزگار نوجوانوں کیلئے سرکاری ملازمتوں میں مواقع فراہم کرنے میں حکومت کی ناکامی سے یہ طلبہ ناراض ہیں اور انہوں نے جوائنٹ ایکشن کمیٹی تشکیل دیتے ہوئے اس سلسلہ میں جدوجہد شروع کی ہے۔ گزشتہ دنوں یونیورسٹی میں ایک دلت طالب علم کی خودکشی کے بعد ہنگامہ آرائی ہوئی تھی ، پولیس اور طلبہ میں جھڑپیں بھی ہوئیں۔ عثمانیہ یونیورسٹی حکام نے ہاسٹلس بند کرنے کے احکامات جاری کردیئے ۔ طلبہ اس فیصلہ سے بھی ناراض ہیں۔ یونیورسٹی کے طلبہ پروفیسر کودنڈا رام کی زیر قیادت تلنگانہ جے اے سی کے احتجاجی پروگراموں میں حصہ لے رہے ہیں ۔ تلنگانہ ریاست کے قیام اور ٹی آر ایس حکومت کی تشکیل کے بعد سے یونیورسٹی میں مخالف حکومت ماحول دیکھا جارہا ہے ۔ عوام سے کئے گئے وعدوں کی تکمیل میں ناکامی کا الزام عائد کرتے ہوئے ایک طویل فہرست آویزاں کی گئی۔ طلبہ نے کہا کہ علحدہ ریاست کے حصول کی جدوجہد میں عثمانیہ یونیورسٹی کا اہم رول رہا ۔ یونیورسٹی کے طلبہ نے کئی قربانیاں دیں لیکن ریاست کے قیام کے بعد طلبہ سے کئے گئے وعدے فراموش کردیئے گئے ۔ طلبہ کے احتجاجی پروگرام کو سوشیل میڈیا پر عام کردیا گیا ہے۔ کے سی آر کے خلاف احتجاج کے دوران پولیس یا پھر ٹی آر ایس کے حامی تنظیموں نے کوئی مداخلت نہیں کی۔

TOPPOPULARRECENT